ایران جنگ: امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا چھٹا دن — صورتحال مزید سنگین
تاریخ اشاعت: 5 مارچ 2026
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری حملوں کا چھٹا دن شروع ہو چکا ہے اور خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ خلیج، لبنان اور عراق سمیت مشرقِ وسطیٰ کے کئی علاقوں میں حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں جبکہ ایران کے اندر بھی صورتحال انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
ایران کے اندر صورتحال
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق گزشتہ پانچ دنوں میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 1,045 افراد ہلاک جبکہ 6,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ حملوں کی شدت کے باعث شہری آبادی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ملک بھر میں 33 شہری مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔ ان مقامات میں اسپتال، اسکول، رہائشی علاقے، تہران کا تاریخی گرینڈ بازار اور گلستان پیلس کمپلیکس شامل ہیں۔
ایران کی قیادت کے حوالے سے قیاس آرائیاں
ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کے اگلے سپریم لیڈر کے طور پر ایک مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔ گزشتہ برسوں میں انہوں نے ایرانی اسٹیبلشمنٹ اور طاقتور اسلامک ریولیوشنری گارڈ کور (IRGC) کے ساتھ قریبی روابط قائم کیے ہیں۔
امریکی آبدوز کا حملہ
بدھ کے روز ایک امریکی آبدوز نے سری لنکا کے جنوبی ساحل کے قریب بحرِ ہند میں ایرانی جنگی جہاز "آئرس ڈینا" کو ٹارپیڈو حملے سے تباہ کر دیا۔ سری لنکا کی بحریہ کے مطابق اس واقعے میں 87 لاشیں برآمد کی گئیں جبکہ 32 افراد کو بچا لیا گیا۔
کرد گروپوں کی زمینی کارروائیاں
اطلاعات کے مطابق ایرانی کرد مسلح گروہوں نے شمال مغربی ایران میں ایرانی حکومت کے خلاف زمینی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ اسی دوران امریکہ نے عراق کے کرد حکام سے بھی ممکنہ فوجی تعاون کی درخواست کی ہے۔ شمالی عراق میں موجود کرد فورسز کو مبینہ طور پر اسٹینڈ بائی پر رکھا گیا ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا ہے۔ یہ دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس اعلان کے بعد بحری جہازوں کی آمد و رفت تقریباً رک گئی ہے۔
اسپین کا جنگ میں شامل ہونے سے انکار
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اسپین کی تعریف کی ہے کیونکہ اسپین نے امریکہ کو اپنی فوجی اڈے جنگ کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر اسپین نے تعاون نہ کیا تو امریکہ اس کے ساتھ تجارت ختم کر سکتا ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ تنازعہ مزید پھیلتا ہے تو پورا مشرقِ وسطیٰ ایک بڑے علاقائی بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ خلیج، عراق اور لبنان میں موجود مختلف گروہ اس جنگ میں شامل ہو سکتے ہیں جس سے عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ آنے والے دن اس جنگ کے رخ اور اس کے عالمی اثرات کے حوالے سے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

