جنگ شروع کرنا آسان، ختم کرنا مشکل — تاریخ کی روشنی میں ایک جائزہ

Dnnetwork

 

جنگ کی تاریخ، پہلی جنگ عظیم، دوسری جنگ عظیم

پہلی جنگ عظیم کے دوران یورپ کے محاذ پر خندقوں میں لڑتے ہوئے فوجی

Source: Historical Archives / Public Domain



انسانی تاریخ اس حقیقت سے بھری پڑی ہے کہ جنگیں اکثر جذبات، طاقت کے مظاہرے یا سیاسی مفادات کی بنیاد پر شروع ہو جاتی ہیں، لیکن جب ایک بار جنگ کا پہیہ گھومنا شروع ہو جائے تو اسے روکنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشہور برطانوی سیاست دان Winston Churchill نے کہا تھا کہ جنگ کا آغاز کرنا آسان ہے مگر اسے ختم کرنا اکثر انسان کے اختیار سے باہر ہو جاتا ہے۔ تاریخ میں بے شمار مثالیں موجود ہیں جو اس بات کو ثابت کرتی ہیں۔

پہلی جنگ عظیم: ایک چھوٹا واقعہ، ایک بڑی جنگ

1914 میں شروع ہونے والی World War I اس بات کی واضح مثال ہے کہ جنگ کس طرح ایک معمولی واقعے سے شروع ہو کر دنیا کو تباہی میں دھکیل دیتی ہے۔
اس جنگ کی ابتدا دراصل آسٹریا کے شہزادے Archduke Franz Ferdinand کے قتل سے ہوئی۔ یہ واقعہ Assassination of Archduke Franz Ferdinand کے نام سے جانا جاتا ہے۔

ایک شخص کے قتل کے بعد چند ہفتوں کے اندر یورپ کی بڑی طاقتیں جنگ میں کود پڑیں۔ اتحادوں کے نظام نے جنگ کو مزید وسیع کر دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے جرمنی، برطانیہ، فرانس اور روس جیسے ممالک اس میں شامل ہو گئے۔

اس جنگ کو ختم ہونے میں چار سال لگے اور 1918 میں جا کر Treaty of Versailles کے ذریعے اس کا خاتمہ ہوا۔ اس جنگ میں اندازاً ایک کروڑ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔ یہ مثال واضح کرتی ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد اس کا دائرہ کتنا وسیع ہو

دوسری جنگ عظیم: دنیا کی سب سے بڑی تباہی

 

تاریخ کی سب سے بڑی جنگ World War II تھی۔ اس جنگ کا آغاز اس وقت ہوا جب جرمنی کے رہنما Adolf Hitler نے 1939 میں پولینڈ پر حملہ کیا۔

یہ حملہ ایک علاقائی تنازعہ لگتا تھا، مگر چند ہی دنوں میں برطانیہ اور فرانس بھی جنگ میں شامل ہو گئے۔ جنگ چھ سال تک جاری رہی اور اس دوران دنیا کے کئی حصے میدان جنگ بن گئے۔

اس جنگ کے خاتمے کے لئے لاکھوں فوجیوں کی قربانیاں دینی پڑیں۔ 1945 میں جا کر جرمنی کی شکست اور جاپان پر امریکہ کے ایٹمی حملوں کے بعد جنگ ختم ہوئی۔ اندازوں کے مطابق اس جنگ میں تقریباً سات کروڑ افراد ہلاک ہوئے، جو انسانی تاریخ کی سب سے بڑی تباہی تھی۔

ویتنام جنگ: ایک لمبی اور پیچیدہ لڑائی

جنگ کا ختم ہونا کیوں مشکل ہوتا ہے، اس کی ایک اور مثال Vietnam War ہے۔

یہ جنگ ابتدا میں ایک سیاسی تنازعہ تھی، لیکن بعد میں عالمی طاقتیں بھی اس میں شامل ہو گئیں۔ امریکہ نے کمیونزم کو روکنے کے لئے ویتنام میں فوج بھیجی۔ مگر جنگ لمبی ہوتی گئی اور اسے ختم کرنا مشکل ہوتا چلا گیا۔

تقریباً بیس سال تک جاری رہنے والی اس جنگ نے نہ صرف ویتنام بلکہ امریکہ کی سیاست اور معاشرے پر بھی گہرا اثر ڈالا۔ بالآخر 1975 میں امریکہ کو اپنی فوج واپس بلانی پڑی۔

جنگ کیوں ختم نہیں ہو پاتی؟

تاریخ دانوں کے مطابق جنگ کے ختم ہونے میں کئی رکاوٹیں ہوتی ہیں:

1۔ قومی انا اور طاقت کا مسئلہ

جب ممالک جنگ شروع کرتے ہیں تو وہ اپنی عزت اور طاقت کے مسئلے کو بھی ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔ اس وجہ سے پیچھے ہٹنا مشکل ہو جاتا ہے۔

2۔ سیاسی مفادات
اکثر جنگیں سیاسی اور معاشی مفادات کے لئے لڑی جاتی ہیں، اس لئے انہیں ختم کرنا حکمرانوں کے لئے آسان نہیں ہوتا۔

3۔ اتحاد اور عالمی سیاست

ایک ملک کے جنگ میں شامل ہونے سے اس کے اتحادی بھی جنگ میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اس طرح ایک چھوٹا تنازعہ عالمی جنگ بن سکتا ہے۔

4۔ عوامی جذبات

جنگ کے دوران عوامی جذبات بھڑک جاتے ہیں اور حکمرانوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے کہ وہ جنگ جاری رکھیں۔

تاریخ سے حاصل ہونے والا سبق

تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جنگ کا آغاز اکثر جلد بازی میں کیا جاتا ہے، مگر اس کے نتائج نسلوں تک اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی لئے اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے قائم کئے گئے تاکہ ممالک کے درمیان تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکے۔

آج کے دور میں بھی دنیا کے مختلف حصوں میں تنازعات موجود ہیں، مگر تاریخ کا سبق یہی ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتی۔ جنگ ہمیشہ تباہی، معاشی نقصان اور انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بنتی ہے۔

نتیجہ

انسانی تاریخ کی بڑی جنگوں کا مطالعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ جنگ شروع کرنا شاید آسان ہو، مگر اسے ختم کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ پہلی جنگ عظیم، دوسری جنگ عظیم اور ویتنام جنگ جیسے واقعات ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ جنگ کے فیصلے ہمیشہ سوچ سمجھ کر کرنے چاہئیں۔

اگر دنیا امن اور ترقی چاہتی ہے تو اسے جنگ کے بجائے مذاکرات اور تعاون کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ کیونکہ جنگ کا اختتام صرف میدان جنگ میں نہیں ہوتا بلکہ اس کے اثرات کئی دہائیوں تک انسانی معاشرے پر باقی رہتے ہیں۔