وائٹ ہاؤس کے دریچوں سے گونجتی دعائیں: کیا اقتدار مذہب کا محتاج ہے؟

Dnnetwork

 

وائٹ ہاؤس کے دریچوں سے گونجتی دعائیں: کیا اقتدار مذہب کا محتاج ہے؟


سیاست کی شطرنج پر جب کھیل آخری لمحات میں ہوتا ہے، تو بڑے بڑے کھلاڑیوں کے ہاتھوں میں لرزش پیدا ہونا فطری بات ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب ایوانِ اقتدار کی بنیادیں ہلتی ہیں، تو حکمران زمین پر موجود وسائل سے نظریں ہٹا کر آسمان کی طرف دیکھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی منظر حال ہی میں واشنگٹن کے اوول آفس میں دیکھنے کو ملا، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذہب کے سکالرز اور پادریوں کو اپنے قریب بٹھا کر ایک غیر روایتی سیاسی منظر نامے کو جنم دیا۔

  آج کی سیاست میں مذہب کا استعمال کتنا پرانا اور کتنا عجیب ہے۔


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اوول آفس میں مذہبی پیشواؤں کے ساتھ دعا کرتے ہوئے، جس میں پادریوں کے ہاتھ ٹرمپ کے کندھوں پر ہیں۔
اوول آفس میں ایک غیر روایتی سیاسی منظر: صدر ٹرمپ کے لیے دعا کی جاتی ہوئی۔"

سیاسی کرسی اور روحانی پناہ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اپنے دفتر میں مذہبی پیشواؤں کو بلانا اور ان سے اپنی کامیابی کے لیے دعا کروانا، محض ایک رسمی عمل نہیں بلکہ ایک گہری نفسیاتی علامت ہے۔ جدید دور کے سیاست دان اکثر اپنی طاقت کے زعم میں ہوتے ہیں، لیکن جب صورتحال ان کے قابو سے باہر ہونے لگتی ہے، تو وہ اپنی "کمزوری" کو چھپانے کے لیے مذہب کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں۔

یہ اقدام اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ انسانی تدبیریں ایک حد تک ہی کام کرتی ہیں۔ جب کوئی حکمران اپنے کندھوں پر پادریوں کے ہاتھ رکھوا کر دعا مانگتا ہے، تو وہ دراصل اپنی رعایا کو یہ پیغام دے رہا ہوتا ہے کہ "اب میرے پاس حل ختم ہو چکے ہیں، اب صرف الہیٰ مدد ہی آخری راستہ ہے۔"


کیا یہ مذہبی جنگ کا پیش خیمہ ہے؟

عالمی میڈیا میں اس تقریب کو دیکھ کر یہ بحث شروع ہو گئی کہ کیا یہ کسی بڑی "مذہبی جنگ" کی تیاری ہے؟ تجزیہ کاروں کی ایک بڑی تعداد کا ماننا ہے کہ اس کا مذہب سے تعلق برائے نام ہے۔ یہ حقیقت میں اقتدار کے توازن اور وسائل کے حصول کی کشمکش ہے۔ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں، جب ٹرمپ مذہب کو میدان میں لاتے ہیں، تو وہ دراصل اپنے ووٹرز کے جذباتی تار چھیڑنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔

مذہب کو جب بھی سیاست میں ڈھال بنایا جاتا ہے، تو اس کا مقصد ہمیشہ عوامی حمایت کو مضبوط کرنا ہوتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی کوئی حکمران جنگی حالات میں مذہبی علامات کا زیادہ استعمال کرتا ہے، تو وہ دراصل اپنی سیاسی بقا کے لیے خوفزدہ ہوتا ہے۔

خوف کا نفسیاتی پہلو

صدر ٹرمپ کا یہ عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی سیاست میں ایک بڑا خلا پیدا ہو چکا ہے۔ ایران کے ردعمل اور خطے میں بدلتے ہوئے حالات نے عالمی طاقتوں کو حیران کر دیا ہے۔ وہ جو یہ سمجھتے تھے کہ ایک اشارے پر دنیا بدل جائے گی، اب وہ خود بدلتے ہوئے حالات کے آگے بے بس کھڑے ہیں۔

جب ایک سپر پاور کا سربراہ دعاؤں کے حصار میں بیٹھتا ہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ "اندرونی خوف" کا شکار ہو چکا ہے۔ یہ خوف کسی دشمن کا نہیں، بلکہ اپنے ہی فیصلوں کے نتائج کا ہے۔

نتیجہ: سیاست اور مذہب کا الجھاؤ

کیا مذہب کا سیاست میں یہ استعمال درست ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر صدیوں سے بحث جاری ہے۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ ہوں یا عام انسان، مشکل وقت میں ہم سب ایک ہی جیسے نظر آتے ہیں۔ ہم سب اسی وقت خدا کو یاد کرتے ہیں جب ہمارے ہاتھ سے دنیاوی وسائل نکلنے لگتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ کوشش، کہ وہ مذہب کے ذریعے اپنی ساکھ کو دوبارہ بحال کریں، ایک دلچسپ مطالعہ ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ انسانی فطرت وقت اور عہدے کے ساتھ بدلتی نہیں، بلکہ وقت پڑنے پر وہی پرانے طریقے اختیار کرتی ہے جو ہزاروں سال پہلے فاتحین استعمال کیا کرتے تھے۔

آج کی سیاست میں مذہب کو جس طرح استعمال کیا جا رہا ہے، اس سے یہ تو واضح ہوتا ہے کہ دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں طاقت کا استعمال اب صرف بندوقوں سے نہیں، بلکہ جذباتی اور مذہبی بیانیوں کے ذریعے بھی کیا جائے گا۔