![]() |
|
15 مارچ، 2026
خطے میں ایک بار پھر پاک افغان سرحدوں پر کشیدگی نے سر اٹھایا ہے، جس نے نہ صرف دونوں ہمسایہ ممالک بلکہ پورے خطے کے امن پسند عوام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں پیش آنے والے واقعات اور دونوں جانب سے آنے والے بیانات نے صورتحال کو انتہائی حساس بنا دیا ہے۔
چین کا متحرک کردار
ایسی نازک صورتحال میں، چین نے ایک ذمہ دار ہمسایہ ملک کا کردار ادا کرتے ہوئے سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔ اس گفتگو کا بنیادی نکتہ یہ رہا کہ تنازعات کو طاقت کے بجائے مذاکرات اور مکالمے کے ذریعے حل کیا جائے۔
چینی وزیر خارجہ کا واضح موقف ہے کہ:
طاقت کا استعمال اختلافات کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔
کشیدگی خطے کے امن و استحکام کے لیے کسی صورت سودمند نہیں۔
چین دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت اور جنگ بندی کی راہ ہموار کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
افغان قیادت کا ردعمل
افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے چین کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ افغانستان کسی بھی ملک سے فوجی تصادم نہیں چاہتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغانستان خطے میں بدامنی نہیں بلکہ امن کا خواہاں ہے اور وہ اپنی سرزمین کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا۔
پاکستان کا سخت موقف
دوسری جانب، پاکستان کی جانب سے صورتحال پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے افغان طالبان کے ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ:
"افغان حکومت نے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنا کر سرخ لکیر عبور کر لی ہے۔"
صدر زرداری کا کہنا ہے کہ دہشت گرد گروہوں کو پناہ گاہیں فراہم کرنا اور پاکستان کے شہری علاقوں پر حملے کرنا اپنی ذمہ داریوں سے فرار ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہماری مسلح افواج اور سکیورٹی ادارے ملک کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
آئی ایس پی آر اور وزارت اطلاعات کی وضاحت
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) کے مطابق، 13 مارچ کو افغان طالبان کی جانب سے کیے گئے ڈرون حملوں کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔ ان ڈرونز کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے مار گرایا گیا، تاہم ان کے ملبے سے کوئٹہ، کوہاٹ اور راولپنڈی میں شہری زخمی ہوئے۔
مزید برآں، وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان کے پاکستانی پوسٹوں پر قبضے کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے اسے "بے بنیاد پروپیگنڈا" قرار دیا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ یہ دعوے محض افغان عوام کو گمراہ کرنے اور جھوٹے بیانیے کو فروغ دینے کی کوشش ہیں۔
نتیجہ: آگے کا راستہ کیا ہے؟
یہ صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ جذباتیت کے بجائے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کیا جائے۔ چین کی ثالثی ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن پائیدار امن تب ہی ممکن ہے جب دونوں ممالک ایک دوسرے کے خدشات کا احترام کریں اور سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ عملی اقدامات کریں۔
خطے کو مزید جنگوں کی نہیں، بلکہ امن، تجارت اور ترقی کی ضرورت ہے۔ کیا دونوں ممالک اس نازک موڑ پر تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کی میز پر آئیں گے؟ یہ وقت ہی بتائے گا۔
