انتقام
لینا انسانی جبلت ہے، لیکن اللہ کی خاطر معاف کر دینا مومن کی صفت ہے
زندگی میں بعض اوقات ایسے واقعات پیش
آتے ہیں جو بظاہر بہت معمولی ہوتے ہیں، مگر حقیقت میں وہ ہمارے صبر، برداشت اور
ایمان کا امتحان لے رہے ہوتے ہیں۔ ہم روزمرہ زندگی میں کئی ایسے حالات سے گزرتے
ہیں جہاں ہمیں غصہ آتا ہے، دل دکھتا ہے اور ہم بدلہ لینے کا سوچتے ہیں۔ لیکن انہی
لمحات میں اصل کامیابی یہ ہوتی ہے کہ ہم اپنے نفس پر قابو پائیں اور اللہ کی رضا
کو ترجیح دیں۔
یہ ایک سچا واقعہ ہے جو میرے ساتھ پیش
آیا، اور جس نے مجھے غصے سے سکون تک کا سفر طے کرنا سکھایا۔
ایک ضروری
چیز کا اچانک غائب ہونا
گرمی کے شدید موسم میں ایک چھوٹا سا
چارجنگ پنکھا میرے لیے بہت اہم بن چکا تھا۔ میں اسے اپنے دفتر میں رکھتا تھا
تاکہ جب بجلی چلی جائے تو کام کے دوران تھوڑی سی راحت مل سکے۔ یہ کوئی بہت مہنگی چیز نہیں تھی، مگر اس
کی اہمیت میرے لیے بہت زیادہ تھی۔
ایک دن جب میں دفتر پہنچا تو دیکھا کہ
پنکھا اپنی جگہ پر موجود نہیں ہے۔ پہلے تو میں نے سوچا کہ شاید کسی نے اسے ادھر
اُدھر رکھ دیا ہو، مگر جب کافی تلاش کے باوجود وہ نہ ملا تو میرے دل میں تشویش
پیدا ہوئی۔
حقیقت کا
انکشاف
میں نے فوراً
CCTV فوٹیج چیک کرنے کا فیصلہ کیا۔ جیسے ہی
میں نے ویڈیو دیکھی، میں حیران رہ گیا۔ اس میں واضح طور پر نظر آ رہا تھا کہ صفائی
کرنے والے کارکن، جو “ستھرا پنجاب” مہم کے تحت کام کر رہے تھے، میرے پنکھے کے قریب
آئے جو کہ اس دن دوکان کا شٹر کھولتے وقت باہر تھڑے پر رہا گیا تھا ۔ انہوں نے جھاڑو کے ذریعے اس چھوٹے پنکھے کو آہستہ آہستہ دھکیلا، پھر اسے ڈسٹ
بن میں ڈال دیا اور ساتھ لے گئے۔
یہ دیکھ کر میرا غصہ بڑھ گیا۔ یہ کوئی
غلط فہمی نہیں تھی — سب کچھ کیمرے میں واضح تھا۔
انصاف کی
تلاش اور انکار
میں فوراً ان کے دفتر گیا اور افسران
کو ساری فوٹیج دکھائی۔ انہوں نے متعلقہ کارکنوں کو بلایا، لیکن جب ان سے پوچھا گیا
تو انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ حالانکہ ثبوت میرے پاس موجود تھا، لیکن ان کا انکار
میرے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔
میرا بلڈ پریشر بڑھنے لگا، دل میں غصہ
اور بے بسی دونوں جمع ہو گئے۔ میں سوچنے لگا کہ اب میں خاموش نہیں رہوں گا۔ میں
فوری طور پر CM پورٹل پر شکایت درج کرواؤں گا، تاکہ
انہیں سزا ملے اور آئندہ کسی اور کے ساتھ ایسا نہ کریں۔
ایک اہم
موڑ: نماز کا وقت
اسی دوران نماز کا وقت ہو گیا۔ میں
غصے کی حالت میں ہی مسجد چلا گیا۔ دل اب بھی بے چین تھا، ذہن میں بار بار وہی منظر
گھوم رہا تھا۔
نماز سے پہلے ایک حدیث بیان کی جا رہی
تھی۔ میں نے بس یونہی سننا شروع کیا، مگر چند الفاظ نے میرے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ
دیا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جو شخص اپنے غصے کو روکے حالانکہ وہ اسے نافذ کرنے کی طاقت
رکھتا ہو، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے سب مخلوق کے سامنے بلا کر اختیار دے گا کہ
وہ جس حور کو چاہے منتخب کر لے۔”
(جامع ترمذی2021)
یہ الفاظ میرے دل میں اتر گئے۔
سوچ میں
تبدیلی
میں نے خود سے سوال کیا:
"کیا میرے پاس طاقت نہیں؟ کیا میرے پاس
ثبوت نہیں؟ کیا میں انہیں سزا نہیں دلوا سکتا؟"
یقیناً، میں یہ سب کر سکتا تھا۔
لیکن پھر ایک اور سوال آیا:
"کیا یہ چند ہزار روپے اس عظیم اجر سے
زیادہ اہم ہیں جو اللہ نے وعدہ کیا ہے؟"
یہ سوچتے ہی میرا غصہ آہستہ آہستہ
ٹھنڈا ہونے لگا۔
ایک نیا
فیصلہ
نماز کے بعد جب میں واپس آیا تو میں
پہلے والا انسان نہیں رہا تھا۔ میرا دل نرم ہو چکا تھا۔
میں نے خود سے کہا:
"یہ پنکھا شاید 5000 روپے کا تھا… لیکن
اگر اس سے کسی غریب کے گھر میں ٹھنڈک پہنچ جائے؟ اگر اس کے بچوں کو اس کی ضرورت
ہو؟ تو کیوں نہ اسے صدقہ سمجھ لیا جائے؟"
میں نے فیصلہ کیا کہ میں شکایت نہیں
کروں گا۔
میں نے اپنا حق چھوڑ دیا — لیکن بدلے
میں مجھے جو ملا، وہ کہیں زیادہ قیمتی تھا۔
اندرونی
سکون کا احساس
اس فیصلے کے بعد مجھے ایک عجیب سا
سکون محسوس ہوا۔ دل ہلکا ہو گیا، ذہن پرسکون ہو گیا۔ ایسا لگا جیسے ایک بوجھ اتر
گیا ہو۔
مجھے احساس ہوا کہ بدلہ لینے سے وقتی
تسلی تو مل سکتی ہے، مگر حقیقی سکون صرف معاف کرنے میں ہے۔
اسلام کا
خوبصورت پیغام
اسلام ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ غصے پر
قابو رکھیں، دوسروں کو معاف کریں، اور اللہ کی رضا کو ہر چیز پر ترجیح دیں۔
قرآن اور حدیث میں بار بار صبر اور
معافی کی تلقین کی گئی ہے۔ ہمارے پیارے نبی ﷺ کی زندگی بھی اس کی بہترین مثال ہے۔
آپ ﷺ نے ہمیشہ معاف کرنے کو ترجیح دی، حتیٰ کہ ان لوگوں کو بھی جنہوں نے آپ کو
تکلیف دی۔
آج کے دور
کے لیے سبق
آج کے دور میں ہم چھوٹی چھوٹی باتوں
پر لڑ پڑتے ہیں، تعلقات خراب کر لیتے ہیں اور دلوں میں نفرت بھر لیتے ہیں۔
لیکن اگر ہم تھوڑا سا صبر کریں، اپنے
غصے کو قابو میں رکھیں، اور معاف کرنے کی عادت ڈالیں تو نہ صرف ہماری زندگی بہتر
ہو سکتی ہے بلکہ ہمارا معاشرہ بھی پرسکون ہو سکتا ہے۔
نتیجہ
یہ واقعہ بظاہر ایک چھوٹے پنکھے کی
چوری کا تھا، مگر اس نے مجھے ایک بڑا سبق دیا:
بدلہ لینا آسان ہے،
مگر معاف کرنا اصل بہادری ہے۔
میں نے چند ہزار روپے کا نقصان برداشت
کیا،
لیکن بدلے میں وہ سکون حاصل کیا جو
دنیا کی کسی دولت سے نہیں خریدا جا سکتا۔
آخری پیغام
اگر آپ کے ساتھ بھی کبھی ایسا کوئی
واقعہ پیش آئے، تو فوراً ردِعمل دینے کے بجائے ایک لمحہ رکیں، سوچیں، اور اپنے دل
سے پوچھیں:
"کیا میں اللہ کی رضا کے لیے معاف کر سکتا ہوں؟"
یقین کریں،
اس کا جواب آپ کی زندگی بدل سکتا ہے۔
