امریکی پالیسیاں اور نئے محاذ: کیا واشنگٹن خود اپنے لیے خطرات پیدا کر رہا ہے؟

Dnnetwork

 

Visual representation of USA map, missiles, and war impact
امریکی خارجہ پالیسی کے 50 سال: جنگی مداخلت اور بدلتے ہوئے عالمی دفاعی توازن کا ایک تصویری خاکہ۔

حالیہ دنوں میں واشنگٹن سے آنے والی خبروں نے جنوبی ایشیا بالخصوص پاکستان میں تشویش کی ایک نئی لہر دوڑا دی ہے۔ امریکی ڈائریکٹر برائے قومی انٹیلی جنس، تلسی گبارڈ نے امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے سال 2026 کی "سالانہ خطرات کے جائزے" کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے ایک چونکا دینے والا دعویٰ کیا ہے۔ گبارڈ کے مطابق، پاکستان اب ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے جو ایسے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (ICBMs) تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو براہِ راست امریکی سرزمین کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

گبارڈ نے پاکستان کو چین، روس اور شمالی کوریا جیسے ممالک کے ساتھ کھڑا کر دیا ہے، جنہیں واشنگٹن اپنی بقا کے لیے خطرہ تصور کرتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ پانچوں ممالک ایسے جدید میزائل سسٹمز پر کام کر رہے ہیں جو جوہری اور روایتی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور امریکی دفاعی ڈھانچے کو چکمہ دے سکتے ہیں۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب عالمی سیاست میں طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی یہ ممالک امریکہ کے لیے خطرہ ہیں، یا امریکہ کی اپنی جارحانہ پالیسیاں اسے اس نہج پر لے آئی ہیں جہاں اسے ہر طرف دشمن ہی دشمن نظر آتے ہیں؟

گزشتہ 50 سال: جنگی جنون اور انسانی جانوں کا زیاں

اگر ہم پچھلے پچاس سالوں (1971 سے اب تک) کی امریکی خارجہ اور جنگی پالیسی کا جائزہ لیں، تو ایک خوفناک تصویر سامنے آتی ہے۔ امریکہ نے "جمہوریت کی ترویج" اور "دہشت گردی کے خاتمے" کے نام پر جن جنگوں کا آغاز کیا، انہوں نے دنیا کو امن دینے کے بجائے لاکھوں انسانوں کے خون سے نہلا دیا۔

  • ویت نام اور کمبوڈیا: اگرچہ ویت نام کی جنگ کا اختتام 1975 میں ہوا، لیکن اس کے اثرات اور اس کے بعد کی مداخلتوں نے لاکھوں جانیں لیں۔ صرف ویت نام میں 30 لاکھ سے زائد افراد لقمہ اجل بنے۔
  • عراق کی تباہی: 2003 میں "بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں" (WMDs) کا جھوٹا بہانہ بنا کر عراق پر حملہ کیا گیا۔ "براؤن یونیورسٹی" کے 'کاسٹ آف وار' پروجیکٹ کے مطابق، عراق جنگ کے نتیجے میں براہِ راست اور بالواسطہ طور پر 10 لاکھ سے زائد عراقی جاں بحق ہوئے۔ آج تک وہاں سے تباہی کے وہ ہتھیار نہیں ملے جن کا دعویٰ بش انتظامیہ نے کیا تھا۔
  • افغانستان کی بیس سالہ جنگ: 2001 سے 2021 تک جاری رہنے والی اس طویل ترین جنگ میں تقریباً 2 لاکھ 40 ہزار افراد ہلاک ہوئے، جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی تھی۔
  • شام، لیبیا اور یمن: امریکی مداخلت اور پراکسی وارز کے نتیجے میں ان ممالک میں لاکھوں افراد ہلاک اور کروڑوں بے گھر ہوئے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق، 1971 سے اب تک امریکی مہم جوئیوں کے نتیجے میں دنیا بھر میں 40 لاکھ سے 60 لاکھ کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسرائیل کی غیر مشروط حمایت اور عالمی تنہائی

امریکہ کی جانب سے دشمنوں کی تعداد میں اضافے کی ایک بڑی وجہ اس کی مشرقِ وسطیٰ کی پالیسی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ نے جس طرح بار بار اپنے ویٹو (Veto) کا حق استعمال کر کے اسرائیل کو عالمی قوانین سے استثنیٰ دلایا ہے، اس نے مسلم دنیا اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کے دلوں میں امریکہ کے خلاف نفرت بھر دی ہے۔

غزہ کی حالیہ صورتحال ہو یا گزشتہ دہائیوں کے تنازعات، امریکہ کا یکطرفہ جھکاؤ انصاف کے لبادے کو چاک کر دیتا ہے۔ جب دنیا کی سب سے بڑی طاقت صرف ایک ملک کے مفاد کے لیے انسانی حقوق کی پامالی پر آنکھیں بند کر لے، تو باقی دنیا کا اس کے "عالمی نظام" پر اعتماد اٹھنا فطری عمل ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایران اور پاکستان جیسے ممالک اپنی بقا کے لیے دفاعی صلاحیتوں میں اضافے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

کیا پاکستان واقعی خطرہ ہے؟

پاکستان نے ہمیشہ یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اس کا ایٹمی اور میزائل پروگرام خالصتاً "دفاعی" ہے اور یہ بھارت کے جارحانہ عزائم کے خلاف ایک "ڈیٹرنس" (Deterrence) کا کام کرتا ہے۔ تلسی گبارڈ کا پاکستان کو روس اور چین کی صف میں کھڑا کرنا دراصل اس بڑھتی ہوئی خلیج کا اظہار ہے جو امریکہ اور پاکستان کے درمیان حالیہ برسوں میں پیدا ہوئی ہے۔ امریکہ کا بھارت کے ساتھ تزویراتی اتحاد (Strategic Alliance) اور پاکستان کی ضروریات سے چشم پوشی نے اسلام آباد کو مجبور کیا ہے کہ وہ اپنی ٹیکنالوجی کو اس حد تک جدید بنائے کہ کوئی بھی جارح، چاہے وہ کتنا ہی دور کیوں نہ ہو، حملہ کرنے سے پہلے سو بار سوچے۔

امریکہ دشمن کیوں بنا رہا ہے؟

واشنگٹن کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ دنیا کو "یونی پولر" (ایک قطبی) دیکھنا چاہتا ہے، جہاں صرف اس کا حکم چلے۔ جب چین معاشی طور پر ابھرتا ہے، تو اسے خطرہ قرار دیا جاتا ہے۔ جب روس اپنی سرحدوں کے پاس نیٹو کی توسیع کو روکتا ہے، تو اسے جارح کہا جاتا ہے۔ اور جب پاکستان یا ایران اپنی دفاعی صلاحیت بہتر بناتے ہیں، تو انہیں بین الاقوامی امن کے لیے خطرہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

امریکہ کی یہ پالیسی کہ "جو ہمارے ساتھ نہیں، وہ ہمارا دشمن ہے"، اب ناکام ہوتی نظر آ رہی ہے۔ دنیا اب کثیر قطبی (Multipolar) ہو چکی ہے۔ برکس (BRICS) جیسی تنظیموں کا ابھار اور ڈالر پر انحصار کم کرنے کی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دنیا اب واشنگٹن کے ڈکٹیشن سے تھک چکی ہے۔


تلسی گبارڈ کا بیان پاکستان کی دفاعی ترقی کا اعتراف تو ہو سکتا ہے، لیکن یہ امریکی پالیسی سازوں کے لیے ایک لمحہ فکریہ بھی ہے۔ اگر امریکہ دنیا میں اپنے دشمنوں کی تعداد کم کرنا چاہتا ہے، تو اسے اپنی "وار پالیسی" پر نظرِ ثانی کرنی ہوگی۔ لاکھوں معصوموں کا خون، کمزور ممالک کے وسائل پر قبضہ اور اسرائیل کی اندھی حمایت وہ عوامل ہیں جو امریکہ کے خلاف عالمی مزاحمت پیدا کر رہے ہیں۔

پاکستان جیسے ممالک، جو کئی دہائیوں تک امریکہ کے اتحادی رہے، اگر آج امریکی انٹیلی جنس کی "تھریٹ لسٹ" میں شامل ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ خرابی واشنگٹن کے اپنے رویے میں ہے۔ دنیا کو میزائلوں سے نہیں، بلکہ انصاف، برابری اور دوسروں کے خود مختار حقوق کے احترام سے جیتا جا سکتا ہے۔ اگر امریکہ نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا، تو وہ وقت دور نہیں جب وہ اپنی ہی بنائی ہوئی دیواروں کے پیچھے خود کو تنہا محسوس کرے گا۔