اللہ… اللہ… اللہ…یا شافی… یا کافی…یا اللہ… میرے قلب کو سکون دے

Dnnetwork

 

اللہ… اللہ… اللہ…
یا اللہ… میرے قلب کو سکون دے


وہ رات صرف ایک رات نہ تھی، وہ ایک امتحان تھی… ایک ایسی آزمائش جس نے مجھے اندر سے ہلا کر رکھ دیا۔

 

   کل رات کمرے میں اے -سی کی وجہ سے سردی کی ہلکی سی لہر کمرے میں موجود تھی، مگر میرے جسم پر پسینہ بہہ رہا تھا۔ سینے کے بائیں جانب ایک عجیب سی ٹیس اُٹھ رہی تھی—پہلے ہلکی، پھر تیز، اور پھر ایسی شدت اختیار کر گئی جیسے کسی نے دل کو مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔ سانس لینا مشکل ہو رہا تھا، جیسے ہر سانس کے ساتھ زندگی تھوڑی تھوڑی کم ہو رہی ہو۔

 

میں نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا… دل بے ترتیب دھڑک رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے ابھی رک جائے گا۔

 

جلدی کرو!” گھر والوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ گھبراہٹ، خوف، بے بسی… سب کچھ ایک ساتھ تھا۔ مجھے سہارا دے کر گاڑی تک لایا گیا۔ راستہ جیسے ختم ہی نہیں ہو رہا تھا۔ ہر لمحہ ایک صدی جیسا لگ رہا تھا۔

 

آخرکار ہم قریبی ہسپتال پہنچ گئے… وہی ہسپتال جس سے امید تھی کہ شاید یہاں زندگی بچ جائے۔

 

مگر وہاں جا کر جو حقیقت سامنے آئی… وہ کسی زخم سے کم نہ تھی۔

 

ہسپتال کی دیواریں بوسیدہ تھیں، روشنی مدھم تھی، اور سب سے بڑھ کر—کوئی قابل ڈاکٹر موجود نہ تھا۔ میں اسٹریچر پر لیٹا تھا، مگر ایسا لگ رہا تھا جیسے میں کسی سنسان جگہ پر چھوڑ دیا گیا ہوں۔ کوئی ہارٹ اسپیشلسٹ نہیں… کوئی ایسا ڈاکٹر نہیں جو یہ سمجھ سکے کہ میرے دل کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔

 

“ECG" کر دیتے ہیں…” کسی نے لاپرواہی سے کہا۔

 

ایک پرانی سی مشین لائی گئی… تاریں لگائی گئیں… اور چند لمحوں میں ایک کاغذ ہاتھ میں تھما دیا گیا۔ مگر اس کاغذ میں میرے درد کا جواب نہیں تھا۔

 

پھر کسی نے جیب سے ایک گولی نکالی

 

یہ لے لیں… ڈسپرین ہے، ٹھیک ہو جائیں گے…”

 

بس اتنا ہی؟

 

نہ کوئی خون کا ٹیسٹ… نہ کوئی تفصیلی معائنہ… نہ کوئی سنجیدگی۔

 

اس لمحے مجھے لگا جیسے میری زندگی کی کوئی قیمت ہی نہیں۔ جیسے اگر آج میرا دل رک جائے تو یہ صرف ایک معمولی خبر ہوگی—نہ کوئی شور، نہ کوئی افسوس۔

 

میں ہسپتال کے ٹھنڈے فرش پر بیٹھ گیا۔ دل اب بھی درد میں تھا… مگر اس سے زیادہ درد اس بے بسی کا تھا۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے… اور پہلی بار میں نے خود کو مکمل طور پر بے بس محسوس کیا۔

 

اس لمحے مجھے کسی ڈاکٹر کی نہیں… صرف اپنے رب کی ضرورت تھی۔

 

میں نے آنکھیں بند کیں… اور دل سے ایک آواز نکلی

 

یا اللہ… اگر تو ہے… تو مجھے تھام لے…”

 

وہ لمحہ میری زندگی کا سب سے سچا لمحہ تھا۔ جب انسان کے پاس کچھ نہیں رہتا… تو وہ صرف اپنے رب کو پکارتا ہے۔

 

اسی رات، اسی درد میں… میرے دل سے کچھ الفاظ نکلے۔ یہ کوئی شاعری نہیں تھی… یہ میرے ٹوٹے ہوئے دل کی آواز تھی۔

 

میرے دل کی آواز

 اللہ… اللہ… اللہ

یا شافی… یا کافی… یا اللہ

میرے قلب کو سکون دے

 

 میرے قلب پہ رکھ دے صبر کا نور

میرے قلب پہ رکھ دے صبر کا نور

جب درد اٹھے سینے کے اندر

تیرا ہی نام بنے میرا سرور

 

یہ دل جو ڈرتا رہتا ہے

ہر دھڑکن میں خوف چھپاتا ہے

تو رحمت بن کر آ مولا

اس دل کو حوصلہ دیتا ہے

 

ہر سانس تیری امانت ہے

ہر لمحہ تیری رحمت ہے

میں صبر کو تھامے بیٹھا ہوں

تو ہی میری حفاظت ہے

 

یا اللہ… میرے قلب کو تھام

یا اللہ… مجھے صبر عطا کر

جب آنکھ سے آنسو بہنے لگیں

اپنی رحمت کا سایہ کر

 

اندھیری رات جب بڑھ جائے

اور خوف دلوں پہ چھا جائے

میں تیرا نام دہراتا رہوں

تو نور دلوں میں لا جائے

 

نہ جلدی، نہ شکوہ کوئی

بس صبر کی راہ دکھا دے

میرے کمزور اس قلب کو

اپنی رحمت میں چھپا لے

 

اللہ… اللہ… میرے قلب کو سکون دے

اللہ… اللہ… میرے قلب کو صبر دے

یا شافی… یا شافی… میرے قلب کو شفا دے

 

یہ الفاظ کسی شاعر کے نہیں

یہ میرے دل کی وہ چیخ ہے… جو اس رات خاموشی میں رب تک پہنچی۔

آپ بھی آنکھیں بند کر کے سنیں ۔۔۔۔۔اور اللہ پاک کو اپنے دل میں محسو س کریں ۔۔اللہ پاک تمام بیمارو ں کو شفاء عطا فرمائے ۔