![]() |
| ایک ماں کی تکلیف |
کبھی
کبھی ایک واقعہ پورے معاشرے کا آئینہ بن جاتا ہے۔ چیلیانوالہ کے ایک سرکاری ہسپتال
میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ بھی ایسا ہی ایک آئینہ ہے—جس میں ہمیں اپنی اجتماعی
بے حسی، نظام کی ناکامی، اور غربت کی بے بسی ایک ساتھ نظر آتی ہے۔
ایک
حاملہ خاتون، جو امیدوں کے ساتھ ہسپتال پہنچی تھی، اپنے پیٹ میں ایک نئی زندگی
لیے، واپس گھر لوٹ گئی—مگر اس بار اس کے اندر زندگی نہیں، ایک مردہ بچہ تھا۔ اور
اس سے بھی زیادہ دردناک بات یہ کہ وہ اس لیے واپس گئی کیونکہ اس کے پاس پیسے نہیں
تھے۔
یہ
صرف ایک عورت کی کہانی نہیں، یہ پاکستان کے لاکھوں غریبوں کی کہانی ہے۔
امید سے مایوسی تک کا سفر
کہا
جاتا ہے کہ ماں بننا عورت کی زندگی کا سب سے خوبصورت لمحہ ہوتا ہے۔ وہ اپنے بچے کے
لیے خواب بُنتی ہے، نام سوچتی ہے، مستقبل کے منصوبے بناتی ہے۔ مگر جب یہی امید ایک
دم ٹوٹ جائے، اور وہ بھی اس وجہ سے کہ آپ کے پاس پیسے نہیں، تو یہ صرف ایک سانحہ
نہیں بلکہ ظلم ہے۔
اس
خاتون کو پہلے پرائیویٹ الٹراساؤنڈ کروانے کے لیے بھیجا گیا۔ چار ہزار روپے—جو
شاید کسی امیر کے لیے معمولی رقم ہو، مگر ایک غریب کے لیے کئی دنوں کی محنت کا
نتیجہ ہوتی ہے۔ اس کے بعد اسے بتایا گیا کہ اس کے پیٹ میں چھ ماہ کا بچہ مردہ ہے۔
یہ
خبر ہی کسی بھی ماں کے لیے قیامت سے کم نہیں ہوتی۔ مگر اصل امتحان ابھی باقی تھا۔
اسے
کہا گیا کہ اگر ڈلیوری کروانی ہے تو پندرہ ہزار روپے دینے ہوں گے۔ ایک سرکاری
ہسپتال میں! وہ ہسپتال جو غریبوں کی آخری امید ہوتے ہیں۔
اور
پھر وہ عورت خاموشی سے گھر واپس چلی گئی، یہ کہتے ہوئے کہ
"اگر
میرے پاس پیسے ہوتے تو میں سرکاری ہسپتال کیوں آتی؟"
یہ
ایک جملہ نہیں، ایک سوال ہے—ہم سب کے لیے۔
پاکستان کا صحت کا نظام: ایک تلخ حقیقت
اعداد
و شمار ہمیں بتاتے ہیں کہ پاکستان کا صحت کا نظام دنیا کے پسماندہ ترین نظاموں میں
شمار ہوتا ہے۔
ہیلتھ
کیئر ایکسیس اینڈ کوالٹی (HAQ) انڈیکس میں پاکستان 195
ممالک میں سے 124ویں نمبر پر ہے۔
اسی
طرح سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ گولز (SDGs) میں بھی پاکستان 164ویں
نمبر پر ہے۔
یہ
صرف نمبرز نہیں ہیں—یہ ان لوگوں کی زندگیاں ہیں جو وقت پر علاج نہ ملنے کی وجہ سے
مر جاتے ہیں۔
حکومت
صحت کے شعبے پر جی ڈی پی کا 3 فیصد سے بھی کم خرچ کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب
سرمایہ کاری ہی نہیں ہوگی تو سہولیات کہاں سے آئیں گی؟
ماں
اور بچے کی زندگیاں کیوں سستی ہیں؟
پاکستان
میں ہر سال ہزاروں خواتین دورانِ حمل یا زچگی کے دوران جان کی بازی ہار جاتی ہیں۔
بچوں کی اموات کی شرح بھی تشویشناک حد تک زیادہ ہے۔
:وجوہات واضح ہیں
سرکاری
ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان
ڈاکٹروں
اور عملے کی غیر ذمہ داری
غیر
قانونی فیسوں کا مطالبہ
احتساب
کے نظام کا کمزور ہونا
جب
ایک ماں کو اپنے مردہ بچے کے ساتھ گھر بھیج دیا جائے، تو یہ صرف طبی غفلت نہیں
بلکہ انسانیت کا قتل ہے۔
یہ
صرف ایک واقعہ نہیں—ایک نظام کی ناکامی ہے
ہم
اکثر ایسے واقعات کو سن کر افسوس کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہیں، اور پھر
بھول جاتے ہیں۔ مگر کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ یہ مسئلہ بار بار کیوں ہوتا ہے؟
:کیونکہ
قانون
پر عملدرآمد نہیں ہوتا
کرپشن
عام ہے
غریب
کی آواز کوئی نہیں سنتا
اور
سب سے بڑھ کر، ہم بحیثیت قوم خاموش رہتے ہیں
یہ
خاموشی ہی سب سے بڑا جرم ہے۔
حکومت
اور اداروں کی ذمہ داری
یہ
وقت ہے کہ حکومت صرف بیانات دینے کے بجائے عملی اقدامات کرے۔
:ضروری
اقدامات میں شامل ہونا چاہیے
اس
واقعے کی فوری اور شفاف انکوائری
ذمہ
دار افراد کے خلاف سخت کارروائی
سرکاری
ہسپتالوں میں مکمل مفت سہولیات کی فراہمی
غریب
مریضوں کے لیے ایمرجنسی فنڈ کا قیام
ہسپتالوں
میں نگرانی اور شکایت کا مؤثر نظام
اگر
آج بھی ہم نے اصلاح نہ کی تو کل ایسے واقعات مزید بڑھیں گے۔
سوال
صرف صحت کا نہیں، انسانیت کا ہے
یہ
مسئلہ صرف ہسپتال یا ڈاکٹر تک محدود نہیں ہے۔ یہ ہمارے پورے معاشرتی ڈھانچے کا
مسئلہ ہے۔
کیا
ہم واقعی ایک ایسی قوم بن چکے ہیں جہاں:
غریب
کا کوئی حق نہیں؟
ایک
ماں کی تکلیف کی کوئی قیمت نہیں؟
اور
انسانیت صرف کتابوں میں رہ گئی ہے؟
یہ
سوال ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا۔
ایک چیخ جو سننی ضروری ہے
وہ
عورت شاید اب بھی اپنے گھر میں بیٹھی ہوگی، درد میں، خاموشی میں، اور بے بسی میں۔
اس کی
چیخ شاید کسی کو سنائی نہ دے، مگر یہ چیخ ہمارے نظام، ہمارے ضمیر، اور ہماری
انسانیت کو پکار رہی ہے۔
اگر
آج ہم نے اس آواز کو نظر انداز کیا، تو کل یہ آواز ایک طوفان بن جائے گی۔
یہ
وقت ہے جاگنے کا، بولنے کا، اور تبدیلی لانے کا۔
ورنہ
تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔
یا
اللہ، اس ملک کے غریبوں پر رحم فرما، اور ہمیں وہ دل دے جو دوسروں کے درد کو محسوس
کر سکے۔
