سسکتے عوام، دم توڑتی امیدیں اور خوف کا راج

Dnnetwork

 


سسکتے عوام، دم توڑتی امیدیں اور خوف کا راج


کسی بھی زندہ اور مہذب معاشرے کی بقا، ترقی اور خوشحالی کا دارومدار بنیادی طور پر دو اہم ترین ستونوں پر ہوتا ہے
: صحت اور انصاف۔ یہ دو ایسی بنیادی ضرورتیں ہیں جن پر کسی بھی ریاست کو سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اگر کوئی قوم صحت مند نہیں ہوگی اور اسے تحفظ و انصاف کا احساس نہیں ہوگا، تو وہ کبھی آگے نہیں بڑھ سکتی۔ لیکن بدقسمتی سے، ہمارے ملک میں آج یہی دو شعبے سب سے بڑے بحران اور مسائل کا گڑھ بن چکے ہیں۔ ایک عام شہری کے لیے صحت کی سہولیات کا حصول اور قانون کے دروازے پر دستک دینا، دونوں ہی زندگی کا سب سے بڑا عذاب بن چکے ہیں۔

اگر آپ کو اس ملک کی تلخ ترین حقیقت اور عوام کی بے بسی کا اندازہ لگانا ہو، تو صرف ایک دن کے لیے کسی بھی بڑے سرکاری ہسپتال کی ایمرجنسی وارڈ کا رخ کر لیں۔ وہاں آپ کو انسانیت سسکتی، بلکتی اور لاچار نظر آئے گی۔ ہسپتالوں کے کاریڈورز، برآمدے اور لان ایسے مریضوں سے بھرے پڑے ہیں جن کے پاس نہ تو ادویات خریدنے کے پیسے ہیں اور نہ ہی مہنگے ٹیسٹوں کے اخراجات اٹھانے کے وسائل۔ ہزاروں لوگ روزانہ سفارش، پیسوں کی کمی اور انتظامیہ کے ناروا سلوک کی وجہ سے علاج کی حسرت دل میں لیے دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ غریب کے لیے یہاں کوئی پرسانِ حال نہیں۔ حالیہ دنوں میں ہسپتالوں سے سامنے آنے والے دل دہلا دینے والے واقعات، جہاں ایک مجبور باپ کو سیکیورٹی گارڈز کے رویے کی وجہ سے تیسری منزل سے چھلانگ لگانی پڑی، اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہمارا ہیلتھ سسٹم کس حد تک بے حسی کا شکار ہو چکا ہے۔

دوسری طرف، اگر ہم قانون اور انصاف کے نظام پر نظر ڈالیں تو صورتحال اس سے بھی زیادہ ابتر نظر آتی ہے۔ تھانوں اور عدالتوں کا چکر کاٹنا کسی جہنم کے سفر سے کم نہیں ہے۔ ایک مظلوم انسان جب انصاف کی امید لیے قانون کے پاس جاتا ہے، تو اسے برسوں کی لامتناہی تاریخیں، بھاری فیسیں اور تذلیل کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ انصاف کا حصول یہاں ایک ایسا خواب بن چکا ہے جس کی تعبیر پانے میں انسان کی پوری زندگی، جمع پونجی اور سفید پوشی کا جنازہ نکل جاتا ہے۔ طاقتور کے لیے قانون موم کی ناک ہے اور کمزور کے لیے ایک ایسا لوہے کا چنا جسے چباتے چباتے اس کی نسلیں ختم ہو جاتی ہیں۔

آج سچی بات تو یہ ہے کہ ایک عام اور حساس شہری کے طور پر، مجھے ہسپتال جانے سے یا کسی قانونی معاملے کے لیے کچہری اور عدالت کا رخ کرنے سے شدید خوف آتا ہے۔ دل کانپ اٹھتا ہے یہ سوچ کر کہ اگر کبھی کوئی بڑی بیماری یا ایمرجنسی آ گئی تو اس بدانتظامی اور وسائل کی کمی کا سامنا کیسے کریں گے؟ اور اگر کبھی کسی نے جھوٹا مقدمہ کر دیا یا انصاف کی ضرورت پڑ گئی، تو اس فرسودہ نظام کے چکروں سے جان کیسے چھوٹے گی؟ یہ خوف صرف میرا نہیں، بلکہ اس ملک کے کروڑوں عوام کا ہے جو روزانہ اس ذہنی کرب اور خوف کے سائے میں جینے پر مجبور ہیں۔

جب ایک ملک میں بیماری کا بروقت علاج نہ ملے اور مظلوم کو وقت پر انصاف نہ دیا جائے، تو وہاں مایوسی کا اندھیرا گہرا ہونے لگتا ہے۔ لوگ اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل سے مکمل ناامید ہو چکے ہیں۔ روز بروز بڑھتی ہوئی یہ بے حسی پورے معاشرے کو تباہی کی طرف دھکیل رہی ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ مقتدر حلقے، حکومت اور انتظامیہ ہوش کے ناخن لیں۔ ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز کو واقعی "ایمرجنسی" کے اصولوں پر چلایا جائے اور سیکیورٹی سے لے کر طبی عملے تک سب کو انسانیت کا احترام سکھایا جائے۔ عدالتوں میں اصلاحات لائی جائیں تاکہ غریب کو سستا اور فوری انصاف مل سکے۔ ہمیں ایک ایسا نظام چاہیے جہاں کسی شہری کو خوف کے سائے میں نہ جینا پڑے، جہاں ہسپتال اور عدالتیں عام آدمی کے لیے پناہ گاہ بنیں، نہ کہ خوف اور دہشت کا نشان۔