بازار کی گلی تنگ تھی، مگر شور بہت تھا۔
سبزی والوں
کی آوازیں، رکشوں کے ہارن، اور لوگوں کی بحثیں—سب کچھ ایک ساتھ چل رہا تھا۔ اسی
شور کے بیچ ایک چھوٹی سی دکان تھی، جس کے اوپر پرانا سا بورڈ لگا تھا:
"حاجی سلیم گوشت فروش"
حاجی سلیم
پچاس سال کا آدمی تھا۔ چہرے پر جھریاں، آنکھوں میں تھکن، اور دل میں ہمیشہ ایک
انجانا خوف۔ وہ ہر صبح فجر کے بعد دکان کھولتا، گوشت سجاتا، اور اللہ سے دعا کرتا:
"یا اللہ… آج کا دن سکون
سے گزر جائے۔"
مگر سکون
اس کی قسمت میں کم ہی تھا۔
![]() |
| مفت گوشت |
دوپہر کے وقت ایک پولیس والا دکان میں داخل ہوا۔ اس کے پیچھے ایک سادہ کپڑوں والا آدمی بھی تھا۔ دونوں کے چہرے پر وہی رعب تھا، جو طاقت سے آتا ہے، حق سے نہیں۔
"حاجی… تین کلو گوشت
نکالو۔"
پولیس والے
نے حکم دیا، درخواست نہیں۔
حاجی نے چپ
چاپ گوشت تولنا شروع کیا۔ ہاتھ ہلکے کانپ رہے تھے۔
گاہک ایک
طرف کھڑا سب دیکھ رہا تھا۔
"حساب میں نہ لکھنا۔"
سادہ کپڑوں
والے نے آہستہ سے کہا۔
حاجی نے سر
ہلا دیا۔
وہ جانتا
تھا—انکار کا مطلب جرمانہ، چھاپہ، یا دکان بند۔
شام کو جب
وہ گھر پہنچا، تو اس کی بیوی نے تھیلی میں رکھے پیسے گنے۔
پیسے ہمیشہ
کم ہوتے جا رہے تھے۔
"یہ کیا ہو رہا ہے سلیم؟"
بیوی نے پریشانی
سے پوچھا۔
"خرچہ بڑھ رہا ہے، آمدنی
کم ہو رہی ہے۔"
حاجی نے
نظریں جھکا لیں۔
"کچھ نہیں… بس کاروبار کم
ہے۔"
مگر سچ یہ
تھا کہ کاروبار کم نہیں تھا—
مفت خور زیادہ
تھے۔
ہر دوسرے
دن کوئی نہ کوئی آتا۔
کبھی پولیس،
کبھی کسی افسر کا آدمی، کبھی کسی سیاستدان کا چیلہ۔
سب ایک ہی
جملہ کہتے:
"دو کلو رکھ دو… جلدی۔"
پیسے کسی
نے نہیں دیے۔
ایک رات
دکان بند کرتے وقت حاجی سلیم اکیلا بیٹھا تھا۔
دکان میں
ہلکی زرد روشنی جل رہی تھی۔
سامنے
ترازو رکھا تھا—خالی۔
اس نے حساب
لگایا۔
پورے ہفتے
کی محنت کے بعد بھی ہاتھ میں کچھ نہیں بچا تھا۔
اسی لمحے
اس کے دل میں ایک تلخ خیال آیا۔
"یہ لوگ عزت سے نہیں لیتے…
تو میں بھی
ان کو عزت والا گوشت کیوں دوں؟"
یہ سوچ غلط
تھی، مگر اس کی مجبوری اس سے بھی بڑی تھی۔
اگلے دن سے
اس نے ایک الگ تھیلی رکھنا شروع کر دی۔
جب عام
گاہک آتے، تو وہ اچھا گوشت دیتا۔
اور جب وہی
طاقتور لوگ آتے، تو وہ خاموشی سے دوسری تھیلی کھول دیتا۔
کچھ دن
گزرے۔
پھر ایک
صبح بازار میں شور مچ گیا۔
"قصاب پکڑا گیا!"
"کتے کا گوشت ملا ہے!"
پولیس کی
گاڑی دکان کے سامنے رکی۔
لوگ جمع ہو
گئے۔
حاجی سلیم
کو ہتھکڑی لگا دی گئی۔
کسی نے اس
کی بات نہیں سنی۔
کسی نے اس
کی مجبوری نہیں پوچھی۔
چند دن بعد
وہ عدالت میں کھڑا تھا۔
جج صاحب نے سخت آواز میں پوچھا:
"کیا تمہارے پاس سے کتے
کا گوشت ملا؟"
حاجی سلیم
نے آہستہ سے کہا:
"جی… ملا تھا۔"
کمرہ خاموش
ہوگیا۔
جج صاحب نے دوبارہ پوچھا:
"کس کو کھلاتے تھے تم یہ
گوشت؟"
حاجی سلیم
نے سر اٹھایا۔
اس کی
آنکھوں میں آنسو نہیں تھے—صرف تھکن تھی۔
"انسانوں کو نہیں جناب…
میں نے وہ
گوشت ان لوگوں کو دیا
جو روز مفت
میں گوشت لے جاتے تھے۔"
عدالت میں
بیٹھے کچھ لوگ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
حاجی سلیم
نے بات جاری رکھی:
"جناب… میں نے کبھی کسی
غریب کو برا گوشت نہیں دیا۔
مگر جو لوگ
طاقت کے زور پر مفت لیتے تھے…
وہ میرے
بچوں کا رزق کھا رہے تھے۔"
اس کی آواز
کانپنے لگی۔
"میں مجرم ہوں…
مگر اکیلا
نہیں ہوں۔"
کمرہ خاموش
تھا۔
کوئی کچھ
نہیں بولا۔
عدالت کے
باہر لوگ کھڑے تھے۔
کچھ تماشائی،
کچھ ہمدرد، اور کچھ وہی لوگ
جو کبھی اس
کی دکان سے مفت گوشت لے جاتے تھے۔
مگر اب سب
خاموش تھے۔
کیونکہ سچ یہ
تھا کہ قصور صرف ایک قصاب کا نہیں تھا۔
قصور اس
معاشرے کا تھا
جہاں
طاقتور لینے کے عادی ہو جائیں
اور کمزور
دینے کے۔
اور سب سے
بڑا جرم یہ نہیں تھا
کہ گوشت
غلط تھا—
سب سے بڑا
جرم یہ تھا
کہ نظام
خاموش تھا۔
