آزمائش: اللہ کی ناراضگی یا اس کی محبت کا پیغام؟

Dnnetwork

یا زندگی کی مشکلات اللہ کی ناراضگی کی علامت ہیں؟ جانیے آزمائشوں کا اصل مقصد، حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں

زندگی کی ہر مشکل میں ایک چھپی ہوئی خیر ہوتی ہے۔ جب اللہ اپنے بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے آزماتا ہے تاکہ وہ اس کے اور قریب ہو سکے۔


ہم سب کی زندگی میں کبھی نہ کبھی ایسا موڑ ضرور آتا ہے جب حالات ہمارے بس سے باہر ہو جاتے ہیں۔ کبھی معاشی تنگی، کبھی بیماری اور کبھی اپنوں کا بچھڑ جانا ہمیں اندر سے توڑ دیتا ہے۔ ایسے میں انسانی ذہن میں یہ سوال بار بار گردش کرتا ہے کہ "آخر میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا؟ کیا اللہ مجھ سے ناراض ہے؟"

حقیقت یہ ہے کہ اللہ عزوجل اپنے بندوں کو کبھی کبھار آزمائشوں اور مصیبتوں میں اس لیے مبتلا کرتا ہے تاکہ وہ پلٹ کر اپنے رب کی طرف آ جائیں۔ یہ آزمائشیں سزا نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ایک بلاوا ہوتی ہیں۔

آزمائش کا اصل مقصد: اللہ سے تعلق کی مضبوطی

اسلامی تناظر میں آزمائش کا ایک بڑا مقصد بندے کی اصلاح اور اس کی بندگی میں اضافہ کرنا ہے۔ جب انسان خوشحالی میں ہوتا ہے، تو اکثر غفلت کا شکار ہو جاتا ہے۔ لیکن جب کوئی مصیبت آتی ہے، تو وہی انسان:

  • اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کی طرف راغب ہوتا ہے۔
  • اس کی عبادت میں وہ تڑپ اور عاجزی پیدا ہوتی ہے جو پہلے نہیں تھی۔
  • وہ گڑگڑا کر دعا کرتا ہے اور اپنی فریاد اپنے رب کے سامنے رکھتا ہے، اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب وہ اللہ کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔

مومن کا نظریہ: ہر حال میں خیر

ایک سچے مومن کا رویہ عام انسانوں سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ وہ اللہ کے ہر فیصلے کو مثبت نظر سے دیکھتا ہے کیونکہ اس کا ایمان ہے کہ اس کا رب اس کے حق میں صرف خیر اور بھلائی ہی چاہتا ہے۔ اگر آج راستہ کٹھن ہے، تو یقیناً اس کے پیچھے اللہ کی کوئی ایسی حکمت ہے جو ہماری ناقص عقل سمجھنے سے قاصر ہے۔

حدیثِ مبارکہ: مومن کی زندگی کا خوبصورت نقشہ

رسول اللہ ﷺ نے ایک مومن کی پوری زندگی کا نچوڑ اس ایک حدیث میں بیان فرما دیا ہے:

"مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اس کے ہر کام میں خیر ہی خیر ہے، اور یہ بات مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں: اگر اسے خوشی ملے تو وہ شکر ادا کرتا ہے، تو یہ اس کے لیے بہتر ہوتا ہے، اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچے تو وہ صبر کرتا ہے، تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے۔" صحیح مسلم: 2999

سبحان اللہ! اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن کے لیے "نقصان" کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ اگر حالات اچھے ہیں تو شکر کر کے اجر کما لیا، اور اگر حالات برے ہیں تو صبر کر کے اللہ کی رضا پا لی۔

یہ حدیث دراصل مومن کی پوری زندگی کا آئینہ ہے۔ دنیا کی نگاہ میں کچھ واقعات ناکامی، محرومی یا درد ہو سکتے ہیں، مگر مومن جانتا ہے کہ اللہ کے فیصلوں میں چھپی خیر انسان کی محدود عقل سے کہیں بڑی ہوتی ہے۔

 ایک سچے مومن کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ حالات کا نہیں، اپنے رب کا بندہ ہوتا ہے۔ دنیا والے صرف ظاہری منظر دیکھتے ہیں، مگر مومن ہر واقعے کے پیچھے اللہ کی حکمت تلاش کرتا ہے۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ میرا رب مجھے کبھی بے مقصد تکلیف نہیں دیتا۔ اگر دروازہ بند ہوا ہے تو یقیناً کسی بہتر راستے کی تیاری ہو رہی ہے۔ اگر دعا میں دیر ہے تو شاید عطا اس سے کہیں زیادہ بڑی ہے جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔

زندگی کی ایک مثال

ایک نوجوان نے برسوں محنت کر کے ایک بڑی نوکری حاصل کرنے کا خواب دیکھا۔ ہر امتحان دیا، ہر کوشش کی، مگر آخری مرحلے میں جا کر ناکام ہو گیا۔ وہ ٹوٹ گیا، اسے لگا کہ زندگی ختم ہو گئی ہے۔ لیکن اسی ناکامی نے اسے اللہ کے قریب کر دیا۔ اس نے نماز کی پابندی شروع کی، قرآن سے تعلق جوڑا اور اپنے والدین کی خدمت میں سکون تلاش کیا۔ کچھ عرصے بعد اسے ایسا رزق ملا جو اس کے لیے پہلے سے زیادہ بہتر تھا، اور سب سے بڑھ کر اسے دل کا سکون نصیب ہوا۔

اگر وہ پہلی خواہش پوری ہو جاتی، شاید وہ رب سے دور ہو جاتا۔ بظاہر جو ناکامی تھی، حقیقت میں وہ اس کی روح کی کامیابی تھی۔

ایک اور خوبصورت مثال

حضرت یوسفؑ کی زندگی کو ہی دیکھ لیجیے۔ بھائیوں نے کنویں میں پھینک دیا، غلام بنا کر بیچ دیا گیا، پھر جیل میں ڈال دیا گیا۔ دنیا کی نظر میں یہ مسلسل مصیبتیں تھیں، لیکن اللہ انہی راستوں سے انہیں مصر کے تخت تک لے جا رہا تھا۔ اگر کنواں نہ ہوتا تو محل نہ ملتا، اگر جیل نہ ہوتی تو حکومت نہ ملتی۔

یہی مومن کا یقین ہے:
ہر اندھیری رات اپنے اندر ایک نئی صبح چھپائے رکھتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کبھی اپنے بندے کو صرف گرانے کے لیے نہیں آزماتا۔ وہ آزمائش کے ذریعے انسان کے اندر چھپی ہوئی طاقت، صبر اور ایمان کو جگاتا ہے۔ بعض اوقات ہم جس چیز کو سزا سمجھتے ہیں، وہ دراصل اللہ کی رحمت ہوتی ہے۔ کیونکہ دنیا کی آسانیاں ہمیشہ کامیابی نہیں ہوتیں، اور ہر تکلیف تباہی نہیں ہوتی۔

جس طرح سونا آگ میں تپ کر کندن بنتا ہے، اسی طرح مومن آزمائش کی بھٹی سے گزر کر پہلے سے زیادہ مضبوط، خالص اور اللہ کے قریب ہو جاتا ہے۔ مومن جانتا ہے کہ اگر اللہ نے اسے رُلایا ہے تو وہ اسے تنہا نہیں چھوڑے گا، اور اگر آج راستہ مشکل ہے تو کل اسی راستے سے رحمت اترے گی۔

اسی لیے سچا مومن حالات سے نہیں ٹوٹتا، بلکہ ہر حال میں یہ کہتا ہے:

"یا اللہ! مجھے تیرے فیصلوں پر کامل یقین عطا فرما، کیونکہ تو جو بھی کرتا ہے، میرے حق میں بہتر کرتا ہے۔"

قرآنِ مجید میں بھی اللہ تعالیٰ نے مومن کے اسی یقین اور آزمائش کے فلسفے کو نہایت خوبصورتی سے بیان فرمایا ہے:

"ممکن ہے تم کسی چیز کو ناپسند کرو حالانکہ وہ تمہارے لیے بہتر ہو، اور ممکن ہے تم کسی چیز کو پسند کرو حالانکہ وہ تمہارے لیے نقصان دہ ہو۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔"
سورۃ البقرہ: 216

یہ آیت مومن کے دل میں عجیب سکون پیدا کرتی ہے۔ انسان اکثر صرف حال کو دیکھتا ہے، لیکن اللہ ماضی، حال اور مستقبل سب جانتا ہے۔ ہم وقتی تکلیف دیکھ کر گھبرا جاتے ہیں، مگر اللہ اسی تکلیف میں ہماری بھلائی، حفاظت اور کامیابی چھپا دیتا ہے۔

قرآن سے ایک اور عظیم مثال

حضرت موسیٰؑ کی والدہ کا واقعہ بھی ایمان اور یقین کی بہترین مثال ہے۔ فرعون بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کر رہا تھا۔ ایک ماں کے لیے اس سے بڑی آزمائش کیا ہو سکتی تھی؟ لیکن اللہ نے انہیں حکم دیا کہ اپنے ننھے بچے کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دو۔

ظاہری طور پر یہ فیصلہ خوفناک تھا۔ ایک ماں اپنے بچے کو پانی کے حوالے کیسے کر سکتی ہے؟ مگر انہوں نے اللہ پر بھروسہ کیا۔ نتیجہ کیا نکلا؟ وہی بچہ فرعون کے محل میں پہنچا، محفوظ رہا، اور آگے چل کر اللہ کا عظیم نبی بنا۔

سوچیے!
جس دریا کو ماں نے جدائی سمجھا تھا، اللہ نے اسی کو حفاظت کا ذریعہ بنا دیا۔

یہی مومن کا یقین ہوتا ہے:
اللہ کے فیصلے وقتی طور پر مشکل لگ سکتے ہیں، مگر ان کا انجام ہمیشہ خیر، حکمت اور رحمت پر مبنی ہوتا ہے۔

اسی لیے قرآن بار بار ہمیں صبر اور یقین کی دعوت دیتا ہے، کیونکہ مومن جانتا ہے کہ:

"بے شک، تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔"
سورۃ الشرح: 6

یعنی ہر آزمائش اپنے اندر راحت کا بیج لیے ہوتی ہے، اور ہر آنسو کے پیچھے اللہ کی کوئی نہ کوئی رحمت ضرور چھپی ہوتی ہے۔

سب سے بڑی آزمائشیں کس پر آئیں؟

جب کبھی آپ کا غم آپ کو بہت بڑا لگنے لگے، تو تاریخِ اسلام کے ان روشن چہروں کو یاد کریں جن سے اللہ سب سے زیادہ محبت کرتا تھا۔ اللہ کے نبیوں پر جو آزمائشیں آئیں، وہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔

حضرت ابراہیمؑ کی زندگی بھی آزمائشوں سے بھری ہوئی تھی۔ انہیں اللہ کی راہ میں اپنی قوم کی مخالفت سہنی پڑی، بت توڑنے پر آگ میں ڈال دیا گیا، مگر ان کا یقین متزلزل نہ ہوا۔ پھر وہ وقت آیا جب اللہ نے اپنے بڑھاپے میں ملنے والے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کی قربانی کا حکم دیا۔ ایک باپ کے لیے اس سے بڑی آزمائش کیا ہو سکتی ہے؟ مگر حضرت ابراہیمؑ نے اللہ کے حکم کے آگے سر جھکا دیا۔

جب بندہ اللہ کے فیصلے پر راضی ہو جاتا ہے، تو اللہ بھی اسے ایسی عزت دیتا ہے کہ قیامت تک لوگ اسے یاد رکھتے ہیں۔ آگ گلزار بن گئی، اور قربانی قیامت تک کے لیے عبادت بن گئی۔

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ کبھی کبھی اللہ ہم سے ہماری سب سے محبوب چیز مانگتا ہے، تاکہ ہمیں اپنے اور زیادہ قریب کر لے۔


نبی کریم ﷺ کو یاد کریں جن کے سامنے ان کے جگر گوشوں نے وفات پائی، جن پر پتھر برسائے گئے، جنہیں اپنوں نے گھر سے نکالا۔ اگر آزمائش اللہ کی ناراضگی کی علامت ہوتی، تو سب سے زیادہ تکلیفیں اللہ کے پیاروں کو نہ دی جاتیں۔ یاد رکھیے، آزمائش جتنی کڑی ہوتی ہے، اللہ کا قرب بھی اتنا ہی عظیم ملتا ہے۔



اگر آج آپ کسی مشکل میں ہیں، تو مایوس نہ ہوں۔ یہ آپ کے رب کا آپ کو پکارنے کا انداز ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ آپ دنیا کے سہاروں کو چھوڑ کر اس کا دامن تھام لیں۔ بس تھوڑا سا صبر اور اللہ کے فیصلے پر رضا، یہی وہ راستہ ہے جو آپ کو دنیا کے غموں سے نکال کر آخرت کی ابدی خوشیوں تک لے جائے گا۔

اللہ ہمیں آزمائشوں میں ثابت قدم رہنے اور ہر حال میں اس کا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔