برطانیہ میں امیگریشن ریفارم – ہوم سیکرٹری شبانہ محمود کی اہم تقریر
برطانیہ کی ہوم سیکرٹری Shabana Mahmood نے آج امیگریشن نظام میں بڑی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم
تقریر کی۔ یہ خطاب انہوں نے لندن میں منعقد ہونے والی تقریب میں کیا جس کی میزبانی
معروف تھنک ٹینک Institute
for Public Policy Research
(IPPR) نے کی۔
اپنی تقریر میں انہوں نے کہا کہ
امیگریشن صرف ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ یہ اس بات سے بھی جڑا ہوا ہے کہ ہم
بطور قوم کون ہیں اور کن اقدار کے لیے کھڑے ہیں۔

امیگریشن کے
بارے میں برطانیہ کا مؤقف
ہوم سیکرٹری کے مطابق برطانیہ کو ایک
ایسا امیگریشن نظام چاہیے جو:
- منصفانہ
ہو
- ملک کے
قوانین کا احترام کروائے
- معاشرے
میں حصہ ڈالنے والوں کو موقع دے
انہوں نے کہا کہ برطانیہ ہمیشہ ایک
کھلا اور عالمی سوچ رکھنے والا ملک رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے
کہ امیگریشن نظام کنٹرول اور نظم و ضبط کے ساتھ چلایا جائے۔
برطانیہ میں
امیگریشن کے اعداد و شمار
تقریر میں بتایا گیا کہ 2021 سے 2024 تک تقریباً 25 لاکھ افراد نیٹ امیگریشن کے ذریعے
برطانیہ آئے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ آج برطانیہ میں
ہر 30 افراد میں سے ایک شخص انہی چار سالوں میں آیا ہے۔
حکومت کے مطابق:
- کم
مہارت والے کارکنوں کی بڑی تعداد ملک میں آئی
- کچھ
جعلی کیئر کمپنیوں نے لوگوں کو جھوٹے وعدوں کے ساتھ برطانیہ بلایا
- اس
صورتحال سے ٹیکس دہندگان پر تقریباً 10 ارب
پاؤنڈ کا بوجھ پڑ سکتا ہے
مستقل رہائش (Settlement) کے نئے قوانین
حکومت نے امیگریشن نظام میں کئی اہم
تبدیلیوں کی تجویز دی ہے:
- مستقل
رہائش کے لیے مدت 5 سال
سے بڑھا کر 10 سال
کرنے کی تجویز
- درخواست
دینے والوں کا کریمنل ریکارڈ صاف ہونا ضروری ہوگا
- درخواست
گزار کو ٹیکس ادا کرنا اور کام کرنا ہوگا
- انگریزی
زبان کا معیار مزید بہتر کرنا ہوگا
اسی ہفتے ایک نئی شرط بھی نافذ کی گئی
ہے جس کے مطابق مستقل رہائش کے لیے انگریزی زبان
A-Level معیار تک آنی چاہیے۔
پناہ گزینوں
کے نظام میں تبدیلیاں
حکومت نے پناہ گزینوں کے قوانین میں
بھی اصلاحات کا اعلان کیا ہے۔
نئے منصوبے کے مطابق:
- پناہ
گزینوں کو ابتدائی طور پر 2.5 سال
کا تحفظ دیا
جائے گا
- بعد
میں ان کے کیس کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا
- اگر ان
کے ملک میں حالات بہتر ہو جائیں تو انہیں واپس جانا ہوگا
اس کے ساتھ ساتھ حکومت 2027 میں ریفیوجی اسٹوڈنٹ ویزا پروگرام بھی شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ قانونی راستے فراہم کیے
جا سکیں۔
غیر قانونی
امیگریشن کے خلاف اقدامات
حکومت کے مطابق:
- 40,000
سے زیادہ غیر قانونی سرحدی عبور
کی کوششیں روکی جا چکی ہیں
- 60,000
افراد کو پہلے ہی ملک بدر کیا جا
چکا ہے
جو افراد پناہ کی درخواست میں ناکام
ہوں گے انہیں:
- 10,000 پاؤنڈ فی شخص
- یا 40,000 پاؤنڈ فی خاندان
رضاکارانہ واپسی کے لیے دیے جا سکتے
ہیں۔
حکومت کا
مقصد
اپنی تقریر کے اختتام پر Shabana Mahmood نے کہا کہ حکومت ایک ایسا امیگریشن نظام بنانا چاہتی ہے جو:
- منصفانہ
ہو
- مضبوط
ہو
- ہمدردی
کے ساتھ کنٹرول میں ہو
انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں آنے والے
وہ لوگ جو محنت کرتے ہیں، قوانین کی پابندی کرتے ہیں اور معاشرے میں حصہ ڈالتے
ہیں، وہ اس ملک کو اپنا گھر بنا سکتے ہیں۔