فطرت کے
کارخانے میں کوئی بھی شے عبث نہیں۔ جسے ہم "بدصورت" گدھ کہتے ہیں، وہ
دراصل کائنات کا وہ خاموش محافظ ہے جو تعفن کو زندگی میں بدلنے کا ہنر جانتا ہے۔
گدھ مردار کھاتا ہے تاکہ زمین سانس لے سکے، وہ بیماریوں کو نگل لیتا ہے تاکہ زندوں
کو وباؤں سے بچا سکے۔ لیکن المیہ تب جنم لیتا ہے جب ہم اس فطری تشبیہ کو انسانی
معاشرے اور نظامِ سیاست پر لاگو کرتے ہیں۔ یہاں مماثلت تو نظر آتی ہے، مگر ایک ایسے
بھیانک فرق کے ساتھ جو ہماری بقا کے لیے سوالیہ نشان بن چکا ہے۔
فطرت کا گدھ بمقابلہ سماجی گدھ
فطرت کا
گدھ ایک ضابطے کا پابند ہے؛ وہ کبھی زندہ شکار نہیں کرتا۔ وہ صرف اس کا انتظار
کرتا ہے جو دم توڑ چکا ہو۔ مگر ہمارے نظام کے "گدھ" زندہ جسموں سے گوشت
نوچنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ یہ وہ طبقہ ہے جو بظاہر ترقی یافتہ دنیا کے ایوانوں میں
بستا ہے، مگر اس کی نظریں مسلسل ریاست کے وسائل اور غریب کی تھالی پر جمی رہتی ہیں۔
یہ لوگ
اقتدار، اثر و رسوخ اور نظام کی دراڑوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قومی خزانے کو اپنی
جاگیر سمجھتے ہیں۔ گدھ ماحول کو صاف کرتا ہے، جبکہ یہ انسانی گدھ پورے نظام کو
آلودہ اور زہریلا کر دیتے ہیں۔ یہ موازنہ سخت ضرور ہے، مگر اس سے زیادہ سخت وہ حقیقت
ہے جس کا سامنا ہمیں بطور قوم روزانہ کرنا پڑتا ہے۔
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ قومیں شخصیات کے سہارے نہیں، بلکہ مضبوط اداروں کے بل بوتے پر کھڑی ہوتی ہیں۔ جب ادارے کمزور ہوں اور شخصیات قد آور ہو جائیں، تو وہی "گدھ صفت" رویے جنم لیتے ہیں۔
عوام: تماشائی، شکار یا سہولت کار؟
یہاں ایک
کڑوا سچ عوام کے لیے بھی ہے: جب ووٹ ذاتی مفاد، برادری یا وقتی فائدے کے عوض بیچا
جائے، تو ہم خود ان گدھوں کو اپنے وسائل پر منڈلانے کی دعوت دیتے ہیں۔ ہم میرٹ کو
نظرانداز کر کے جب سفارش اور اقربا پروری کا راستہ اپناتے ہیں، تو ہم اسی تعفن زدہ
نظام کو آکسیجن فراہم کر رہے ہوتے ہیں۔
حقیقت کی ایک زندہ مثال: نظام کی بے حسی
اسی تناظر میں ایک دل دہلا دینے والا
واقعہ حال ہی میں بھارت میں پیش آیا، جو ہمارے پورے بیانیے کی عملی تصویر بن کر
سامنے آتا ہے۔
مشرقی بھارت کی ریاست اڑیسہ میں ایک
شخص، جیتو منڈا، کو اپنی بہن کی موت ثابت کرنے کے لیے اس کی ہڈیوں کا ڈھانچہ بینک
لے جانا پڑا۔ اس کی بہن کا انتقال ہو چکا تھا، مگر جب وہ اس کے بینک اکاؤنٹ سے رقم
نکلوانے گیا تو اسے بار بار قانونی ثبوت مانگے گئے۔ بارہا چکر لگانے اور ناکامی کے
بعد، وہ مایوسی اور غصے میں اپنی بہن کی باقیات قبر سے نکال کر بینک کے سامنے لے
آیا تاکہ ثابت کر سکے کہ وہ واقعی مر چکی ہے۔
اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر
وائرل ہوئی تو ہر طرف غم و غصہ پھیل گیا۔ حکام کے مطابق بینک نے صرف قانونی
دستاویزات (جیسے ڈیتھ سرٹیفکیٹ اور قانونی وراثت کا ثبوت) مانگا تھا، جبکہ بینک
انتظامیہ نے یہ بھی کہا کہ کسی نے ایسی غیر انسانی شرط نہیں رکھی تھی۔ تاہم، حقیقت
یہ ہے کہ ایک عام انسان، جو نظام کی پیچیدگیوں اور بیوروکریسی کو سمجھنے سے قاصر
تھا، اس حد تک مجبور ہو گیا کہ اس نے انسانی وقار کی آخری حد بھی پار کر دی۔
یہ واقعہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں،
بلکہ ایک پورے نظام کی ناکامی کا آئینہ دار ہے—جہاں قانون تو موجود ہے، مگر
انسانیت کہیں گم ہو جاتی ہے؛ جہاں ضابطے تو ہیں، مگر رہنمائی نہیں؛ اور جہاں ادارے
عوام کی سہولت کے بجائے ان کے لیے خوف اور الجھن کا سبب بن جاتے ہیں۔
اقبال کا
فلسفہ اور خودداری کا سوال
حکیم الامت
علامہ اقبال کا یہ شاہکار شعر محض شاعری نہیں، بلکہ ایک خوددار قوم کے لیے ضابطہ حیات
ہے:
جس رزق سے
آتی ہو پرواز میں کوتاہی
نتیجہ: راہِ نجات کیا ہے؟ (قیادت اور نظام کا توازن)
اصل سوال یہ نہیں کہ گدھ کیا کر رہا ہے،
بلکہ یہ ہے کہ ہم انسان کیا بن رہے ہیں۔ اگر ہم واقعی ایک بہتر معاشرہ چاہتے ہیں
تو ہمیں صرف تنقید سے آگے بڑھنا ہوگا۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تاریخ میں بعض
عظیم رہنماؤں نے قوموں کا رخ بدل دیا۔
چین کی ترقی ہو یا ملیشیا کی تبدیلی،
جہاں مہاتیر محمد نے 1980 کی دہائی میں ملک کو ایک نئی سمت دی، یا افریقہ میں نیلسن منڈیلا—یہ
سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایک مضبوط، مخلص اور وژن رکھنے والا لیڈر قوم کو جگا
سکتا ہے۔
اسی حقیقت کو علامہ اقبال نے یوں بیان
کیا:
"ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی
ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور
پیدا"
یعنی عظیم لیڈر صدیوں میں پیدا ہوتے
ہیں—اور جب وہ آتے ہیں تو تاریخ کا دھارا بدل دیتے ہیں۔
آخر میں
بات سادہ ہے مگر کڑوی: جب تک ہم خود نہیں بدلیں گے، جب تک ہم اداروں کو شخصیات سے
بالاتر نہیں سمجھیں گے، تب تک نہ نظام بدلے گا اور نہ ہی وہ لوگ جو اس سے فائدہ
اٹھا رہے ہیں۔ اگر ہم نے اب بھی شعور، تعلیم اور ذمہ داری کا راستہ نہ اپنایا، تو
تاریخ ہمیں ایک ایسی قوم کے طور پر یاد رکھے گی جس نے اپنے شاہینوں کو گدھ بنتے دیکھا
اور خاموش رہی۔