بیماری، بے روزگاری اور مستقبل کا خوف — میری خاموش جنگ اور ایک دعا جو مجھے زندہ رکھے ہوئے ہے

Dnnetwork

 

ایک بیمار اور پریشان انسان کی خاموش دعا، جو اللہ سے عزت والی زندگی اور بہتر مستقبل کی امید مانگ رہا ہے۔

بیماری اور بے روزگاری سے پریشان شخص دعا مانگتے ہوئے، اللہ سے مدد اور بہتر مستقبل کی امید رکھتے ہوئے۔

کبھی کبھی زندگی انسان کو ایسے مقام پر لا کر کھڑا کر دیتی ہے جہاں وہ خود کو مکمل بے بس محسوس کرتا ہے۔

میں اس وقت اپنی زندگی کے اسی دور سے گزر رہا ہوں—ایک ایسا دور جہاں بیماری نے جسم کو کمزور کر دیا ہے اور بے روزگاری نے دل کو خوف سے بھر دیا ہے۔

 میں بیمار ہوں۔

پہلے جو کام آسان لگتے تھے، اب وہی مشکل محسوس ہوتے ہیں۔ جسم میں طاقت کم ہو گئی ہے، اور ہر دن ایک نئی تھکن لے کر آتا ہے۔ جب صحت ساتھ چھوڑنے لگتی ہے تو انسان کو احساس ہوتا ہے کہ اصل دولت کیا تھی۔

 لیکن بیماری سے بھی زیادہ ڈرانے والی چیزآمدن کا نہ ہونا ہے۔

میرے پاس اس وقت کوئی مستقل ذریعۂ آمدن نہیں۔ جیب خالی ہو اور جسم کمزور ہو، تو انسان کے اندر ایک مسلسل خوف پیدا ہو جاتا ہے—ایسا خوف جو دن میں بھی ساتھ رہتا ہے اور رات کو بھی سونے نہیں دیتا۔

 

اکثر رات کے وقت میں جاگتا رہتا ہوں۔

چھت کو دیکھتے ہوئے ایک ہی سوال ذہن میں بار بار آتا ہے:

 

میرا مستقبل کیا ہوگا؟

اگر بیماری بڑھ گئی تو میں کیا کروں گا؟

اگر کوئی کام نہ ملا تو میرا اور میرے گھر والوں کا کیا بنے گا؟

 

یہ سوالات انسان کو اندر سے کھوکھلا کرنے لگتے ہیں۔

دل گھبراتا ہے، دماغ تھک جاتا ہے، اور امید کبھی کبھی بہت دور محسوس ہونے لگتی ہے۔

 

ایسے لمحوں میں انسان کو اپنی حقیقت سمجھ آتی ہے۔

انسان کو احساس ہوتا ہے کہ دنیا کے سہارے کتنے کمزور ہیں، اور اصل سہارا صرف اللہ کی ذات ہے۔

 

انہی لمحوں میں میرے دل سے ایک دعا نکلتی ہے—ایک ایسی دعا جو میرے خوف، میری بے بسی اور میری امید تینوں کا اظہار ہے:

 

مجھے کسی کا محتاج نہ کر اے میرے مولا

مجھے کسی کے در پہ نہ بھیج اے میرے مولا

"مجھے کسی کا محتاج نہ کر اے میرے مولا

مجھے کسی کے در پہ نہ بھیج اے میرے مولا

بس اپنے ہی در کا سائل رکھ اے میرے مولا

بس اپنے ہی در کا سائل رکھ اے میرے مولا"

 

یہ دعا صرف الفاظ نہیں ہے،

یہ میری روز کی فریاد ہے۔

جب دل ٹوٹنے لگتا ہے، جب ہمت ختم ہونے لگتی ہے، تو میں یہی الفاظ دہراتا ہوں۔

 

میں اللہ سے یہی مانگتا ہوں کہ وہ مجھے صحت دے، ایسی طاقت دے کہ میں دوبارہ کھڑا ہو سکوں، اور ایسا ذریعۂ رزق دے جس میں عزت ہو—ایسا رزق جس کے لیے کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔

 

بیماری نے مجھے ایک بات ضرور سکھائی ہے:

انسان جتنا خود کو مضبوط سمجھتا ہے، حقیقت میں وہ اتنا مضبوط نہیں ہوتا۔

اصل طاقت وہی ہے جو اللہ انسان کے دل میں ڈال دے۔

 

میں یہ نہیں کہتا کہ میں ہمیشہ مضبوط رہتا ہوں۔

سچ یہ ہے کہ کئی بار میں ٹوٹ جاتا ہوں۔

کئی بار دل میں مایوسی آتی ہے۔

لیکن پھر یہی سوچ کر خود کو سنبھالتا ہوں کہ مشکل وقت ہمیشہ کے لیے نہیں رہتا۔

 

ہر رات کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہو،

آخر صبح ضرور آتی ہے۔

 

اگر آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہیں اور آپ بھی کسی بیماری، بے روزگاری یا مستقبل کی فکر میں مبتلا ہیں، تو ایک بات یاد رکھیں:

آپ اکیلے نہیں ہیں۔

 

ہم جیسے بہت سے لوگ ہیں جو خاموشی سے اپنی جنگ لڑ رہے ہیں۔

کوئی باہر سے مضبوط نظر آتا ہے، لیکن اندر سے ٹوٹ رہا ہوتا ہے۔

 

میری بس یہی دعا ہے کہ اللہ مجھے اس مشکل وقت سے نکالے، مجھے صحت دے، مجھے حوصلہ دے، اور میرے لیے ایسا راستہ کھول دے جس کا میں ابھی تصور بھی نہیں کر سکتا۔

 

اور جب بھی دل گھبراتا ہے، میں پھر یہی الفاظ دہراتا ہوں:

 "مجھے کسی کا محتاج نہ کر اے میرے مولا

مجھے کسی کے در پہ نہ بھیج اے میرے مولا

بس اپنے ہی در کا سائل رکھ اے میرے مولا

بس اپنے ہی در کا سائل رکھ اے میرے مولا

 آمین۔

 MP3 ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں