گدھ، مصلحت اور مردار خور سیاست — اصل مسئلہ کہاں ہے؟

Dnnetwork

 


گدھ ایک ٹوٹے ہوئے نظام کی علامت کے طور پر خشک اور پھٹی زمین پر کھڑا ہے، پس منظر میں پاکستان کا مدھم جھنڈا اور شہر کا منظر، جو سیاسی مصلحت اور نظامی بحران کی عکاسی کرتا ہے۔

 گدھ، مصلحت اور سیاست — اصل مسئلہ کہاں ہے؟

فطرت کے کارخانے میں کوئی بھی شے عبث نہیں۔ جسے ہم "بدصورت" گدھ کہتے ہیں، وہ دراصل کائنات کا وہ خاموش محافظ ہے جو تعفن کو زندگی میں بدلنے کا ہنر جانتا ہے۔ گدھ مردار کھاتا ہے تاکہ زمین سانس لے سکے، وہ بیماریوں کو نگل لیتا ہے تاکہ زندوں کو وباؤں سے بچا سکے۔ لیکن المیہ تب جنم لیتا ہے جب ہم اس فطری تشبیہ کو انسانی معاشرے اور نظامِ سیاست پر لاگو کرتے ہیں۔ یہاں مماثلت تو نظر آتی ہے، مگر ایک ایسے بھیانک فرق کے ساتھ جو ہماری بقا کے لیے سوالیہ نشان بن چکا ہے۔

 

فطرت کا گدھ بمقابلہ سماجی گدھ

فطرت کا گدھ ایک ضابطے کا پابند ہے؛ وہ کبھی زندہ شکار نہیں کرتا۔ وہ صرف اس کا انتظار کرتا ہے جو دم توڑ چکا ہو۔ مگر ہمارے نظام کے "گدھ" زندہ جسموں سے گوشت نوچنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ یہ وہ طبقہ ہے جو بظاہر ترقی یافتہ دنیا کے ایوانوں میں بستا ہے، مگر اس کی نظریں مسلسل ریاست کے وسائل اور غریب کی تھالی پر جمی رہتی ہیں۔

 

یہ لوگ اقتدار، اثر و رسوخ اور نظام کی دراڑوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قومی خزانے کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں۔ گدھ ماحول کو صاف کرتا ہے، جبکہ یہ انسانی گدھ پورے نظام کو آلودہ اور زہریلا کر دیتے ہیں۔ یہ موازنہ سخت ضرور ہے، مگر اس سے زیادہ سخت وہ حقیقت ہے جس کا سامنا ہمیں بطور قوم روزانہ کرنا پڑتا ہے۔

 

دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ قومیں شخصیات کے سہارے نہیں، بلکہ مضبوط اداروں کے بل بوتے پر کھڑی ہوتی ہیں۔ جب ادارے کمزور ہوں اور شخصیات قد آور ہو جائیں، تو وہی "گدھ صفت" رویے جنم لیتے ہیں۔

 جب احتساب کا ادارہ صرف سیاسی انتقام کا آلہ بن جائے۔

 جب عدلیہ طاقتور کے لیے موم اور کمزور کے لیے پتھر بن جائے۔

 جب پولیس اور انتظامیہ کسی خاص فرد کی وفادار ہو جائے، تو نظام کی روح قبض ہو جاتی ہے۔

 مضبوط ادارہ وہ ہوتا ہے جو فردِ واحد کی خواہش کے بجائے قانون کی حکمرانی پر چلے۔ اگر ادارہ مضبوط ہو، تو کتنا ہی بڑا "گدھ" کیوں نہ ہو، اسے مردار ڈھونڈنے کی ہمت نہیں ہوتی کیونکہ قانون کی گرفت اسے ہوا میں ہی جکڑ لیتی ہے۔ ہم نے شخصیات کو پوجا ہے، اداروں کو پامال کیا ہے۔ ہم نے فرد کو "ناگزیر" بنایا، اور نظام کو "بے بس"۔ جب تک ہم شخصیات کے سحر سے نکل کر اداروں کی خود مختاری پر پہرہ نہیں دیں گے، یہ مردار خوری کا سلسلہ ختم نہیں ہوگا۔

 

عوام: تماشائی، شکار یا سہولت کار؟

یہاں ایک کڑوا سچ عوام کے لیے بھی ہے: جب ووٹ ذاتی مفاد، برادری یا وقتی فائدے کے عوض بیچا جائے، تو ہم خود ان گدھوں کو اپنے وسائل پر منڈلانے کی دعوت دیتے ہیں۔ ہم میرٹ کو نظرانداز کر کے جب سفارش اور اقربا پروری کا راستہ اپناتے ہیں، تو ہم اسی تعفن زدہ نظام کو آکسیجن فراہم کر رہے ہوتے ہیں۔

 اگر عوام خود اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہوں، تو نظام کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے والے عناصر خود بخود طاقتور ہو جاتے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تبدیلی کسی "اوپری" حکم سے نہیں، بلکہ ہمارے اپنے رویوں کی تبدیلی سے آئے گی۔

حقیقت کی ایک زندہ مثال: نظام کی بے حسی

اسی تناظر میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ حال ہی میں بھارت میں پیش آیا، جو ہمارے پورے بیانیے کی عملی تصویر بن کر سامنے آتا ہے۔

مشرقی بھارت کی ریاست اڑیسہ میں ایک شخص، جیتو منڈا، کو اپنی بہن کی موت ثابت کرنے کے لیے اس کی ہڈیوں کا ڈھانچہ بینک لے جانا پڑا۔ اس کی بہن کا انتقال ہو چکا تھا، مگر جب وہ اس کے بینک اکاؤنٹ سے رقم نکلوانے گیا تو اسے بار بار قانونی ثبوت مانگے گئے۔ بارہا چکر لگانے اور ناکامی کے بعد، وہ مایوسی اور غصے میں اپنی بہن کی باقیات قبر سے نکال کر بینک کے سامنے لے آیا تاکہ ثابت کر سکے کہ وہ واقعی مر چکی ہے۔

اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو ہر طرف غم و غصہ پھیل گیا۔ حکام کے مطابق بینک نے صرف قانونی دستاویزات (جیسے ڈیتھ سرٹیفکیٹ اور قانونی وراثت کا ثبوت) مانگا تھا، جبکہ بینک انتظامیہ نے یہ بھی کہا کہ کسی نے ایسی غیر انسانی شرط نہیں رکھی تھی۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ ایک عام انسان، جو نظام کی پیچیدگیوں اور بیوروکریسی کو سمجھنے سے قاصر تھا، اس حد تک مجبور ہو گیا کہ اس نے انسانی وقار کی آخری حد بھی پار کر دی۔

یہ واقعہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں، بلکہ ایک پورے نظام کی ناکامی کا آئینہ دار ہے—جہاں قانون تو موجود ہے، مگر انسانیت کہیں گم ہو جاتی ہے؛ جہاں ضابطے تو ہیں، مگر رہنمائی نہیں؛ اور جہاں ادارے عوام کی سہولت کے بجائے ان کے لیے خوف اور الجھن کا سبب بن جاتے ہیں۔

 اقبال کا فلسفہ اور خودداری کا سوال

حکیم الامت علامہ اقبال کا یہ شاہکار شعر محض شاعری نہیں، بلکہ ایک خوددار قوم کے لیے ضابطہ حیات ہے:

 اے طائرِ لاہوتی! اس رزق سے موت اچھی

جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

 وہ فائدہ، وہ اقتدار اور وہ رزق جو انسان کی آزادی، خودداری اور اصولوں کو کمزور کر دے، وہ دراصل زہر ہے۔ جب ہم اداروں کو کمزور کر کے کسی شخصیت کے پیچھے لگ جاتے ہیں، تو ہماری "پرواز" میں کوتاہی آ جاتی ہے۔ ہم شاہین کے بجائے ان گدھوں کے ہمنوا بن جاتے ہیں جن کی نظریں صرف زمین کے گند پر ہوتی ہیں۔

 

نتیجہ: راہِ نجات کیا ہے؟ (قیادت اور نظام کا توازن)

اصل سوال یہ نہیں کہ گدھ کیا کر رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم انسان کیا بن رہے ہیں۔ اگر ہم واقعی ایک بہتر معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں صرف تنقید سے آگے بڑھنا ہوگا۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تاریخ میں بعض عظیم رہنماؤں نے قوموں کا رخ بدل دیا۔

چین کی ترقی ہو یا ملیشیا کی تبدیلی، جہاں مہاتیر محمد نے 1980 کی دہائی میں ملک کو ایک نئی سمت دی، یا افریقہ میں نیلسن منڈیلا—یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایک مضبوط، مخلص اور وژن رکھنے والا لیڈر قوم کو جگا سکتا ہے۔

اسی حقیقت کو علامہ اقبال نے یوں بیان کیا:

"ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا"

یعنی عظیم لیڈر صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں—اور جب وہ آتے ہیں تو تاریخ کا دھارا بدل دیتے ہیں۔


آخر میں بات سادہ ہے مگر کڑوی: جب تک ہم خود نہیں بدلیں گے، جب تک ہم اداروں کو شخصیات سے بالاتر نہیں سمجھیں گے، تب تک نہ نظام بدلے گا اور نہ ہی وہ لوگ جو اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اگر ہم نے اب بھی شعور، تعلیم اور ذمہ داری کا راستہ نہ اپنایا، تو تاریخ ہمیں ایک ایسی قوم کے طور پر یاد رکھے گی جس نے اپنے شاہینوں کو گدھ بنتے دیکھا اور خاموش رہی۔