![]() |
دفاعِ وطن، ترجیحات اور ہماری جذباتی قوم |
آج کل سوشل میڈیا کے دور میں ایک عجیب سا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں، کسی بھی اسلامی ملک میں اگر کوئی مشکل پیش آئے، تو ہمارے کچھ ہم وطن فوراً جذباتی ہو کر یہ سوال اٹھانا شروع کر دیتے ہیں کہ "پاکستان خاموش کیوں ہے؟" یا "پاکستان مدد کے لیے آگے کیوں نہیں آتا؟" ان سوالات کو دیکھ کر کبھی ہنسی آتی ہے اور کبھی افسوس ہوتا ہے کہ ہماری اجتماعی سوچ کس قدر سطحی ہو چکی ہے۔
ہم اکثر بھول جاتے ہیں کہ بین الاقوامی تعلقات "خیرات" یا "جذباتیت" پر نہیں، بلکہ "مفادات" اور "حقیقت پسندی" پر استوار ہوتے ہیں۔
تیل کی دولت اور زمینی حقائق
ہم میں سے بہت سے لوگ سعودی عرب، ایران یا دیگر خلیجی ممالک کی شان و شوکت اور ان کی کھربوں ڈالر کی تیل کی آمدنی کو دیکھ کر مرعوب ہو جاتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ ان ممالک کے پاس بے پناہ وسائل ہیں، رئیل اسٹیٹ کے بڑے بڑے منصوبے ہیں اور معاشی طاقت ہے۔ لیکن کیا ہم نے کبھی یہ سوچا ہے کہ ان کی طاقت کا مرکز کیا ہے؟ ان ممالک کو اپنی سرحدوں کا وہ خوف لاحق نہیں جو پاکستان کو اپنے قیام کے پہلے دن سے درپیش رہا ہے۔
پاکستان کا "پیٹ پر پتھر" اور دفاعی ضرورت
پاکستان کا جغرافیہ ایسا ہے کہ ہمیں اپنے قیام کے پہلے دن سے ہی ایک ایسے دشمن کا سامنا ہے جو رقبے، آبادی اور وسائل میں ہم سے پانچ گنا بڑا ہے۔ جب دوسرے ممالک اپنی دولت سے عالی شان شہر بسا رہے تھے، تب پاکستان اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا تھا۔ ہم نے اپنے دفاع کو مضبوط رکھنے کے لیے اپنے پیٹ پر پتھر باندھے ہیں۔ سکولوں اور ہسپتالوں کے بجٹ سے حصہ کاٹ کر ایٹمی پروگرام اور جدید دفاعی نظام پر لگایا ہے تاکہ کوئی ہماری طرف میلی آنکھ سے نہ دیکھ سکے۔
یہ کیسی نادانی ہے کہ ہم دوسروں سے وہ توقعات وابستہ کر لیتے ہیں جن کا خود ہم نے اپنے لیے بھی کبھی عملی ثبوت نہیں دیا؟ کیا تاریخ کا مطالعہ کرنے والے یہ بتا سکتے ہیں کہ پاکستان کی 1965، 1971 یا کارگل کی جنگوں میں کسی بھی مسلم ملک نے براہِ راست عملی مدد کی؟ سفارتی حمایت اپنی جگہ، لیکن جب بات عملی میدان کی آتی ہے، تو ہر ملک کا پہلا مفاد اپنی ذات اور اپنی بقا ہوتا ہے۔
جذباتی ہونے کے بجائے حقیقت پسند بنیں
ہماری "چھوٹی کھوپڑیوں" میں یہ بات کیوں نہیں بیٹھتی کہ ایک کمزور معیشت کبھی بھی ایک مضبوط خارجہ پالیسی کی ضامن نہیں بن سکتی۔ ہم تب ہی دوسروں کی مدد کرنے کے قابل ہوں گے جب ہم اپنے گھر کو معاشی طور پر مستحکم کر لیں گے۔ جذبات سے نکل کر حقیقت کی دنیا میں آئیں؛ پاکستان کو آج مدد کی ضرورت ہے، نہ کہ دوسروں کے لیے اپنی رہی سہی طاقت ضائع کرنے کی۔
ہمیں اپنے اندر کے اس "گدھے" کو پہچاننے کی ضرورت ہے جو بغیر سوچے سمجھے چیخنا شروع کر دیتا ہے۔ حب الوطنی کا تقاضا یہ نہیں کہ ہم دوسروں کے معاملات میں اپنی کمزور پیٹھ کے ساتھ کود پڑیں، بلکہ تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے ملک کو اتنا طاقتور بنائیں کہ دنیا ہم سے مدد مانگے، نہ کہ ہم سے توقعات وابستہ کر کے طعنے دے۔
یاد رکھیں، جو قومیں جذبات میں فیصلے کرتی ہیں، وہ تاریخ کے کوڑے دان میں چلی جاتی ہیں۔ پاکستان کا دفاع ہماری پہلی ترجیح ہے، اور رہنی چاہیے۔
کافی ہو گیا! اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ان فرسودہ جذباتی نعروں اور یک طرفہ محبت کے سراب سے باہر نکل آئیں۔ دہائیوں سے ہم نے "مسلم امہ" کے نام پر اپنے وسائل اور اپنی جذباتی توانائی کو ان لوگوں پر ضائع کیا ہے جنہوں نے ہر مشکل وقت میں ہمیں پہچاننے سے بھی گریز کیا۔
یک طرفہ محبت کا انجام
ہم نے صدام حسین کے پوسٹر لگائے، ایران زندہ باد کے نعرے لگائے اور سعودی عرب کے لیے اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھیں، لیکن بدلے میں ہمیں کیا ملا؟ وہی ممالک آج اپنی ہر بڑی سرمایہ کاری اور دوستی کا پلڑا بھارت کے حق میں جھکائے بیٹھے ہیں۔ جب پاکستان آئی ایم ایف کے دفتروں کے باہر چند ارب ڈالر کے لیے قطار میں کھڑا ہوتا ہے، تو کیا ان "عیاش" مسلم ممالک کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ جس ملک نے انہیں اپنی عسکری مہارتیں دیں، جو ایٹمی طاقت بن کر ان کے لیے ایک تزویراتی (Strategic) ڈھال بنا، وہ آج معاشی سانس لینے کے لیے محتاج ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ ان ممالک کی دوستی "مفاداتی" ہے، جبکہ ہماری دوستی "جذباتی"۔ اور جب دوستی میں یہ توازن نہ ہو تو ذلت ہی مقدر بنتی ہے۔
مسلم دنیا کی تقسیم: ایک نیا تناظر
آج یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ جن ممالک کو ہم نے کبھی نظر انداز کیا یا جنہیں ہم سے دور سمجھا، جیسے ملائیشیا، انڈونیشیا اور ترکیہ، وہ نہ صرف معاشی طور پر مستحکم ہیں بلکہ ان کا رویہ پاکستان کے ساتھ کہیں زیادہ باوقار اور برادرانہ ہے۔ یہ ممالک اپنی معیشت کو بنیاد بنا کر کھڑے ہوئے ہیں، نہ کہ دوسروں کے سامنے کشکول لے کر۔
پاکستان اسلام کے نام پر بنا، اور یہ حقیقت ہے کہ آج بھی جتنی عقیدت، تنظیم اور اسلام کے ساتھ جذباتی وابستگی پاکستانی عوام میں ہے، وہ شاید ہی دنیا کے کسی اور ملک میں ہو۔ ہم نے اسلام کی خاطر اپنی شناخت قربان کی، لیکن اب ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ "اسلام کی خدمت" اور "سیاسی مفاداتی جنگ" دو الگ چیزیں ہیں۔ آج جن جنگوں کو "اسلامی جنگ" کہہ کر ہم سے حمایت مانگی جاتی ہے، وہ دراصل ان ممالک کی اپنی بادشاہتوں، اپنے اثر و رسوخ اور اپنے معاشی مفادات کی لڑائیاں ہیں۔
اسلام کی خدمت کا بیانیہ
پاکستان کے عوام کو اب اپنے آپ پر رحم کرنا ہوگا۔ وہ ملک جس نے ہمیں شناخت دی، آج اسے ہماری ضرورت ہے، نہ کہ ہمیں کسی دوسرے ملک کے ایجنڈے پر اپنی اینٹیں گنوانے کی۔ ہماری خارجہ پالیسی کا اصول اب ایک ہی ہونا چاہیے:
جو پاکستان کے کام آئے گا، پاکستان اسی کے کام آئے گا
یہ کوئی دشمنی نہیں، یہ خودداری ہے۔ ہم اب مزید کسی کی جنگوں میں "پراکسی" (Proxy) نہیں بنیں گے۔ ہم اپنی معیشت کو مضبوط کریں گے، اپنی داخلی خودمختاری کو اولین ترجیح دیں گے اور اپنے وسائل کو اپنے غریب عوام پر خرچ کریں گے۔
آخری بات
پاکستان اسلام کی آخری امید ضرور ہے، لیکن یہ تب ہی ممکن ہے جب پاکستان خود طاقتور، مستحکم اور خود مختار ہو۔ جو قومیں دوسروں کی جیبوں اور ارادوں پر پلتی ہیں، وہ تاریخ کے دھارے میں گم ہو جاتی ہیں۔ اب وقت ہے کہ ہم جذبات کے خمار سے نکل کر ایک ایسی قوم بنیں جو اپنی طاقت کے بل بوتے پر دنیا میں آنکھ ملا کر بات کرے۔
ہماری ہمدردی ان کے ساتھ ہے جو ہماری خود مختاری کا احترام کرتے ہیں۔ باقی، اپنے ڈرامے خود سنبھالیں!
