سعودی عرب اور قطر کو حملوں کا سامنا، آبنائے ہرمز میں کشیدگی

Dnnetwork

 

سعودی عرب اور قطر کو حملوں کا سامنا، آبنائے ہرمز میں کشیدگی

پاکستان میں تیل و گیس کی فراہمی اور قیمتوں پر ممکنہ اثرات



IRAN WAR






مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران سے متعلق بڑھتے ہوئے تنازع کے باعث عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صورتحال کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ اسٹاک مارکیٹوں میں مندی کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔

بدھ کے روز برینٹ خام تیل کی قیمت میں مزید 1.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی یا شدت اختیار کر گئی تو آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔


آبنائے ہرمز کی اہمیت اور عالمی اثرات

آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کی ایک اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا بھر میں ترسیل ہونے والے خام تیل کا تقریباً 20 فیصد گزرتا ہے۔ موجودہ کشیدہ صورتحال کے باعث اس آبی راستے کے قریب آئل ٹینکرز کی نقل و حرکت متاثر ہوئی ہے اور تجارتی سرگرمیاں محدود ہو گئی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ راستہ طویل عرصے تک متاثر رہا تو عالمی توانائی منڈی میں شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے۔


سعودی عرب اور قطر کی صورتحال

سعودی عرب کی سرکاری آئل کمپنی آرامکو کو حالیہ حملوں کے بعد اپنی ایک بڑی ریفائنری عارضی طور پر بند کرنا پڑی۔ رپورٹس کے مطابق ڈرون حملوں کے نتیجے میں چند تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔

دوسری جانب قطر، جو دنیا کے بڑے گیس برآمد کنندگان میں شمار ہوتا ہے، اس وقت سکیورٹی صورتحال سے نمٹ رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق خطے میں میزائل حملوں کے خطرات کے باعث گیس ٹینکرز کی آمد و رفت بھی متاثر ہوئی ہے۔


پاکستان پر ممکنہ اثرات

پاکستان اپنی تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ سعودی عرب سے جبکہ مائع قدرتی گیس (LNG) قطر سے درآمد کرتا ہے۔ اگر خطے میں کشیدگی طویل ہو گئی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے ترسیل متاثر رہی تو پاکستان میں:

تیل اور گیس کی فراہمی میں خلل آ سکتا ہے
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے
مہنگائی میں مزید اضافہ متوقع ہے
بجلی کی پیداوار بھی متاثر ہو سکتی ہے

ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ حکومت کو متبادل سپلائی ذرائع اور اسٹریٹجک ذخائر بڑھانے پر فوری غور کرنا ہوگا تاکہ ممکنہ بحران سے بچا جا سکے۔


عالمی منڈی کا ردعمل

عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اختیار کیا ہے جبکہ توانائی سیکٹر میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق خطے کی صورتحال عالمی معیشت پر بھی اثرانداز ہو سکتی ہے۔