صدقہ فطر اور فدیہ صوم 2026: اسلامی نظریاتی کونسل کا نیا نصاب جاری
رمضان المبارک کے اختتام کے قریب آتے
ہی ہر سال صدقہ فطر اور فدیہ صوم کے حوالے سے رہنمائی جاری کی جاتی ہے تاکہ مسلمان
اپنی عبادات کو درست طریقے سے مکمل کر سکیں۔ اسی سلسلے میں چیئرمین اسلامی
نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے رواں سال کے لیے صدقہ فطر اور
فدیہ صوم کا نصاب جاری کر دیا ہے۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے مطابق اس سال
کم از کم صدقہ فطر اور فدیہ صوم 300 روپے فی کس مقرر کیا گیا ہے۔ تاہم
صاحبِ استطاعت افراد کو اپنی مالی حیثیت کے مطابق زیادہ رقم ادا کرنے کی ترغیب دی
گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کی مدد ہو سکے۔
مختلف اجناس کے حساب سے صدقہ فطر
اسلامی تعلیمات کے مطابق صدقہ فطر
مختلف اجناس کے حساب سے ادا کیا جا سکتا ہے۔ اس سال کے لیے جاری کیے گئے نصاب کے
مطابق:
- گندم
کے حساب سے: 300 روپے
- جو کے
حساب سے: 1100 روپے
- کھجور
کے حساب سے: 1600 روپے
- کشمش کے
حساب سے: 3800 روپے
- منقی
کے حساب سے: 5400 روپے
- سرکاری
آٹے کے حساب سے: 200 روپے
چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا
کہ صدقہ فطر ہر مسلمان پر فرض ہے، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، بچہ ہو یا بڑا۔ یہ
فریضہ عید الفطر سے پہلے ادا کرنا ضروری ہے تاکہ مستحق افراد بھی عید کی خوشیوں
میں شریک ہو سکیں۔
فدیہ صوم کی
مقدار
وہ افراد جو بیماری یا کسی شرعی
مجبوری کی وجہ سے روزے رکھنے سے قاصر ہوں، ان کے لیے فدیہ صوم ادا کرنا لازم ہوتا
ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے مطابق 30
روزوں کے فدیے کی مقدار درج ذیل ہے:
- گندم
کے حساب سے: 9000 روپے
- جو کے
حساب سے: 33000 روپے
- کھجور
کے حساب سے: 48000 روپے
- کشمش
کے حساب سے: 114000 روپے
- منقی
کے حساب سے: 162000 روپے
- سرکاری
آٹے کے حساب سے: 6000 روپے
کفارہ روزہ
علامہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے مزید
وضاحت کی کہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر روزہ توڑ دے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ
وہ مسلسل 60 روزے رکھے یا پھر 60
مساکین کو دو وقت کا کھانا کھلائے۔
وزن کے حساب
سے شرعی نصاب
فقہی اصولوں کے مطابق صدقہ فطر کے لیے
اجناس کی مقدار بھی مقرر ہے:
- گندم: نصف صاع (تقریباً 2 کلوگرام احتیاطاً)
- جو،
کھجور اور منقی: ایک
صاع (تقریباً 4 کلوگرام احتیاطاً)
مستحقین کی
مدد کی ترغیب
چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے
صاحبِ استطاعت افراد کو تاکید کی ہے کہ وہ صرف کم از کم رقم پر اکتفا نہ کریں بلکہ
اپنی مالی حیثیت کے مطابق زیادہ صدقہ فطر ادا کریں تاکہ معاشرے کے غریب اور ضرورت
مند افراد کی بہتر مدد ہو سکے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پنجاب کے
علاوہ دیگر صوبوں کے رہائشی اپنے علاقوں میں اجناس کی قیمتوں کے مطابق صدقہ فطر
اور فدیہ صوم کی مقدار کا تعین کر سکتے ہیں۔
صدقہ فطر اور فدیہ صوم اسلام میں
معاشرتی ہمدردی اور مساوات کا خوبصورت نظام ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ عید کی خوشیوں
میں معاشرے کا ہر فرد شریک ہو سکے۔ اگر صاحبِ استطاعت افراد دل کھول کر صدقہ فطر
ادا کریں تو یہ نہ صرف عبادت ہے بلکہ معاشرتی انصاف اور بھائی چارے کو بھی فروغ
دیتا ہے۔
