![]() |
پاکستان
میں بڑھتے ہوئے عدالتی اخراجات
پاکستان میں ایک عام
شہری جب انصاف کی امید لیے عدالت کا رخ کرتا ہے، تو اسے سب سے پہلے جس دیوار کا
سامنا کرنا پڑتا ہے وہ "قانونی اخراجات" ہیں۔ حال ہی میں ہائیکورٹ میں
پیش آنے والے ایک واقعے نے اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے جہاں ایک سائل تین
کیسز کی فائلنگ کے لیے 5 ہزار روپے تھما کر کہتا ہے کہ "باقی تم رکھ
لینا"، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ رقم تو سرکاری ٹکٹوں کی قیمت بھی پوری نہیں
کرتی۔
ٹوکن اور ٹکٹ سسٹم: اخراجات کی دلدل
ایک وکیل یا کلرک جب
سائل سے پیسے مانگتا ہے تو وہ اپنی جیب کے لیے نہیں بلکہ اس فرسودہ نظام کے لیے
ہوتے ہیں جہاں ہر قدم پر ایک نیا ٹکٹ اور فیس کھڑی ہے:
- وکالت
نامہ: ابتدائی کارروائی کے لیے وکالت نامہ اور اس کے ٹکٹ۔
- بیانِ
حلفی: 300 روپے کا اسٹامپ یا ٹکٹ۔
- درخواست
و اپیل:
ہر سول کیس، اپیل یا استغاثہ پر
500 روپے کے ٹکٹ۔
- نقلِ
ڈگری: ایک عام ڈگری کی نقل کے لیے 500 روپے کے ٹکٹ، اور اگر
صفحات دو ہوں تو 1000 روپے۔
- طلبانہ
اور بائیو میٹرک:
طلبی کے لیے ٹکٹ اور اب جدید دور
کی "بائیو میٹرک فیس"۔
اگر ان سب کو جمع کیا
جائے تو ایک سادہ درخواست یا دعویٰ تیار کروانے کی ابتدائی لاگت 8 ہزار روپے سے کم نہیں ہوتی۔ یہ
نظام انصاف فراہم کرنے کے بجائے شہریوں کو عدالتوں سے دور کرنے کا ذریعہ بنتا جا
رہا ہے۔
عالمی شرمندگی: رول آف لاء انڈیکس 2025
یہی وہ وجوہات ہیں جن
کی بنا پر پاکستان عالمی سطح پر قانون کی حکمرانی میں مسلسل پیچھے جا رہا ہے۔ ورلڈ
جسٹس پروجیکٹ (WJP) 2025 کی
رپورٹ کے مطابق:
- عالمی
رینک: پاکستان 143 ممالک میں 130ویں نمبر پر آ چکا ہے (مجموعی سکور
میں 2.3% کمی)۔
- علاقائی
موازنہ:
جنوبی ایشیا کے 6 ممالک میں
پاکستان 5ویں نمبر پر ہے۔
- بھارت
کا مقام:
ہمارا ہمسایہ ملک بھارت اس فہرست
میں 79ویں نمبر پر ہے اور جنوبی ایشیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔
پاکستان کی یہ تنزلی
ثابت کرتی ہے کہ ہمارے ہاں عدالتی آزادی، فیصلوں پر عمل درآمد اور سستے انصاف کی
فراہمی میں سنگین نقائص موجود ہیں۔
آئینی حقوق بمقابلہ زمینی حقائق
پاکستان کا آئین ہر
شہری کو تحفظ کی ضمانت دیتا ہے:
- آرٹیکل
4: ہر شہری کا حق ہے کہ اس کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک ہو۔
- آرٹیکل
10-A: ہر شخص کو "منصفانہ ٹرائل" (Fair Trial) کا حق حاصل ہے۔
لیکن جب انصاف کا حصول
اتنا مہنگا ہو جائے کہ غریب آدمی اپنی فائل ہی تیار نہ کروا سکے، تو یہ آئینی حقوق
محض کتابی باتیں بن کر رہ جاتے ہیں۔ ایسا تاثر ابھر رہا ہے کہ فیسوں میں اضافہ
دراصل مقدمات کی تعداد کم کرنے کی ایک منفی پالیسی ہے۔
حل: ڈیجیٹلائزیشن اور جدید اصلاحات
پاکستان کے ریونیو
ڈپارٹمنٹس جیسے FBR، PRA اور کسٹمز 2014 سے
کامیابی کے ساتھ آن لائن فائلنگ اور ای-پیمنٹ سسٹم چلا رہے ہیں۔ اگر ٹیکس وصولی آن
لائن ہو سکتی ہے تو انصاف کیوں نہیں؟
ہماری عدالتوں کو درج
ذیل تبدیلیاں لانی ہوں گی:
- آن
لائن ای-فائلنگ:
وکیل اپنے دفتر سے کیس فائل کرے
اور فیس آن لائن ادا کی جائے۔
- ڈیجیٹل
کیس کاپیز:
نقل برانچ کے چکروں اور مہنگے
ٹکٹوں کے بجائے آرڈرز کی سافٹ کاپی آن لائن دستیاب ہو۔
- فکسڈ
ٹائم مینجمنٹ:
عالمی معیار کے مطابق ہر بحث کے
لیے وقت مقرر ہو تاکہ سائل کا پورا دن ضائع نہ ہو۔
- ون
ونڈو آپریشن:
فائلنگ سے بائیو میٹرک تک تمام
مراحل ایک ہی جگہ مکمل ہوں۔
·
ای-کاپی (Online Case Copy): سائلین کو
تصدیق شدہ نقول کے لیے کچہریوں کے چکر نہ کاٹنے پڑیں۔
انصاف کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، اسے "کاروبار" یا "کمائی کا ذریعہ" نہیں بننا چاہیے۔ اگر ہم نے آج اپنے عدالتی نظام کو جدید، سستا اور شفاف نہ بنایا، تو عالمی انڈیکس میں ہماری پوزیشن مزید گرے گی اور عوام کا رہا سہا اعتماد بھی ختم ہو جائے گا۔
وقت آگیا ہے کہ ہم فائل
سے نکل کر ڈیجیٹل انصاف کی طرف بڑھیں!
