جنگ کی پہلی صبح
جنگ
ہمیشہ اچانک نہیں آتی، مگر جب آتی ہے تو سب سے پہلے انسانیت کو مارتی ہے۔ توپیں
گرجتی ہیں، میزائل فضا کو چیرتے ہیں اور سیاست دان نقشوں پر لکیریں کھینچتے رہتے
ہیں، مگر ان لکیروں کے نیچے بستے شہر، گلیاں اور اسکول خاک میں مل جاتے ہیں۔ جنگ
کے پہلے دن ہی جب ایران کے ایک شہر میں لڑکیوں کے ایک اسکول پر بم گرا تو ملبے کے
نیچے دبے بستے، کتابیں اور جوتے دنیا کو ایک بار پھر یاد دلا رہے تھے کہ جنگ کی
اصل قیمت ہمیشہ بے گناہ لوگ ادا کرتے ہیں۔
وہ
بچیاں جو صبح گھروں سے علم حاصل کرنے نکلی تھیں، شاید انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا
کہ دنیا کے طاقتور ملکوں کی سیاست اور انا کا کھیل ان کی زندگیوں پر ختم ہو گا۔
ملبے میں پڑی ہوئی ایک ٹوٹی ہوئی تختی پر ابھی بھی حروفِ تہجی لکھے تھے، جیسے وہ
چیخ چیخ کر پوچھ رہی ہو کہ کتاب اور بندوق کی جنگ میں آخر قصور کس کا ہے؟
جنگ کی سفاکیت کا ایک نیا اور خوفناک باب 28 فروری 2026ء کی صبح ایران کے صوبہ ہرمزگان کے شہر ’میناب‘ میں رقم ہوا۔ جب ایک نجی میزائل حملے نے ’شجرہ طیبہ‘ نامی گرلز پرائمری اسکول کو نشانہ بنایا۔ یہ کوئی فوجی اڈہ نہیں تھا، بلکہ علم کی روشنی پھیلانے والا ایک تعلیمی ادارہ تھا۔ اطلاعات کے مطابق اس حملے میں 165 سے زائد بچیاں، جن کی عمریں زیادہ تر 7 سے 12 برس کے درمیان تھیں، اپنی کلاسوں میں شہید ہو گئیں۔ وہ بچیاں جو صبح گھروں سے بستے اٹھا کر اور ہاتھ میں پنسلیں پکڑ کر نکلی تھیں، شاید انہیں یہ معلوم بھی نہیں تھا کہ دنیا کے طاقتور ملکوں کی سیاست اور انا کا کھیل ان کی زندگیوں پر ختم ہو گا۔
تاریخ
گواہ ہے کہ جب بھی جنگ ہوتی ہے، سب سے پہلے اسکول، ہسپتال اور عام لوگ اس کا نشانہ
بنتے ہیں۔ اگر ہم ذرا پیچھے جائیں تو ہمیں 1945ء کی وہ صبح یاد آتی ہے جب جاپان کے
شہر ہیروشیما پر پہلا ایٹم بم گرایا گیا تھا۔ یہ بم شیما ہسپتال کے اوپر فضا میں
پھٹا۔ چند لمحوں میں درجہ حرارت ہزاروں ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا اور پورا شہر
آگ اور دھوئیں میں ڈوب گیا۔ عمارتیں، سڑکیں، پل اور انسان سب ایک ہی لمحے میں جل
کر راکھ ہو گئے۔
صرف
آدھے گھنٹے کے اندر تقریباً اسی ہزار لوگ ہلاک ہو گئے۔ جو زندہ بچ گئے وہ بھی زندہ
لاشوں کی طرح زندگی گزارتے رہے۔ تابکاری نے ان کے جسموں کو اندر سے کھوکھلا کر دیا
تھا۔ بہت سے لوگ ایسے تھے جو برسوں تک بیماریوں اور تکلیفوں سے لڑتے رہے اور اکثر
یہ دعا کرتے رہے کہ کاش وہ بھی اسی لمحے مر گئے ہوتے۔
جاپان
اس وقت بھی ہمت ہارنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس نے اعلان کیا کہ وہ آخری سپاہی اور
آخری گولی تک لڑے گا۔ مگر جنگ کا کھیل بہت بے رحم ہوتا ہے۔ تین دن بعد، 9 اگست
1945ء کو امریکا نے جاپان کے دوسرے شہر ناگاساکی پر ایک اور ایٹم بم گرا دیا۔ اس
بار بھی تباہی کا منظر ویسا ہی تھا۔ پہلے ہی منٹ میں تقریباً پچھتر ہزار لوگ ہلاک
ہو گئے اور پورا شہر ملبے اور راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو گیا۔
آخرکار
جاپان کو حقیقت کا ادراک ہو گیا۔ اس نے ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیا اور 15 اگست
1945ء کو دوسری عالمی جنگ ختم ہو گئی۔ تاریخ کی کتابیں ہمیں بتاتی ہیں کہ اس جنگ
میں طاقت اور ٹیکنالوجی کی جیت ہوئی، مگر اگر انسانیت سے پوچھا جائے تو یہ جیت
نہیں بلکہ ایک بڑا المیہ تھا۔ لاکھوں انسان صرف اس لیے مارے گئے کہ چند طاقتور ملک
اپنی برتری ثابت کرنا چاہتے تھے۔
جنگ
کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ اس میں مرنے والے زیادہ تر وہ لوگ ہوتے ہیں جن کا
جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ کسان، مزدور، طالب علم، بچے اور عورتیں — یہی وہ لوگ
ہیں جو بمباری اور گولیوں کا اصل نشانہ بنتے ہیں۔ جنگ کے میدان میں شاید سپاہی
لڑتے ہیں، مگر جنگ کا زخم پورا معاشرہ سہتا ہے۔
انسان
عجیب مخلوق ہے۔ اس کے اندر عقل بھی ہے اور جذبات بھی۔ عقل اسے بتاتی ہے کہ بقا سب
سے بڑی کامیابی ہے، جبکہ جذبات اسے بار بار لڑائی کی طرف لے جاتے ہیں۔ قوموں کی
تاریخ میں بھی یہی ہوتا ہے۔ کبھی انا اور طاقت کا نشہ عقل پر غالب آ جاتا ہے اور
پھر جنگ کے شعلے بھڑک اٹھتے ہیں۔
طاقتور
ممالک کی انا بھی طاقتور ہوتی ہے۔ جب انہیں لگتا ہے کہ ان کی برتری کو چیلنج کیا
جا رہا ہے تو وہ اکثر طاقت کا استعمال کرتے ہیں۔ بڑی طاقتیں بعض اوقات ایسے فیصلے
کر بیٹھتی ہیں جن کے نتائج صدیوں تک انسانیت کو بھگتنا پڑتے ہیں۔
آج
کی دنیا بھی اسی خطرناک موڑ پر کھڑی نظر آتی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی
اور طاقتور ممالک کی سیاسی کشمکش دنیا کو ایک نئی تباہی کی طرف لے جا سکتی ہے۔ اگر
عقل سے کام نہ لیا گیا تو تاریخ خود کو دہرا سکتی ہے۔
ایران
اور مغربی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی صرف سیاسی مسئلہ نہیں رہی، بلکہ یہ
ایک ایسی جنگ کی صورت اختیار کر سکتی ہے جس کے اثرات پوری دنیا پر پڑیں گے۔ جدید
ہتھیار، میزائل سسٹم اور ڈرون ٹیکنالوجی نے جنگ کو پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک بنا
دیا ہے۔ اب چند لمحوں میں پورے شہر تباہ کیے جا سکتے ہیں۔
لیکن
سوال یہ ہے کہ اس سب میں عام لوگوں کا کیا قصور ہے؟ وہ بچے جو اسکولوں میں پڑھ رہے
ہیں، وہ مریض جو ہسپتالوں میں زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں، اور وہ خاندان جو امن سے
زندگی گزارنا چاہتے ہیں — آخر ان کا جرم کیا ہے؟
جنگ
کے حامی اکثر یہ دلیل دیتے ہیں کہ یہ قومی مفاد کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ مگر جب بم
گرتے ہیں تو وہ قوم اور مذہب نہیں دیکھتے۔ وہ صرف انسانوں کو مارتے ہیں۔ تاریخ
ہمیں بار بار یہی سبق دیتی ہے کہ جنگ کے نتیجے میں نفرت بڑھتی ہے، تباہی پھیلتی ہے
اور آنے والی نسلیں بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہتیں۔
ہیروشیما
اور ناگاساکی کی مثال آج بھی ہمارے سامنے ہے۔ ان شہروں کے لوگ آج بھی اس سانحے کو
یاد کرتے ہیں۔ کئی خاندان ایسے ہیں جن کے افراد نسلوں تک بیماریوں اور معذوریوں کا
شکار رہے۔ جنگ ختم ہو گئی مگر اس کے زخم باقی رہے۔
اسی
لیے جب ہم آج کے عالمی حالات کو دیکھتے ہیں تو ہمیں زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔
طاقت کے اظہار کے بجائے مکالمے اور سفارت کاری کا راستہ اپنانا ہی انسانیت کے لیے
بہتر ہے۔ دنیا کے رہنماؤں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جنگ کا آغاز تو آسان ہوتا ہے، مگر
اسے ختم کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
اگر
دنیا نے تاریخ سے سبق نہ سیکھا تو شاید مستقبل میں بھی کوئی شہر ہیروشیما اور
ناگاساکی جیسی تقدیر کا شکار ہو سکتا ہے۔ اور اس بار تباہی شاید اس سے بھی زیادہ
ہولناک ہو۔
ہمیں
یاد رکھنا چاہیے کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتی۔ یہ صرف نئی نفرتوں اور
نئے تنازعات کو جنم دیتی ہے۔ اصل کامیابی وہ ہے جس میں انسانیت محفوظ رہے، بچے
اسکول جا سکیں اور شہر امن کا گہوارہ بن سکیں۔
اگر دنیا نے تاریخ سے سبق نہ سیکھا تو شاید مستقبل میں بھی کوئی شہر ہیروشیما اور ناگاساکی جیسی تقدیر کا شکار ہو سکتا ہے۔ آج میناب کا وہ گرلز اسکول، جس کے ملبے تلے 165 سے زائد پھول جیسی بچیوں کے خواب دب گئے، پوری دنیا کے ضمیر کے لیے ایک سوال بن کر کھڑا ہے۔ یہ سوال ہم سب سے پوچھتا ہے کہ کیا طاقت اور انا کی اس دوڑ میں انسانیت کی کوئی قیمت باقی بھی ہے یا نہیں؟
میناب کی ان شہید بچیوں کی یاد ہمیں یہ بتاتی ہے کہ تاریخ کا پہیہ الٹا گھوم رہا ہے۔ اگر ہم نے آج اس ظلم پر آواز نہ اٹھائی اور سفارت کاری کے دروازے نہ کھولے، تو شاید کل کا سورج کسی اور شہر میں کسی اور اسکول پر تباہی کی داستان لکھ دے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا اس سوال کا جواب تلاش کرے، اس سے پہلے کہ تاریخ ایک بار پھر کسی شہر کو، اور کسی معصوم کے اسکول کو راکھ کے ڈھیر میں بدل دے۔
یہ خبر پڑھنا آسان ہے، مگر اسے محسوس کرنا ناممکن ہے۔ ہم اخباروں میں 165 کا ہندسہ پڑھ کر آگے گزر جاتے ہیں، لیکن ذرا تصور کریں، اگر ان ملبوں کے نیچے کسی کا اپنا بچہ، کسی کی اپنی بیٹی، جس نے صبح ناشتہ کرکے اسکول جانے کے لیے دروازے سے قدم باہر نکالا ہو، دبی ہوتی تو کیا ہوتا؟ پوری دنیا اجڑ جاتی۔ باپ کا سہارا چھن جاتا، ماں کی زندگی کا مقصد ختم ہو جاتا، اور گھر کی رونقیں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتیں۔
جنگ لڑنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر گولی جو وہ چلاتے ہیں، وہ کسی نہ کسی کے گھر کا دیا بجھا دیتی ہے۔ ہر میزائل جو فضا کو چیرتا ہے، وہ کسی نہ کسی ماں کے خوابوں کا خون کرتا ہے۔ کاش! یہ دنیا کے حکمران، یہ میزائل چلانے والے اور سیاست کے کھیل کھیلنے والے صرف ایک لمحے کے لیے خود کو اس باپ کی جگہ کھڑا کرکے دیکھیں جس نے اپنے بچے کا بستہ اسکول بھیجا تھا، مگر اب وہ اس بستے کو ملبے سے ڈھونڈ رہا ہے۔ اگر وہ صرف ایک بار اس درد کو محسوس کر لیں تو شاید دنیا میں کہیں کوئی میزائل نہ چلے۔"
جنگ
کی پہلی صبح اگر کسی اسکول کے ملبے سے بچوں کی کتابیں ملیں تو یہ پوری دنیا کے لیے
ایک سوال بن جاتا ہے۔ یہ سوال ہم سب سے پوچھتا ہے کہ کیا طاقت اور انا کی اس دوڑ
میں انسانیت کی کوئی قیمت باقی بھی ہے یا نہیں؟
شاید وقت آ گیا ہے کہ
دنیا اس سوال کا جواب تلاش کرے، اس سے پہلے کہ تاریخ ایک بار پھر کسی شہر کو راکھ
میں بدل دے۔
