پاکستان میں بجلی کا نظام اور واپڈا (WAPDA/DISCOs) ہمیشہ سے عوامی بحث اور شکایات کا مرکز رہے ہیں۔ حال ہی میں وفاقی وزیر خواجہ آصف کے ایک ٹویٹ اور اس پر معروف تجزیہ کار جاوید چوہدری صاحب کے کالم نے ملک کے طاقتور ترین طبقے کی بے بسی اور واپڈا کے اندرونی نظام کی سنگین خامیاں چوراہے پر لا کھڑی کی ہیں۔ بظاہر یہ معاملہ عام سی رشوت یا بدعنوانی کا دکھائی دیتا ہے، لیکن اگر زمین پر موجود اصل حقائق (Ground Reality) کا جائزہ لیا جائے تو کہانی کچھ اور ہی رخ اختیار کر لیتی ہے۔
آئیے اس مضمون میں تفصیلاً سمجھتے ہیں
کہ اصل مسئلہ کہاں ہے، واپڈا کی پالیسی کیا ہے، اور لائن سپرنٹنڈنٹ (LS) نیا ٹرانسفارمر لگانے سے کیوں کتراتے ہیں۔
خواجہ آصف کا ٹویٹ
کچھ دن پہلے وفاقی وزیر خواجہ آصف نے
سوشل میڈیا پر ایک ٹویٹ کیا جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کے اپنے گاؤں میں
بجلی کا ٹرانسفارمر جل گیا تھا۔ واپڈا ملازمین کو بلایا گیا تو انہوں نے
ٹرانسفارمر تبدیل کرنے یا مرمت کرنے کے لیے پیسے (رشوت) چارج کیے، اور رقم کی
ادائیگی کے بعد ٹرانسفارمر لگا دیا گیا۔
اس ٹویٹ پر جاوید چوہدری صاحب نے اپنے
کالم اور ٹی وی پروگرام میں سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے حکومت اور ہائی لیول
آفیشلز کی اس بے بسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ:
"اگر ملک کا ایک طاقتور وفاقی وزیر اپنے گاؤں کا ٹرانسفارمر بھی
قانونی طریقے سے ٹھیک نہیں کروا سکتا اور اسے رشوت دینی پڑتی ہے، تو یا تو پھر انہیں
اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے یا پھر عوام کے سامنے اپنی اس بے بسی کا یوں
کھلے عام شکوہ نہیں کرنا چاہیے۔"
جاوید چوہدری صاحب کا یہ نقطہ نظر
اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ یہ حکومت کی انتظامی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے، لیکن یہاں
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر واپڈا ملازمین ایک وزیر کے علاقے میں بھی یہ رسک لینے
پر کیوں مجبور ہوئے؟
زمین پر اصل
حقیقت (The Ground
Reality) کیا ہے؟
عام عوام اور میڈیا یہی سمجھتا ہے کہ
ٹرانسفارمر جلنے کے بعد پیسے مانگنا سراسر واپڈا ملازمین کی لوٹ مار ہے۔ لیکن
اندرونی حقیقت یہ ہے کہ واپڈا کا موجودہ انکوائری سسٹم اور پالیسی ملازمین
کو سیدھے راستے پر چلنے ہی نہیں دیتی۔
1. لائن سپرنٹنڈنٹ
(LS) اور انکوائری کا خوف
واپڈا کے رولز کے مطابق، اگر کسی
علاقے کا ٹرانسفارمر جل جائے یا خراب ہو جائے، اور وہاں کا لائن سپرنٹنڈنٹ (LS) اسے سرکاری ریکارڈ میں تبدیل کر کے نیا ٹرانسفارمر جاری کروانے
کی کوشش کرے، تو فوری طور پر اس ملازم کے خلاف محکمہ جاتی انکوائری (Departmental Inquiry) کھول دی جاتی ہے۔
2. انکوائری میں پوچھے جانے والے سخت سوالات
اس انکوائری میں لائن سپرنٹنڈنٹ کو
باقاعدہ ایک تفصیلی رپورٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس میں درج ذیل سوالات کے جواب
دینا لازمی ہوتے ہیں:
- ٹرانسفارمر
کے جلنے کی اصل وجہ کیا تھی؟
- کیا
علاقے میں اوور لوڈنگ تھی یا وولٹیج (Voltage) کا
مسئلہ تھا؟
- کیا اس
علاقے میں لائن لاسز (Line Losses) کا
ایشو تھا؟
- ملازم
نے وقت پر اس اوور لوڈنگ کو کنٹرول کیوں نہیں کیا؟
اگر انکوائری میں یہ ثابت ہو جائے کہ
ٹرانسفارمر ملازم کی مبینہ غفلت یا لوڈ مینجمنٹ نہ ہونے کی وجہ سے جلا ہے، تو نئے
ٹرانسفارمر کی قیمت اور نقصان کا کچھ حصہ اسی ملازم کی جیب سے پورا کیا جاتا ہے۔
اس تادیبی کارروائی اور قانونی چکروں سے بچنے کے لیے کوئی بھی ایل ایس سرکاری طور
پر نیا ٹرانسفارمر لگانے کا رسک نہیں لیتا۔
نجی ورکشاپس
اور "گیٹنگ" کا چور راستہ
اب جب سرکاری طور پر نیا ٹرانسفارمر
ملنا ناممکن حد تک مشکل ہو جاتا ہے، اور عوام کا دباؤ بھی بڑھتا ہے، تو واپڈا
ملازمین اور ایل ایس مل کر ایک "چور راستہ" نکالتے ہیں:
- پرائیویٹ
ورکشاپس کا استعمال:
خراب یا جلا ہوا ٹرانسفارمر
سرکاری اسٹور میں جمع کروانے کے بجائے، اسے چپ چاپ کسی نجی یا منظور شدہ
پرائیویٹ ورکشاپ پر بھیج دیا جاتا ہے۔
- عوام
سے فنڈنگ (گیٹنگ):
اس ورکشاپ کا جتنا بھی خرچہ
(وائرنگ، آئل، اور مزدوری) ہوتا ہے، وہ علاقے کے لوگوں یا اثر و رسوخ والے
شخص سے نقد رقم کی صورت میں اکٹھا کیا جاتا ہے۔
- رقم
کی تقسیم:
اس اکٹھی کی گئی رقم میں سے لائن
سپرنٹنڈنٹ یا مقامی اہلکار اپنا معمولی حصہ (کمیشن) رکھتے ضرور ہیں، لیکن اس
رقم کا ایک بہت بڑا حصہ ورکشاپ کے اخراجات اور اوپر کے نظام کو چلانے میں چلا
جاتا ہے۔
یہی وہ وجہ ہے کہ خواجہ آصف کے گاؤں
میں بھی ملازمین نے پیسے لیے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر انہوں نے سرکاری فائل
موو کی تو ٹرانسفارمر مہینوں نہیں آئے گا اور الٹا ان کی اپنی نوکری انکوائری کی
زد میں آ جائے گی۔
نظام کی
خرابی: رولز بمقابلہ شخصیات
(System vs Personalities)
اس پورے واقعے سے ایک بات واضح ہوتی
ہے کہ جب تک ہمارا پورا حکومتی ڈھانچہ شخصیات
(Personalities) کے بجائے مضبوط قوانین اور خودکار
نظام (Smooth System) پر شفٹ نہیں ہوگا، تب تک ایسے مسائل پیدا ہوتے رہیں گے۔
پہلے ایک ایسا شفاف اور آسان سسٹم
بنانا پڑتا ہے جہاں ٹرانسفارمر جلنے پر ملازم کو مجرم بنانے کے بجائے، متبادل نظام
فوری فعال ہو سکے۔ جب سسٹم درست کام نہیں کر رہا ہوتا، تو پھر وزراء ہوں یا عام
عوام، سب کو اسی طرح کے نجی اور غیر قانونی راستوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔
پاکستانی عوام کن اداروں
سے تنگ ہے؟ (ایک تلخ حقیقت)
واپڈا
کا یہ ٹرانسفارمر والا معاملہ تو صرف ایک مثال ہے، حقیقت یہ ہے کہ آج پاکستان کا
عام شہری ملک کے بنیادی اداروں کے ہاتھوں شدید زبوحالی اور ذہنی اذیت کا شکار ہے۔
اگر ہم سروے کریں یا گراؤنڈ ریالٹی دیکھیں، تو پاکستانی عوام جن اداروں سے سب سے
زیادہ تنگ ہیں، ان میں یہ سرِفہرست ہیں:
·
واپڈا (WAPDA): جہاں بلوں کی بھرمار، اوور بلنگ،
اور ٹرانسفارمر کی مرمت کے نام پر ذلت عوام کا مقدر بن چکی ہے۔
·
پولیس (Police): جہاں عام آدمی انصاف کی امید لے کر
جانے سے بھی ڈرتا ہے کہ کہیں داد رسی کے بجائے خود کسی مصیبت میں نہ پھنس جائے۔
·
عدالتیں
اور کچہریاں (Courts):
جہاں
"تاریخ پر تاریخ" کا ایسا نظام ہے کہ انسان کی نسلیں گزر جاتی ہیں لیکن
ادھورے انصاف کا فیصلہ نہیں ہو پاتا۔
·
سرکاری
ہسپتال (Hospitals):
جہاں غریب
مریض صرف علاج کے لیے نہیں، بلکہ بنیادی انسانی ہمدردی، ادویات اور ایک بستر کے
حصول کے لیے سسکتا رہتا ہے۔
"اللہ پاک مجھے سرکار سے
بچائے رکھے..."
ادارے
کس حد تک عوام کا اعتماد کھو چکے ہیں، اس کا اندازہ ایک سچے اور دل دہلا دینے والے
واقعے سے لگایا جا سکتا ہے۔ ایک عام شہری نے بتایا کہ اس کی بوڑھی ماں نے ایک بار
ہاتھ اٹھا کر دعا کی:
"یا اللہ! مجھے مرتے دم
تک اس سرکار (سرکاری اداروں) سے بچائے رکھنا۔"
اس
ماں کی مراد "سرکار" سے کوئی سیاسی حکومت نہیں تھی، بلکہ اس سے مراد وہ سرکاری ہسپتال تھے جہاں غریب کو
موت کے منہ میں دھکیل دیا جاتا ہے، اور وہ سرکاری کچہریاں اور عدالتیں تھیں جہاں عزت دار آدمی
پیر رکھتے ہی تذلیل کا شکار ہو جاتا ہے۔ جب ایک عام شہری ریاست کے بنیادی ستونوں
سے پناہ مانگنے لگے، تو سمجھ جائیں کہ نظام اندر سے بالکل کھوکھلا ہو چکا ہے۔
آپ کی کیا
رائے ہے؟
کیا آپ کے علاقے میں بھی ٹرانسفارمر
جلنے پر اسی طرح پیسے اکٹھے کیے جاتے ہیں؟ کیا آپ کے خیال میں واپڈا کی اس
انکوائری پالیسی میں تبدیلی ہونی چاہیے؟ نیچے کمنٹ سیکشن میں اپنی قیمتی
رائے کا اظہار لازمی کریں اور اس آرٹیکل کو اپنے دوستوں کے ساتھ فیس بک اور واٹس
ایپ پر شیئر کریں۔
