 |
اللہ کی
تخلیق کے حیرت انگیز راز:
جدید
سائنس کی روشنی میں ایمان افروز سفر |
اللہ
تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ آسمانوں
اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے
آنے جانے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں
ہیں۔ آج سائنس نے ترقی کر کے جن حقائق سے
پردہ اٹھایا ہے، وہ اسی آیت کی زندہ تفسیر
بن چکے ہیں۔
1۔
زمین پر بیس لاکھ دریافت شدہ انواع
سائنس آج
تک نباتات اور حیوانات کو ملا کر تقریباً
بیس لاکھ سپیشیز دریافت کر چکی ہے۔ یہ کل
مخلوق کی تعداد نہیں ہے، بلکہ صرف اقسام
کی تعداد ہے۔ ان بیس لاکھ اقسام میں سے
انسان صرف ایک قسم ہے، اور اکیلا انسان
ہی اس وقت سات سے آٹھ ارب کے قریب ہے۔ اگر
ہم گنتی شروع کریں ایک انسان، دو گھوڑا،
تین خچر، تو یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوگی۔
2۔
کیا زمین کا کوئی انچ زندگی سے خالی ہے؟
سائنسدان
ہمیں بتاتے ہیں کہ زمین کا ایک مربع انچ
حصہ بھی ایسا نہیں جہاں کوئی جاندار موجود
نہ ہو۔ آپ کہیں گے ہمیں تو کچھ نظر نہیں آ
رہا۔ جی ہاں، نظر آنے والی نہیں، نہ نظر
آنے والی مخلوق۔ اگر خوردبین سے ہم اپنی
جلد کو دیکھیں تو ہزاروں بیکٹیریا نظر
آئیں گے جو ہمارے جسم سے خوراک حاصل کر
رہے ہیں، لیکن عام آنکھ سے وہ نظر نہیں
آتے۔
3۔
کیڑے مکوڑوں کی تعداد، جہاں کیلکولیٹر
فیل ہو جائے
صرف کیڑے
مکوڑوں کی تعداد کا اندازہ لگائیں۔ زمین
پر اتنے کیڑے ہیں کہ اگر ہر انسان کو بیس
کروڑ یعنی دو سو ملین کیڑے دے دیے جائیں
اور سات ارب انسانوں میں بانٹ دیے جائیں
تو بھی کیڑے ختم نہیں ہوں گے۔ ذرا دو سو
ملین کو سات بلین سے ضرب دے کر دیکھیں۔
اور ایک بلین کتنا بڑا ہندسہ ہے، اگر کوئی
شخص ہر سیکنڈ میں ایک بار گنتی گنے تو ایک
ارب تک گننے کے لیے اسے پچیس سے تیس سال
چاہئیں۔
4۔
ایک چھوٹی سی ڈریگن فلائی میں اللہ کی
قدرت
انسان کو
تو چھوڑ دیں، وہ بہت پیچیدہ ہے۔ یہ جو ہیلی
کاپٹر کی طرح اڑنے والا چھوٹا سا کیڑا ہے
جسے ڈریگن فلائی کہتے ہیں، اس کی ایک آنکھ
کے اندر پچیس ہزار آنکھیں ہوتی ہیں۔ اور
وہ جس انڈے سے نکلتا ہے وہ بال پوائنٹ کے
نقطے جتنا ہوتا ہے۔ زمین و آسمان کی ساری
مخلوق مل کر بھی ایسا ایک انڈا نہیں بنا
سکتی جس میں سے ڈریگن فلائی نکل آئے۔ زمین
و آسمان مل کر ایک ایسا بیج بھی نہیں بنا
سکتے جسے زمین میں بویا جائے اور وہ چھ
ارب گنا بڑا درخت بن جائے۔ تو جو کام کرنے
سے نہیں ہو سکتا، وہ خود بخود کیسے ہو سکتا
ہے۔
اگر ہم
کسی معمولی کیڑے، تتلی یا ڈریگن فلائی کا
مشاہدہ کریں تو اس کے جسم کی ساخت، آنکھوں
کی بناوٹ، پرواز کا نظام اور زندگی کا چکر
حیران کر دیتا ہے۔
سوال
یہ ہے:
کیا
اتنا پیچیدہ نظام بغیر کسی حکمت اور منصوبہ
بندی کے خود بخود وجود میں آ سکتا ہے؟
قرآن
انسان کو بار بار دعوت دیتا ہے کہ وہ صرف
دیکھے نہیں بلکہ غور بھی کرے۔
سائنس
اور قرآن:
تصادم
نہیں، تدبر
قرآن
سائنس کی کتاب نہیں بلکہ ہدایت کی کتاب
ہے۔ لیکن جہاں قرآن کائنات کی نشانیوں کا
ذکر کرتا ہے، وہاں انسان کو تحقیق اور غور
و فکر کی دعوت دیتا ہے۔
اللہ
تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿سَنُرِيهِمْ
آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ
حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ
الْحَقُّ﴾
"ہم
عنقریب انہیں اپنی نشانیاں آفاق میں بھی
دکھائیں گے اور ان کے اپنے وجود میں بھی،
یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے گا کہ یہی
حق ہے۔"
(سورۃ
فصلت 41:53)
5۔
انسان، تخلیق کا عروج
اس ساری
تخلیق کا کلائمیکس انسان ہے۔ انسان کو
اللہ نے جو خوبیاں دی ہیں، ان کا خود اسے
بھی علم نہیں۔ ہمیں بتائیں، جن خوبیوں کا
ہمیں خود ہی پتہ نہیں کہ ہمارے اندر ہیں،
تو کتنا بیوقوف ہوگا وہ جو کہے کہ یہ خوبیاں
میں نے خود اپنے اندر رکھ لی ہیں یا میرے
ماں باپ نے رکھی ہیں۔
کبھی اپنے جسم پر غور کیجیے۔
دل روزانہ تقریباً ایک لاکھ مرتبہ دھڑکتا ہے۔
خون ہزاروں کلومیٹر لمبی رگوں میں مسلسل گردش کرتا ہے۔
جسم کے اندر کھربوں (Trillions) خلیے ایک منظم نظام کے تحت کام کرتے ہیں۔
دماغ میں اربوں نیورون ہر لمحہ معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔
یہ سب کچھ بغیر ہماری کسی شعوری کوشش کے جاری رہتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَفِي أَنفُسِكُمْ ۚ أَفَلَا تُبْصِرُونَ﴾
"اور تمہارے اپنے وجود میں بھی (بہت سی نشانیاں ہیں)، کیا تم دیکھتے نہیں؟"
(سورۃ الذاریات 51:21)
ہماری زمین مسلسل حرکت میں ہے۔
زمین اپنے محور پر گھوم رہی ہے۔
سورج کے گرد گردش کر رہی ہے۔
ہمارا پورا نظامِ شمسی بھی کہکشاں میں سفر کر رہا ہے۔
اس کے باوجود ہمیں نہ کوئی جھٹکا محسوس ہوتا ہے اور نہ ہی نظام میں بے ترتیبی آتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ ۚ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ﴾
"نہ سورج کے لیے ممکن ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن سے آگے بڑھ سکتی ہے، اور سب اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں۔"
6۔
انسانی جسم کے اندر ایک پوری کائنات
سائنس
کہتی ہے:
دل:
بغیر
کسی بیرونی مدد کے ایک دن میں تقریباً ایک
لاکھ مرتبہ دھڑکتا ہے اور دس ہزار لیٹر
خون ہماری رگوں میں پمپ کرتا ہے۔
رگیں:
ایک
انسان کے جسم میں خون کی نالیوں کی لمبائی
اتنی ہے کہ اگر صرف ایک بندے کی رگیں جوڑی
جائیں تو زمین کے ڈھائی چکر لگ سکتے ہیں۔
زمین کا احاطہ چالیس ہزار کلومیٹر ہے اور
ہماری رگوں کی لمبائی ایک لاکھ کلومیٹر
ہے۔
خلیے:
ہمارے
جسم میں خلیوں کی تعداد سینکڑوں، ہزاروں
یا لاکھوں میں نہیں، کھربوں میں ہے۔ ہر
انسان کے اندر ٹریلین سیلز موجود ہیں۔
ایک ٹریلین ہزار ارب کے برابر ہوتا ہے۔
سائنسدان کہتے ہیں اسے گننا ممکن نہیں،
بس اتنا سمجھ لیں کہ انگلینڈ جیسے تیس ملک
ہوں اور انتیس ملکوں میں صرف درخت ہی اگے
ہوئے ہوں اور ان درختوں کے جتنے پتے ہوں
گے، اتنے خلیے ایک انسانی جسم میں ہیں۔
اور ایک خلیے کے اندر اتنے سسٹم ہیں کہ
اگر ہمیں بنانا پڑ جائے تو نیویارک سٹی
جتنی جگہ چاہیے۔ یہاں انسان صرف یہی کہہ
سکتا ہے، اللہ اکبر کبیرا۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَفِي أَنفُسِكُمْ ۚ أَفَلَا تُبْصِرُونَ﴾
"اور تمہارے اپنے وجود میں بھی (بہت سی نشانیاں ہیں)، کیا تم دیکھتے نہیں؟"
7۔
زمین کی تین حیران کن حرکتیں
پہلی حرکت:
زمین
اپنے محور کے گرد ہر سیکنڈ میں آدھا کلومیٹر
گھومتی ہے، جس کی وجہ سے چوبیس گھنٹے میں
دن رات مکمل ہوتا ہے۔
دوسری
حرکت: زمین
سورج کے گرد ہر سیکنڈ میں تیس کلومیٹر کی
رفتار سے گھومتی ہے۔ یہ گولی کی رفتار سے
ساٹھ گنا زیادہ ہے۔ اسی وجہ سے تین سو
پینسٹھ دن میں ہمارا سال مکمل ہوتا ہے۔
تیسری
حرکت: ہماری
زمین پورا نظام شمسی سمیت ہر سیکنڈ میں
دو سو کلومیٹر کی رفتار سے ویگا سٹار کی
طرف پچھلے اربوں سال سے سفر کر رہی ہے۔
ہماری زمین مسلسل حرکت میں ہے۔زمین اپنے محور پر گھوم رہی ہے۔
سورج کے گرد گردش کر رہی ہے۔
ہمارا پورا نظامِ شمسی بھی کہکشاں میں سفر کر رہا ہے۔
اس کے باوجود ہمیں نہ کوئی جھٹکا محسوس ہوتا ہے اور نہ ہی نظام میں بے ترتیبی آتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ ۚ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ﴾
"نہ سورج کے لیے ممکن ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن سے آگے بڑھ سکتی ہے، اور سب اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں۔"
8۔
روشنی کی رفتار اور نوری سال
کائنات
کے فاصلے نوری سالوں میں ناپے جاتے ہیں۔
روشنی کی رفتار تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ
ہے۔ روشنی ایک سیکنڈ میں زمین کے سات چکر
کاٹ سکتی ہے۔ اور یہ مسلسل ایک سال تک سفر
کرے تو جتنا فاصلہ طے کرتی ہے، اسے ایک
نوری سال کہتے ہیں۔
9۔
ڈھائی سو ارب کہکشائیں اور ریت کے ذروں
سے زیادہ ستارے
ناسا کی
دریافت کے مطابق اس کائنات میں ڈھائی سو
ارب کہکشائیں ہیں۔ ہر کہکشاں میں تین سو
ارب سے زیادہ سورج ہیں۔ ان میں سے ایک سورج
ہمارا سورج ہے۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ دنیا
کے سمندروں کے کناروں پر ریت کے جتنے ذرے
ہیں، اس سے زیادہ ستارے اور سیارے اس
کائنات کے اندر موجود ہیں۔
10۔
فائن ٹیوننگ، کائنات کا نازک توازن
یہ ساری
چیزیں اتنی باریک بینی سے بنی ہیں کہ
سائنسدان کہتے ہیں یہ فائن ٹیونڈ ہیں۔
اگر ایک بال پوائنٹ کو اس کی نوک پر کھڑا
کیا جائے تو وہ کھڑا نہیں رہ سکتا۔ اس سے
زیادہ نازک توازن اس کائنات کا ہے۔ اگر
ذرا سا بھی یہ توازن بگڑ جائے تو پوری
کائنات تباہ ہو جائے۔ہر نئی
سائنسی دریافت انسان کو اللہ تعالیٰ کی
تخلیق کی عظمت کا ایک نیا پہلو دکھاتی
ہے۔
ہماری
ذمہ داری کیا ہے؟
صرف
حیران ہونا کافی نہیں۔
اللہ
تعالیٰ چاہتے ہیں کہ ہم:
اپنی
عقل استعمال کریں۔
کائنات
پر غور کریں۔
علم
حاصل کریں۔
اللہ
کی نعمتوں کا شکر ادا کریں۔
اپنی
زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق
گزاریں۔
کائنات
کا ہر ذرہ، ہر ستارہ، ہر درخت، ہر پرندہ،
حتیٰ کہ ہمارا اپنا جسم بھی اللہ تعالیٰ
کی قدرت کی گواہی دے رہا ہے۔ جدید سائنس
جتنا آگے بڑھتی ہے، انسان اتنا ہی اس حقیقت
کو محسوس
کرتا ہے کہ اس عظیم نظام کا خالق
ایک ہی ہے۔
آئیے،
صرف معلومات جمع نہ کریں بلکہ ان معلومات
کو اپنے ایمان، کردار اور اللہ کی معرفت
میں اضافے کا ذریعہ بنائیں۔
دعا
رَبَّنَا
مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ
فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
"اے
ہمارے رب! تو
نے یہ سب کچھ بے مقصد پیدا نہیں کیا۔ تو
پاک ہے، پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔"
11۔
الہامی کتابیں کبھی پرانی کیوں نہیں ہوتیں
انسانی
لکھی ہوئی کتابیں کچھ عرصے بعد پرانی ہو
جاتی ہیں کیونکہ نئی تھیوری اور نئی ایجاد
آ جاتی ہے۔ ہم نے اپنی زندگی میں لینڈ لائن
فون کو ختم ہوتے دیکھا۔ کبھی پورے محلے
میں ایک فون ہوتا تھا، آج پورے شہر میں
بھی نظر نہیں آتا۔ لیکن الہامی کتابیں
کبھی پرانی نہیں ہوتیں، کیونکہ وہ انسان
کی جبلت سے بحث کرتی ہیں۔ آٹھ دس ہزار سال
پہلے کے انسان کی بھی وہی ضرورتیں تھیں
جو آج ہیں، بیوی بچے، ماں باپ، معاشرہ،
اور اس نظام میں رہ کر اللہ کو کیسے راضی
کرنا ہے۔ اس لیے قرآن پڑھتے ہوئے لگتا ہے
جیسے آج کی بات ہو رہی ہے۔
یہ سارے
حقائق مل کر ایک ہی پیغام دیتے ہیں کہ یہ
کائنات اتفاق سے نہیں بنی۔ جس اللہ کا
تعارف یہ ہے، تو پھر اس کے سامنے کسی اور
کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔ اس لیے دل سے بے
اختیار نکلتا ہے، سبحان اللہ، الحمد للہ،
اللہ اکبر کبیرا۔