ایران بمقابلہ اسرائیل: مشرقِ وسطیٰ میں حقیقی طاقت کس کے پاس ہے

Dnnetwork

 


ایران بمقابلہ اسرائیل: مشرقِ وسطیٰ میں حقیقی طاقت کس کے پاس ہے؟ ایک غیر جانبدار تجزیہ

iran vs israel


مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور سیکیورٹی کے حوالے سے ایران اور اسرائیل دو ایسے ممالک ہیں جن کا اثر و رسوخ پورے خطے پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست جنگ تو نہیں ہوئی، لیکن سیاسی کشیدگی، پراکسی تنازعات اور بیانات کی جنگ مسلسل جاری رہی ہے۔ اس صورتحال میں اکثر یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر دونوں ممالک کی مجموعی طاقت کا موازنہ کیا جائے تو حقیقی طور پر کون زیادہ مضبوط ہے۔

اس مضمون میں ہم ایران اور اسرائیل کی فوجی، معاشی اور ٹیکنالوجیکل صلاحیتوں کا ایک غیر جانبدار اور حقائق پر مبنی جائزہ پیش کریں گے۔


ایران اور اسرائیل کی فوجی طاقت کا تقابلی جائزہ

ذیل میں ایران اور اسرائیل کی فوجی طاقت کے اہم پہلوؤں کا ایک مختصر تقابلی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ اعداد و شمار مختلف عالمی دفاعی رپورٹس اور فوجی ڈیٹا بیس پر مبنی ہیں۔

فوجی طاقت کا تقابل

 شعبہ                                                                                                              

     ایران                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                          

اسرائیل                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                  

آبادی

تقریباً 8 کروڑ 80 لاکھ

تقریباً 97 لاکھ

فعال فوجی اہلکار

تقریباً 6 لاکھ 10 ہزار

تقریباً 1 لاکھ 70 ہزار

ریزرو فوج

تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار

تقریباً 4 لاکھ 65 ہزار

جنگی طیارے

تقریباً 550 سے 620 (زیادہ تر پرانے ماڈلز)

تقریباً 600 سے زائد جدید طیارے

ہیلی کاپٹر

تقریباً 160

تقریباً 130

ٹینک

تقریباً 1700 سے زائد

تقریباً 1300

بحری جہاز

تقریباً 90 سے 100

تقریباً 49 سے 67

آبدوزیں

تقریباً 6 سے 19

تقریباً 5 سے 6

بیلسٹک میزائل

2000 سے زائد میزائل

جدید جیریکو میزائل

دفاعی بجٹ

تقریباً 10 ارب ڈالر

تقریباً 30 سے 45 ارب ڈالر

جوہری ہتھیار

باضابطہ طور پر تصدیق نہیں

اندازاً 80 سے 100 جوہری وارہیڈ

ذرائع:رگ

ذرائع

  • گلوبل فائر پاور ملٹری ڈیٹا بیس
  • اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (SIPRI)
  • انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز (IISS)
  • مختلف دفاعی تجزیاتی رپورٹس
  • عالمی فوجی ڈیٹا بیس اور دفاعی تجزیاتی رپورٹس

 


اہم فرق

 1️ ا                               فرادی قوت

ایران آبادی اور فوجی اہلکاروں کے لحاظ سے اسرائیل سے کہیں بڑا ملک ہے۔ ایران کے پاس فعال فوجیوں کی تعداد بھی زیادہ ہے۔ دوسری طرف اسرائیل کی فوج نسبتاً چھوٹی ہے لیکن اس کے ریزرو فوجیوں کی تعداد کافی زیادہ ہے اور زیادہ تر شہری بنیادی فوجی تربیت رکھتے ہیں۔


2️ ٹیکنالوجی

ٹیکنالوجی کے میدان میں اسرائیل کو واضح برتری حاصل سمجھی جاتی ہے۔ اسرائیل کے پاس جدید جنگی طیارے، جدید میزائل سسٹمز اور سائبر وارفیئر کی مضبوط صلاحیت موجود ہے۔ اسرائیلی فضائیہ میں جدید اسٹیلتھ طیارے بھی شامل ہیں جو جدید جنگی حکمت عملی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔


3️ میزائل طاقت

ایران کو مشرقِ وسطیٰ میں میزائل پروگرام کے حوالے سے ایک بڑی طاقت سمجھا جاتا ہے۔ ایران کے پاس ہزاروں بیلسٹک اور کروز میزائل موجود ہونے کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ یہ میزائل مختلف فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اسرائیل کے پاس بھی جدید میزائل پروگرام موجود ہے جس میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے جیریکو میزائل شامل ہیں۔


4️ فضائی دفاع

اسرائیل کا فضائی دفاعی نظام دنیا کے جدید ترین دفاعی نظاموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس میں آئرن ڈوم، ڈیوڈ سلنگ اور ایرو میزائل دفاعی نظام شامل ہیں جو مختلف قسم کے راکٹ اور میزائل حملوں کو روکنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔

ایران نے بھی حالیہ برسوں میں اپنے فضائی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے اور مقامی طور پر تیار کردہ دفاعی سسٹمز متعارف کروائے ہیں۔

 

آبادی اور جغرافیہ

ایران آبادی اور رقبے کے لحاظ سے مشرقِ وسطیٰ کے بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ ایران کی آبادی تقریباً 8 کروڑ 80 لاکھ کے قریب ہے جبکہ اسرائیل کی آبادی تقریباً ایک کروڑ سے بھی کم ہے۔ رقبے کے اعتبار سے بھی ایران اسرائیل سے کئی گنا بڑا ملک ہے۔

زیادہ آبادی اور وسیع رقبہ کسی بھی ملک کو دفاعی حکمت عملی میں ایک حد تک فائدہ دے سکتا ہے کیونکہ اس سے زیادہ افرادی قوت اور دفاعی گہرائی حاصل ہوتی ہے۔ تاہم جدید جنگوں میں صرف آبادی یا رقبہ فیصلہ کن عنصر نہیں ہوتا بلکہ ٹیکنالوجی، تربیت اور معیشت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

middle east map



فوجی افرادی قوت

ایران کی فعال فوجی قوت تقریباً 6 لاکھ سے زائد اہلکاروں پر مشتمل ہے جبکہ ریزرو فورسز کی تعداد تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار کے قریب بتائی جاتی ہے۔ ایران کی فوج دو بڑے حصوں پر مشتمل ہے: باقاعدہ فوج اور پاسدارانِ انقلاب۔

اس کے مقابلے میں اسرائیل کی فعال فوج تقریباً 1 لاکھ 70 ہزار اہلکاروں پر مشتمل ہے لیکن اس کے ریزرو فوجیوں کی تعداد تقریباً 4 لاکھ 60 ہزار کے قریب ہے۔ اسرائیل میں لازمی فوجی سروس کا نظام موجود ہے جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں شہری فوجی تربیت رکھتے ہیں۔

اعداد و شمار کے لحاظ سے ایران کے پاس زیادہ فعال فوجی موجود ہیں لیکن اسرائیل کی فوج کو جدید تربیت اور اعلیٰ ٹیکنالوجی کی وجہ سے دنیا کی مؤثر افواج میں شمار کیا جاتا ہے۔


فضائی طاقت

فضائی طاقت جدید جنگوں میں انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ ایران کے پاس تقریباً 500 سے 600 کے درمیان جنگی طیارے موجود ہیں، لیکن ان میں سے بہت سے پرانے ماڈلز ہیں جو مختلف ادوار میں حاصل کیے گئے تھے۔

اس کے مقابلے میں اسرائیل کے پاس تقریباً 600 کے قریب جدید جنگی طیارے موجود ہیں جن میں جدید ترین اسٹیلتھ طیارے بھی شامل ہیں۔ اسرائیل کی فضائیہ کو خطے کی سب سے جدید اور مؤثر فضائیہ سمجھا جاتا ہے۔

اسرائیل کی فضائی برتری کا ایک اہم سبب جدید ٹیکنالوجی، مسلسل اپ گریڈ اور امریکہ کے ساتھ دفاعی تعاون بھی ہے۔


میزائل ٹیکنالوجی

ایران نے گزشتہ دو دہائیوں میں میزائل ٹیکنالوجی پر خاص توجہ دی ہے۔ ایران کے پاس ہزاروں بیلسٹک اور کروز میزائل موجود ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ ان میزائلوں کی رینج مختلف ہے اور بعض میزائل خطے کے کئی ممالک تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اسرائیل کے پاس بھی جدید میزائل سسٹمز موجود ہیں جن میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل شامل ہیں۔ اسرائیل نے دفاعی میزائل نظام بھی تیار کیے ہیں جیسے کہ آئرن ڈوم، جو راکٹ حملوں کو روکنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

دونوں ممالک میزائل ٹیکنالوجی کے میدان میں کافی مضبوط سمجھے جاتے ہیں لیکن اسرائیل کے دفاعی سسٹمز کو جدید اور مؤثر قرار دیا جاتا ہے۔


زمینی فوج اور ٹینک

ایران کے پاس تقریباً 1700 سے زائد ٹینک موجود ہیں جبکہ اسرائیل کے پاس تقریباً 1300 کے قریب ٹینک ہیں۔ اسرائیل کے زیادہ تر ٹینک جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں جن میں مقامی طور پر تیار کیے گئے میرکاوا ٹینک شامل ہیں۔

زمینی جنگ کے حوالے سے ایران کے پاس بڑی فوج اور بڑی تعداد میں ٹینک موجود ہیں جبکہ اسرائیل اپنی جدید ٹیکنالوجی اور تربیت پر انحصار کرتا ہے۔


بحری قوت

بحری قوت کے حوالے سے ایران کے پاس زیادہ تعداد میں بحری جہاز اور آبدوزیں موجود ہیں کیونکہ اسے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز جیسے اہم علاقوں کی نگرانی کرنا ہوتی ہے۔

اسرائیل کی بحریہ نسبتاً چھوٹی ہے لیکن اس کے پاس جدید آبدوزیں اور جدید بحری ٹیکنالوجی موجود ہے۔ اسرائیل کی بحری حکمت عملی زیادہ تر بحیرہ روم کے علاقے تک محدود ہے۔


دفاعی بجٹ

دفاعی بجٹ کسی بھی ملک کی فوجی طاقت کو برقرار رکھنے اور جدید بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اسرائیل کا دفاعی بجٹ تقریباً 30 سے 40 ارب ڈالر کے درمیان بتایا جاتا ہے جبکہ ایران کا دفاعی بجٹ تقریباً 10 ارب ڈالر کے قریب ہے۔

زیادہ دفاعی بجٹ کی وجہ سے اسرائیل جدید ہتھیار، تحقیق اور ٹیکنالوجی پر زیادہ سرمایہ کاری کر سکتا ہے۔


ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس

اسرائیل کو دنیا کے جدید ترین ٹیکنالوجیکل ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔ سائبر سیکیورٹی، ڈرون ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس کے شعبوں میں اسرائیل نے نمایاں ترقی کی ہے۔

ایران نے بھی دفاعی ٹیکنالوجی میں خاص طور پر ڈرون اور میزائل پروگرام میں ترقی کی ہے، لیکن مجموعی ٹیکنالوجی کے میدان میں اسرائیل کو برتری حاصل سمجھی جاتی ہے۔


جوہری صلاحیت

جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے اسرائیل کو غیر سرکاری طور پر جوہری طاقت سمجھا جاتا ہے، اگرچہ اسرائیل نے باضابطہ طور پر اس کی تصدیق نہیں کی۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، تاہم عالمی سطح پر اس پروگرام کے حوالے سے کئی سالوں سے بحث اور مذاکرات جاری ہیں۔

جوہری صلاحیت کسی بھی ملک کی دفاعی طاقت کو بہت حد تک متاثر کر سکتی ہے۔


علاقائی اثر و رسوخ

ایران مشرقِ وسطیٰ میں مختلف سیاسی اور علاقائی اتحادوں کے ذریعے اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ ایران کی خارجہ پالیسی میں خطے کے کئی تنازعات میں کردار شامل رہا ہے۔

اسرائیل نے حالیہ برسوں میں کئی عرب ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات بہتر کیے ہیں جس سے اس کی علاقائی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے۔


نتیجہ

اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایران اور اسرائیل دونوں کی طاقت مختلف شعبوں میں نمایاں ہے۔ ایران کے پاس زیادہ آبادی، بڑی فوج اور وسیع جغرافیہ ہے جبکہ اسرائیل ٹیکنالوجی، فضائی طاقت اور دفاعی بجٹ کے لحاظ سے مضبوط سمجھا جاتا ہے۔

اسی لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ کون سا ملک مکمل طور پر زیادہ طاقتور ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ممالک اپنی اپنی حکمت عملی اور وسائل کے مطابق طاقت رکھتے ہیں۔

بین الاقوامی ماہرین کے مطابق کسی بھی ممکنہ تنازعے کی صورت میں نتیجہ صرف فوجی طاقت پر نہیں بلکہ اتحادی ممالک، عالمی سیاست اور سفارتی حکمت عملی پر بھی منحصر ہوگا۔