| Capital Gain Tax in Fbr |
پاکستان میں رئیل اسٹیٹ ٹیکس قوانین کو سمجھنا، بالخصوص انکم ٹیکس آرڈیننس کی حالیہ تبدیلیوں کے بعد، تمام پراپرٹی مالکان اور ٹیکس دہندگان کے لیے انتہائی اہم ہو چکا ہے۔ پراپرٹی کی خرید و فروخت یا ہبہ (گفٹ) کرتے وقت کیپیٹل گینز ٹیکس (CGT) اور سیکشن 236C کے تحت کٹنے والے ایڈوانس ٹیکس کا فرق جاننا ضروری ہے۔
ذیل میں کیپیٹل گین ٹیکس کا آسان حساب
اور اہم قانونی سوالات کے جوابات فراہم کیے گئے ہیں۔
کیپیٹل گین
ٹیکس (CGT)
کیا ہے؟
جب آپ کوئی پراپرٹی (اوپن پلاٹ، تعمیر
شدہ مکان یا فلیٹ) اس کی خرید قیمت سے زیادہ رقم پر فروخت کرتے ہیں، تو حاصل ہونے
والے منافع کو کیپیٹل گین کہا جاتا ہے۔ اس منافع پر لاگو ہونے والے ٹیکس کو
کیپیٹل گین ٹیکس (CGT) کہتے ہیں۔
منافع نکالنے کا آسان فارمولا:
Capital Gain=Selling Price−Purchase Price
پراپرٹی کی
تاریخِ خرید کے مطابق CGT کے قوانین
پراپرٹی کی فروخت پر ٹیکس کی شرح کا
انحصار اس بات پر ہے کہ پراپرٹی 30 جون 2024 تک خریدی گئی تھی یا 01
جولائی 2024 یا اس کے بعد۔
1۔ 30 جون
2024 یا اس سے پہلے خریدی گئی پراپرٹی
30 جون 2024 تک خریدی گئی پراپرٹیز پر
ہولڈنگ پیریڈ (ملکیت کا دورانیہ) کے مطابق ٹیکس کم ہوتا ہے:
- اوپن
پلاٹ: پہلے سال ٹیکس 15% ہوتا ہے اور
ہر سال کم ہوتے ہوئے 6 سال بعد (7ویں سال سے) 0% ہو جاتا ہے۔
- تعمیر
شدہ پراپرٹی:
پہلے سال 15% سے شروع ہو کر 4 سال بعد (5ویں سال سے) 0% ہو جاتا ہے۔
- فلیٹ: پہلے سال 15% سے شروع ہو کر 2
سال بعد (3رے سال سے) 0% ہو جاتا ہے۔
2۔ 01
جولائی 2024 یا اس کے بعد خریدی گئی پراپرٹی
01 جولائی 2024 کے بعد خریدی گئی
پراپرٹی پر ہولڈنگ پیریڈ کی بنیاد پر ٹیکس میں رعایت ختم کر دی گئی ہے:
- ایکٹو
ٹیکس پیئر (فائلر):
تمام قسم کی پراپرٹی کے منافع پر 15 فیصد فلیٹ ٹیکس لاگو ہوگا۔
- نان
فائلر: نارمل
ٹیکس سلیب ریٹس لاگو ہوں گے، بشرطیکہ ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے کم نہ ہو۔
ایک اہم غلط
فہمی: سیکشن 236C اور کیپیٹل گین ٹیکس کا فرق
عام طور پر لوگ پراپرٹی فروخت کرتے
وقت سیکشن 236C
کے تحت کٹنے والے ٹیکس کو ہی اصل کیپیٹل گین ٹیکس سمجھ لیتے ہیں، جبکہ ایسا نہیں
ہے۔
- سیکشن
236C ٹیکس: یہ پراپرٹی کی انتقال یا رجسٹری کے وقت کٹنے والا ایڈوانس
انکم ٹیکس ہوتا ہے۔
- کیپیٹل
گین ٹیکس: یہ آپ
کی سالانہ ٹیکس گوشوارے (Tax
Return) میں اصل
منافع پر بننے والی حتمی ٹیکس ذمہ داری ہوتی ہے۔
اہم بات: 236C کا ایڈوانس ٹیکس حتمی ٹیکس نہیں ہے، بلکہ
سالانہ ٹیکس گوشوارہ جمع کرواتے وقت اسے اصل کیپیٹل گین ٹیکس کی ذمہ داری کے خلاف
ایڈجسٹ کیا جاتا ہے۔
اکثر پوچھے
جانے والے سوالات (FAQs)
سوال 1: اگر
کوئی نان فائلر 2013 کا خریدا ہوا 20 لاکھ کا پلاٹ بیچے تو کتنا CGT
دینا ہوگا؟
جواب: 0 روپے (مکمل مستثنیٰ)۔ چونکہ پلاٹ 2013 (یعنی 30 جون
2024 سے پہلے) کا خریدا ہوا ہے، اس لیے اس پر پرانا ہولڈنگ پیریڈ لاگو ہوگا۔ 6 سال
سے زائد عرصہ گزرنے کی وجہ سے CGT کی شرح 0% ہوگی۔
سوال 2:
بچوں کے نام پراپرٹی ہبہ (Gift) کرنے پر ٹیکس کیسے لاگو ہوگا؟
- انکم
ٹیکس / CGT: انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 85 کے تحت سگے بچوں کو گفٹ
کی جانے والی پراپرٹی پر کوئی کیپیٹل گین ٹیکس لاگو نہیں ہوتا۔
- اسٹامپ
ڈیوٹی / CVT: صوبائی قوانین کے مطابق خون کے قریبی رشتوں میں گفٹ ڈیڈ
کے لیے اسٹامپ ڈیوٹی اور کیپیٹل والیو ٹیکس میں خصوصی رعایت ملتی ہے۔
سوال 3: اگر
پلاٹ خرید کر اس پر مکان تعمیر کر کے بیچا جائے تو گین ٹیکس کیسے نکلے گا؟
اگر آپ نے 20 لاکھ کا پلاٹ خریدا، 60
لاکھ تعمیر پر لگائے اور مکان 1 کروڑ میں بیچا:
- کل
لاگت (Cost): 20 لاکھ + 60 لاکھ = 80 لاکھ روپے
- فروخت
کی رقم: 1
کروڑ روپے
- خالص
منافع (Capital
Gain):
1 کروڑ − 80 لاکھ = 20 لاکھ روپے
- قابلِ
ادا ٹیکس (فائلر کے لیے):
20 لاکھ کا 15% = 3 لاکھ روپے
(نوٹ: تعمیراتی اخراجات کو لاگت میں
شامل کرنے کے لیے تمام پکے بل اور رسیدات کا پاس ہونا ضروری ہے تاکہ ایف بی آر میں
ثبوت پیش کیا جا سکے۔)