ایران کی آبنائے ہرمز پر گرفت مضبوط، خطے میں کشیدگی میں اضافہ، عالمی معیشت کو خطرات

Dnnetwork

 
“Middle East War Threatens Global Oil”

Strait of Hormuz Crisis


دبئی / تہران: مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جہاں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں اور تہران کی جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ جنگ طویل ہو گئی تو اس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے خلیجی خطے میں کئی مقامات کو نشانہ بنایا جبکہ کویت، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ دبئی ایئرپورٹ کے قریب دو ڈرون گرنے کے نتیجے میں چار افراد زخمی ہوئے جبکہ ابوظبی کے پرانے ہوائی اڈے پر آگ لگنے کی اطلاع بھی سامنے آئی جس پر بعد میں قابو پا لیا گیا۔

عراق کے دارالحکومت بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب بھی چار ڈرون حملوں کی اطلاعات ہیں جنہیں عراقی فضائی دفاعی نظام نے مار گرایا۔ دوسری جانب عمان کی صلالہ بندرگاہ پر ڈرون حملوں میں ایندھن کے ٹینکوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد بندرگاہ کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی گئیں۔

ادھر آبنائے ہرمز اور اس کے قریب تین بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ان میں ایک تھائی لینڈ کا جہاز بھی شامل بتایا جا رہا ہے جو بھارت جا رہا تھا۔ تھائی حکام کے مطابق جہاز پر عملے کے 23 ارکان سوار تھے جن میں سے 20 افراد کو عمانی بحریہ نے بچا لیا جبکہ باقی افراد کی تلاش جاری ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز کے قریب ایران کی 16 بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو تباہ کر دیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر ان کی بندرگاہوں کو نشانہ بنایا گیا تو وہ خطے کی دیگر بندرگاہوں کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔

عالمی توانائی ایجنسی نے ممکنہ توانائی بحران کے پیش نظر 40 کروڑ بیرل تیل مارکیٹ میں جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھتی رہی تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں لبنان میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے جبکہ کئی عالمی رہنماؤں نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔