رینالہ خورد میں وزیراعلیٰ مانیٹرنگ
ٹیم کا جعلی ممبر بن کر اسسٹنٹ کمشنر کو بریفنگ پر مجبور کرنے والا نوسرباز فیصل
محمود اور اس کی ساتھی گرفتار۔ ہمارے سرکاری نظام کی کمزوریوں پر ایک چشم کشا
بلاگ۔
مہان فراڈیا: 5 ماہ میں 2 کروڑ کا چونا! وزیراعلیٰ مانیٹرنگ ٹیم کے جعلی
کارندے کی ہوش ربا داستان
کہتے ہیں کہ قانون کے ہاتھ لمبے ہوتے
ہیں، لیکن اگر نظام کمزور ہو تو نوسربازوں کے حوصلے آسمان کو چھونے لگتے ہیں۔
رینالہ خورد اور دیپالپور میں اسسٹنٹ کمشنر کو چکر دینے والے جس جعلی سرکاری
کارندے فیصل محمود کو حال ہی میں گرفتار کیا گیا تھا، اس کے مرید انکشافات نے پورے
پنجاب کے سرکاری حلقوں میں زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ یہ محض پروٹوکول کا شوقین کوئی
عام نوسرباز نہیں تھا، بلکہ ایک "مہان فراڈیا" نکلا جس نے صرف 5 ماہ کے
مختصر عرصے میں سرکاری نظام کی ناک کے نیچے 2
کروڑ روپے سے زائد کا چونا لگا دیا۔
موٹرسائیکل
سے کروڑوں کی
"KIA Sportage" تک
کا سفر
ذرائع کے مطابق دیپالپور کے محلہ
دلاور کوٹ کا رہائشی فیصل محمود لوہار چند ماہ قبل تک ایک عام موٹرسائیکل پر سفر
کرتا تھا۔ لیکن پھر اچانک اس کی قسمت ایسی چمکی کہ وہ کروڑوں روپے مالیت کی قیمتی KIA Sportage گاڑی میں گھومنے لگا۔ مڈل کلاس پس منظر رکھنے والے ایک شخص کی
راتوں رات اس کایا پلٹ نے خفیہ اداروں (اسپیشل برانچ) کو چوکنا کر دیا۔ جب اس کی
خفیہ مانیٹرنگ اور سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا، تو بڑے پیمانے پر مالی بدعنوانی،
بلیک میلنگ اور جعلسازی کی ایسی داستان سامنے آئی جس نے سب کو دنگ کر دیا۔
5 اضلاع میں پھیلا ہوا بلیک میلنگ نیٹ ورک
تحقیقات کے مطابق فیصل محمود لوہار نے
صرف دیپالپور یا رینالہ خورد تک ہی خود کو محدود نہیں رکھا تھا، بلکہ اس نے
اوکاڑہ، پاکپتن، عارفوالا اور دیگر قریبی اضلاع میں بھی اپنا ایک منظم نیٹ ورک
قائم کر رکھا تھا۔
وہ خود کو وزیراعلیٰ پنجاب کی
مانیٹرنگ ٹیم کا بااثر نمائندہ ظاہر کر کے مختلف سرکاری دفاتر پر
"چھاپے" مارتا تھا۔ وہاں کے افسران، بلدیاتی اداروں کے اہلکاروں اور خاص
طور پر ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکیداروں کو انکوائریوں، معطلیوں اور بلیک لسٹ کرنے
کا خوف دلا کر بھاری رقوم وصول کرتا تھا۔ حیرت انگیز طور پر متعدد بڑے ٹھیکیدار
بدنامی اور کام رکنے کے خوف سے اسے باقاعدگی کے ساتھ ماہانہ بھتہ ادا کر
رہے تھے۔
جب افسران
خود نوسرباز کو پروٹوکول دیتے رہے
اس کہانی کا سب سے افسوسناک اور چشم
کشا پہلو یہ ہے کہ یہ مہان فراڈیا جہاں بھی جاتا، وہاں کے متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز (ACs) اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس آف پولیس
(DSPs) اسے باقاعدہ سرکاری مہمان کا درجہ
دیتے اور وی آئی پی پروٹوکول فراہم کرتے رہے۔ افسران کے اسی رویے اور پروٹوکول کی
وجہ سے کسی چھوٹے ملازم یا ٹھیکیدار کو کبھی اس کی اصل حیثیت پر شک کرنے کی جرات
ہی نہیں ہوئی۔ جیسا کہ تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح گریڈ 17 کی اسسٹنٹ کمشنر
رینالہ خورد نہایت ادب سے ہاتھ باندھے اس کے سامنے کھڑی ہیں۔
2 کروڑ تو صرف شروعات ہے، اصل رقم کہیں زیادہ ہے!
اب تک کی تحقیقات میں دو کروڑ روپے سے
زائد کی رقم کا ریکارڈ سامنے آ چکا ہے جو اس نے افسران اور ٹھیکیداروں سے بلیک میل
کر کے بٹوری۔ تاہم، اندرونی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ملزم کی جانب سے لوٹی گئی اصل
رقم اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ کئی ہائی پروفائل افسران، بلدیاتی حکام
اور ٹھیکیدار بدنامی اور نوکری بچانے کے خوف سے تاحال سامنے آنے اور پولیس کو بیان
دینے سے کترا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ ملزم اس وقت ت مطابق حوالات میں بند ہے اور اس کی نوسرباز خاتون ساتھی
حدیقہ مشتاق بھی پولیس کی حراست میں ہے۔
روسی ادب کا
شاہکار اور ہمارے نظام کی عکاسی: انتون چیخوف کی کہانی سے موازنہ
پنجاب کا یہ ہوش ربا واقعہ ہمیں روسی
ادب کے عظیم افسانہ نگار انتون چیخوف
(Anton Chekhov) کی لافانی مختصر کہانی "ایک کلرک کی موت"
(The Death of a Government Clerk)
کی یاد دلاتا ہے۔
چیخوف کی کہانی میں ایک چھوٹا سرکاری
کلرک تھیٹر میں ڈراما دیکھتے ہوئے غلطی سے اپنے سے اعلیٰ عہدے کے سرکاری جنرل کے
گنجے سر پر چھینک دیتا ہے۔ اگرچہ جنرل اسے نظر انداز کر دیتا ہے، لیکن وہ کلرک
"سرکاری رعب" اور "افسر شاہی کے خوف" کے نفسیاتی دباؤ میں اس
حد تک مبتلا ہو جاتا ہے کہ وہ بار بار جنرل کے دفتر جا کر معافیاں مانگتا ہے۔ جنرل
آخر کار اس کی روز روز کی معافیوں سے تنگ آ کر اسے غصے میں جھڑک دیتا ہے۔ وہ کلرک
اس خوف اور صدمے کو برداشت نہیں کر پاتا، اپنے گھر لوٹتا ہے، صوفے پر لیٹتا ہے اور
خوف کے مارے اس کی روح پرواز کر جاتی ہے۔
تبصرہ و موازنہ:
چیخوف کی کہانی جہاں افسر شاہی کے
اندھے خوف اور نظام کے رعب تلے دبے ہوئے انسان کی نفسیات کو بیان کرتی ہے، وہیں
دیپالپور کا یہ واقعہ اس تصویر کا دوسرا رخ دکھاتا ہے۔ ہمارے ہاں نوسرباز اور
فراڈیے اچھی طرح جانتے ہیں کہ سرکاری افسران "اوپر کے رعب" اور
"وزیراعلیٰ ہاؤس" کے نام سے کس حد تک سہم جاتے ہیں۔
چیخوف کی کہانی کا کلرک تو حقیقی افسر
کے خوف سے مر گیا تھا، لیکن ہمارے معاشرے کے یہ 'فیصل محمود لوہار' جیسے جعلساز
اسی "افسری رعب" اور "خوف کے نظام" کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کروڑ
پتی بن جاتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر وہ خود کو کسی بڑے عہدے دار کا بندہ ظاہر
کریں گے، تو نیچے موجود افسران اور ٹھیکیدار کسی تصدیق یا نوٹیفکیشن مانگنے کی
جرات کرنے کے بجائے، خوف کے مارے گھٹنے ٹیک دیں گے۔
یہ واقعہ ہمیں یہ سبق سکھاتا ہے کہ جب
تک ہم سرکاری نظام میں "شخصیات کے اندھے رعب" کو ختم کر کے
"سسٹمیٹک تصدیق" اور قواعد و ضوابط کو رائج نہیں کریں گے، تب تک
موٹرسائیکل پر گھومنے والے نوسرباز ہمارے اسسٹنٹ کمشنرز اور ڈی ایس پیز کو انگلیوں
پر نچا کر کروڑوں روپے لوٹتے رہیں گے۔