پاکستان میں غربت، بے بسی اور بند راستے
لاہور ایئرپورٹ کی رات عجیب تھی۔
ہر چہرے پر تھکن، غصہ اور بے بسی صاف
نظر آ رہی تھی۔
حمزہ اپنے بیگ پر ہاتھ رکھے خاموش
بیٹھا تھا۔
اس کے ساتھ اس کا دوست علی بھی تھا،
جو بار بار گھڑی دیکھ رہا تھا۔
“یار حمزہ… اگر آج فلائٹ مس ہو گئی نا… سب ختم ہو جائے گا،” علی
نے پریشانی سے کہا۔
حمزہ نے ہلکی سی مسکراہٹ دی،
“ہم نے لاکھوں روپے لگائے ہیں… ویزہ،
فیس، ٹکٹ… کچھ نہیں ہوگا، انشاءاللہ۔”
لیکن دل کے اندر دونوں کو معلوم تھا…
کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
✈️ پہلا مرحلہ: تاخیر اور بے یقینی
لوگ سٹاف سے جھگڑ رہے تھے۔
ایک آدمی زور سے بولا:
“ہم ٹیکس دیتے ہیں! یہ کوئی سسٹم ہے؟”
پاس کھڑی ایک لڑکی، عائشہ، آہستہ سے
بولی:
“ہم تو بس نکلنا چاہتے ہیں یہاں سے…”
حمزہ نے پہلی بار اسے دیکھا۔
وہ بھی
UK پڑھنے جا رہی تھی۔
🧳 لائن: اصل امتحان
سب طلبہ ایک لائن
میں جمع ہو گئے، جہاں ہر کسی کا انٹرویو ہونا تھا۔
لائن میں تناؤ اور گھبراہٹ چھائی ہوئی تھی۔
حمزہ اور علی خاموش بیٹھے
اپنے نمبر کے انتظار میں تھے۔
ہر ایک طالب علم کا انٹرویو ہو رہا تھا، اور باہر آنے والے کے چہرے پر مایوسی صاف
نظر آ رہی تھی۔
علی نے سر جھکاتے ہوئے
کہا:
“یہ کیسے ممکن ہے… ہر کسی کو reject کیا جا رہا ہے؟”
حمزہ نے جواب دیا، “ہمیں
بھی ہو سکتا ہے… بس دعا کرتے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے۔”
ہر بار ایک طالب علم
انٹرویو کے بعد باہر آتا، آنکھوں میں خوف اور دل میں شکست کے احساس کے ساتھ۔
کچھ کے پاس مکمل کاغذات تھے، لیکن پھر بھی واپس بھیج دیے گئے۔
یہ منظر، جیسے ایک چھوٹے سے کمرے میں ہزاروں خواب توڑ دیے جا رہے ہوں۔
حمزہ کے دل کی دھڑکن تیز
تھی۔
“میرا کیابنے گا…؟” وہ خود سے پوچھ رہا تھا۔
اور اندر ایک ہی خوف تھا: کیا وہ بھی rejection کے ساتھ باہر بھیج دیا جائے گا؟
🚨 چیکنگ کا عذاب
FIA نے سب کو روک لیا۔
“کاغذات دکھاو"
افسر نے سخت لہجے میں کہا۔
حمزہ نے کہا:
“سرمیرے کاغذات مکمل ہیں…”
“ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا،” جواب آیا۔
انہوں نے سختی سے جواب دیا۔
پھر غصے سے ہمیں دیکھا جیسے کہہ رہے ہوں ۔تم خود اس جہنم سے جا رہے ہو ،ہمیں ادھر چھوڑ کے ۔
عائشہ نے آہستہ سے کہا:
“ہم پڑھنے جا رہے ہیں… ایسے کیوں treat کر رہے ہیں جیسے
criminals ہوں؟”
🛂 امیگریشن: امید کا ٹوٹنا
لمبی لائن…
پسینے، گھبراہٹ اور خاموش دعائیں۔
ایک لڑکا، بلال، بار بار اپنے
ڈاکومنٹس دیکھ رہا تھا۔
“بھائی، سب ٹھیک ہے نا؟” حمزہ نے پوچھا۔
بلال نے کہا:
“میرے ابو نے زمین بیچی ہے… بس یہ
فلائٹ نکل جائے…”
⚠️ وہ لائن …
حمزہ کی باری آئی۔
“Case letter دکھاؤ،” افسر نے کہا۔
“سر… میرے پاس نہیں ہے…”
“سائیڈ پر جاؤ!”
وہ ایک کمرے میں لے جایا گیا۔
وہاں 20 سے زیادہ اسٹوڈنٹس بیٹھے تھے۔
ہر ایک کی آنکھوں میں ایک ہی سوال تھا:
“کیا ہم جا سکیں گے؟”
💔 وہ لمحہ…
ایک لڑکا، حسن، جس نے فزکس میں
ایڈمیشن لیا تھا، سامنے کھڑا تھا۔
افسر نے پوچھا:
“Newton کا تیسرا قانون بتاؤ!”
حسن گھبرا گیا۔
پسینہ بہنے لگا۔
“سر… وہ… میں…”
“تمہیں کچھ نہیں آتا! تم ڈی پورٹ ہو!”
یہ سن کر کمرے میں سناٹا چھا گیا۔
حسن زمین پر بیٹھ گیا،
“سر پلیز… میرے ابو نے قرض لیا ہے…”
لیکن کسی کو رحم نہیں آیا۔
😔 حقیقت کا ادراک
عائشہ نے دھیمی آواز میں کہا:
“ہم یہاں رہ نہیں سکتے… اور باہر جا
بھی نہیں سکتے…”
بلال کی آنکھوں میں آنسو تھے:
“ہم غریب لوگ ہیں… ہمارے لیے کوئی
راستہ نہیں ہے…”
🛫 آخری موقع
حمزہ باہر نکلا۔
ہر افسر کے پاس گیا۔
“سر پلیز… میری فلائٹ ہے…”
ایک نے کہا:
“آگے جاؤ”
دوسرے نے کہا:
“یہ میرا کام نہیں”
آخر ایک بزرگ افسر نے پاسپورٹ دیکھا،
سارے کاغذات دیکھے…
اور خاموشی سے اسٹیمپ لگا دیا۔
📞 آخری کال
حمزہ فلائٹ میں بیٹھ گیا۔
امی کی کال آئی۔
“بیٹا… سب ٹھیک ہے؟”
حمزہ نے آنکھیں بند کر کے کہا:
“امی… میں بس اس عذاب سے نکل آیا ہوں…”
🌍 کچھ مہینے بعد…
(UK)
حمزہ، علی اور عائشہ ایک کیفے میں
بیٹھے تھے۔
عائشہ نے کہا:
“یہاں سسٹم ہے… عزت ہے…”
علی نے تلخ ہنسی کے ساتھ کہا:
“اور وہاں؟ صرف دھکے…”
حمزہ خاموش تھا… پھر بولا:
“اصل مسئلہ غربت نہیں…
اصل مسئلہ یہ ہے کہ غریب کے لیے کوئی راستہ
نہیں چھوڑا جاتا…”
💬 آہ پاکستان
“پاکستان میں…
نہ سکون سے رہ سکتے ہیں…
اور جب لاکھوں لگا کر باہر جانا چاہیں…
تو جانے بھی نہیں دیا جاتا…”
یہ کہانی صرف ایک نہیں…
ہزاروں حمزہ، علی، عائشہ اور حسن کی
حقیقت ہے۔






