"یہ مندر کے پاس سے گزر رہا تھا، اس نے تھوکا اور پتھر مارا ہے" — ایک فرضی الزام اور ہمارے زوال پذیر معاشرے کا عکس

Dnnetwork

 



آج کی دنیا کس سمت جا رہی ہے؟ ایک طرف انسان آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI)، خلائی تسخیر، اور جدید ترین سائنسی دریافتوں میں نئے میل پتھر طے کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف ہم (تیسری دنیا کے خطے) آج بھی مذہب، ذات پات اور من گھڑت الزامات کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔

حال ہی میں سوشل میڈیا پر سامنے آنے والا ایک واقعہ اس سوچ کی بدترین عکاسی کرتا ہے۔ بھارتی دارالحکومت دہلی کے ایک تھانے کا منظر، جہاں ایک عام مسلم شہری عبدالوحید کو محض اس بنیاد پر پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا گیا کہ ہندو نوجوانوں نے الزام لگایا: "یہ مندر کے پاس سے گزر رہا تھا، اس نے مندر کی طرف تھوکا ہے اور پتھر مارا ہے!"

یہ صرف ایک شخص پر لگنے والا الزام نہیں ہے، بلکہ یہ اس ذہنیت کی تصویر ہے جس میں شواہد اور سچائی سے زیادہ محض افواہ اور تعصب کو ترجیح دی جاتی ہے۔

سچائی اور جدید تکنیک کا سامنا

جب اس بے بنیاد الزام کے بعد متعلقہ تھانے میں حقائق کا جائزہ لیا گیا اور مندر میں لگے ڈیجیٹل CCTV کیمروں کی فوٹیج چیک کرنے کا مطالبات سامنے آیا، تو سارا ڈرامہ دھرا کا دھرا رہ گیا۔ کیمروں میں ایسا کوئی واقعہ نظر نہیں آیا۔

اگر پولیس یا وہاں موجود انتظامیہ صرف الزامات کی بنیاد پر اقدام کرتی تو ایک بے گناہ شہری کا مستقبل تباہ ہو سکتا تھا۔ لیکن حق کی آواز اور تکنیکی ثبوت نے یہ ثابت کر دیا کہ تعصب کی بنیاد پر رچایا گیا یہ ڈرامہ کتنا کھوکھلا تھا۔

تھانے میں ڈٹ کر کھڑی ہونے والی خاتون (جن کی شناخت اتر پردیش کے حلقہ کیرانہ سے رکنِ پارلیمنٹ اقرا حسن کے طور پر ہوئی) نے جب پولیس کے سامنے کھری کھری باتیں کہیں اور کیمروں کا ثبوت مانگا، تو پولیس کے پاس بے گناہ عبدالوحید کو چھوڑنے کے سوا کوئی راستہ نہ بچا۔

ایک سنگین سوال: دنیا کہاں پہنچ گئی اور ہم کہاں ہیں؟

اس واقعے کو دیکھ کر ہر ذی شعور انسان کو رک کر یہ سوچنا چاہیے کہ ہم بطور معاشرہ کہاں کھڑے ہیں؟

  1. ٹیکنالوجی بمقابلہ قرون وسطیٰ کی سوچ: دنیا 2026 میں جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا کر آگے بڑھ رہی ہے، لیکن ہمارے خطے میں ابھی تک لوگوں کو بلا وجہ نشانہ بنانے کے لیے مذہبی اور جذباتی ڈرامے رچائے جاتے ہیں۔
  2. شواہد کی طاقت: اس واقعے نے یہ ثابت کیا کہ جدید دور میں صرف "مجھ سے کہا گیا" یا "ہم نے دیکھا" پر یقین کرنے کے بجائے غیر جانبدارانہ اور سائنسی شواہد (سی سی ٹی وی، ڈیجیٹل ڈیٹا) پر اتکاء کرنا کتنا ضروری ہے۔
  3. مذہبی کارڈ کا استعمال: جب کسی معصوم کو پھنسانا ہو یا انتظامیہ پر دباؤ ڈالنا ہو، تو مذہب کے نام کا نعرہ لگانا سب سے آسان حربہ بن چکا ہے۔ یہ اندازِ فکر پوری قوم کو اخلاقی اور سماجی طور پر تباہ کر رہا ہے۔

قانون، انصاف اور انسانیت کا امتحان

کسی بھی ترقی یافتہ اور مہذب معاشرے کی نشانی وہاں کی اونچی عمارتیں یا سڑکیں نہیں ہوتیں، بلکہ یہ ہوتی ہے کہ وہاں اقلیتوں اور عام شہریوں کو قانون کی نظر میں کتنا تحفظ حاصل ہے۔

اگر کسی شہری پر بغیر کسی ثبوت کے محض شک یا تعصب کے تحت الزام لگا کر اسے گرفتار کر لیا جائے، تو یہ انصاف کے پورے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اس کیس میں شواہد کی موجودگی نے ایک معصوم کو ناانصافی سے بچا لیا، لیکن کتنے ایسے کیسز ہوتے ہوں گے جہاں ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے لوگ سالوں جیلوں میں سڑتے رہتے ہیں؟

آپ کی کیا رائے ہے؟ (Engagement Question)

یہ واقعہ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی سوچ کا امتحان ہے۔

  • کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہمارے خطے میں سائنسی تعلیم اور قانونی شعور کی کمی کی وجہ سے ایسے واقعات بار بار ہوتے ہیں؟
  • تعصب اور بے بنیاد الزامات کے اس کلچر کو ختم کرنے کے لیے بنیادی سطح پر کیا اقدامات کرنے چاہئیں؟

نیچے کمنٹس میں اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں اور اس تحریر کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں تاکہ سچائی اور انصاف کا پیغام عام ہو سکے۔