ایران کا شکریہ اور پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی

Dnnetwork


ایران کی جانب سے پاکستان کا شکریہ ادا کرنے اور پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی پر مبنی ایک مضمون۔
ایران کی جانب سے پاکستان کا شکریہ، مضبوط سفارتی تعلقات اور متوازن پالیسی کا عکاس ہے۔ 🇵🇰🤝🇮🇷

حالیہ دنوں میں ایران کی جانب سے پاکستان کے لیے اظہارِ تشکر ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے، جو نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کی نوعیت کو واضح کرتا ہے بلکہ پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے سوشل میڈیا پر اردو میں پاکستان کا شکریہ ادا کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی حمایت کو ایران نے نہ صرف سراہا بلکہ اسے اہم بھی سمجھا۔


ایران کی جانب سے پاکستان کے لیے اظہارِ تشکر اور عباس عراقچی کی جانب سے سوشل میڈیا پر پاکستان کا شکریہ۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر پاکستان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا

ایران کی طرف سے یہ شکریہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر تھی اور عالمی سطح پر صف بندی واضح دکھائی دے رہی تھی۔ خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل کے حوالے سے ایران کے مؤقف کے تناظر میں پاکستان کی پوزیشن نہایت حساس تھی۔ ایسے حالات میں پاکستان نے جس حکمت اور توازن کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔

ماضی میں بھی جب ایران کو مشکلات کا سامنا ہوا، پاکستان کے عوام کی جانب سے یکجہتی کے نعرے سننے کو ملے۔ یہ جذباتی وابستگی محض وقتی ردعمل نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، مذہبی اور جغرافیائی تعلقات کی بنیاد پر قائم ہے۔ تاہم ریاستی سطح پر فیصلے ہمیشہ جذبات کے بجائے مفادات اور حکمت عملی کو مدنظر رکھ کر کیے جاتے ہیں۔

جب پاکستان کے وزیر اعظم سعودی عرب کے دورے پر گئے تو کچھ حلقوں میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید پاکستان نے مکمل طور پر سعودی عرب کا ساتھ اختیار کر لیا ہے اور ایران سے دوری اختیار کر لی ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس نکلی۔ پاکستان نے نہ صرف ایران کو اعتماد میں لیا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیوں کو بھی دور کیا گیا۔ ایران کی جانب سے ان قیاس آرائیوں کی تردید اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطہ مضبوط اور فعال ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ کی جانب سے دیے گئے بیان میں جس انداز سے پاکستان کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا گیا، وہ نہایت معنی خیز ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان نے امریکہ اور صہیونی رجیم کی جارحیت کے مقابلے میں ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ یہ بیان نہ صرف پاکستان کے مؤقف کی توثیق کرتا ہے بلکہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ کو بھی مضبوط بناتا ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے توازن پر مبنی رہی ہے۔ ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری طرف ایران کے ساتھ بھی برادرانہ روابط قائم ہیں۔ ایسے میں کسی ایک فریق کا ساتھ دینا نہ صرف سفارتی نقصان کا باعث بن سکتا تھا بلکہ خطے میں عدم استحکام کو بھی بڑھا سکتا تھا۔ پاکستان نے اس نازک صورتحال میں جو کردار ادا کیا، وہ ایک ذمہ دار ریاست کی نشاندہی کرتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ایران کا شکریہ ادا کرنا محض ایک رسمی بیان نہیں بلکہ پاکستان کی پالیسیوں کی کامیابی کا اعتراف ہے۔ اگر پاکستان اسی طرح توازن، حکمت اور بصیرت کے ساتھ اپنی خارجہ پالیسی کو آگے بڑھاتا رہا تو نہ صرف خطے میں امن و استحکام کو فروغ ملے گا بلکہ عالمی سطح پر اس کا مقام بھی مزید مستحکم ہوگا۔