وفاقی آئینی عدالت نے
سیکشن 7E کو غیر آئینی قرار دے کر
ختم کر دیا۔ جائیداد مالکان، سرمایہ کاروں اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کیلئے یہ فیصلہ
ایک بڑی قانونی اور مالی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے۔ |
سیکشن 7E کا خاتمہ — جائیداد مالکان کیلئے تاریخی ریلیف
وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی سیکشن 7E کو غیر آئینی قرار دینا پاکستان کے ٹیکس نظام، رئیل اسٹیٹ سیکٹر اور آئینی حدود کے حوالے سے ایک نہایت اہم اور تاریخی فیصلہ ہے۔ یہ صرف ایک ٹیکس شق کے خاتمے کا معاملہ نہیں بلکہ یہ فیصلہ ریاستی اختیارات، آئینی حدود اور شہریوں کے مالی حقوق کے درمیان توازن کو دوبارہ واضح کرتا ہے۔
سیکشن 7E کو فنانس ایکٹ 2022 کے ذریعے متعارف
کروایا گیا تھا۔ اس قانون کے تحت اگر کسی شخص کے پاس ایک سے زائد جائیداد موجود ہو
تو حکومت یہ تصور کرتی تھی کہ اس جائیداد سے مالک کو اس کی مارکیٹ ویلیو کے 5 فیصد
کے برابر آمدن حاصل ہو رہی ہے، چاہے حقیقت میں کوئی کرایہ وصول نہ کیا جا رہا ہو۔
اسی فرضی یا “Deemed” آمدن
پر وفاقی انکم ٹیکس عائد کیا جاتا تھا۔
یہی وہ
بنیادی نکتہ تھا جس نے شروع دن سے اس قانون کو متنازعہ بنا دیا۔ کیونکہ ٹیکس ہمیشہ
حقیقی آمدن پر عائد کیا جاتا ہے، نہ کہ اندازوں، مفروضوں یا حکومتی قیاس آرائیوں
پر۔ اگر کسی شخص کی جائیداد خالی پڑی ہے، زیر تعمیر ہے، وراثتی تنازع میں ہے یا
مارکیٹ حالات کی وجہ سے کرایہ پر نہیں جا رہی، تو ایسے میں حکومت کی جانب سے یہ
فرض کر لینا کہ مالک کو آمدن حاصل ہو رہی ہے، قانونی اور اخلاقی دونوں اعتبار سے
ایک کمزور مؤقف تھا۔
اسی بنیاد
پر ملک بھر میں اس قانون کے خلاف آئینی درخواستیں دائر کی گئیں۔ مختلف ہائی کورٹس
نے اس پر مختلف آراء دیں۔ پشاور ہائی کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ نے اسے غیر
آئینی قرار دیا جبکہ بعض دیگر عدالتوں میں مختلف نوعیت کے فیصلے سامنے آئے۔ بالآخر
یہ تمام مقدمات وفاقی آئینی عدالت کے سامنے یکجا ہوئے جہاں عدالت نے تفصیلی سماعت
کے بعد سیکشن 7E
کو آئین سے
متصادم قرار دے کر کالعدم کر دیا۔
عدالت کے
فیصلے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس نے وفاقی حکومت کے ٹیکس اختیارات کی آئینی
حدود کو واضح کیا۔ پاکستان کے آئین کے مطابق وفاق صرف “آمدن” پر ٹیکس لگا سکتا ہے
جبکہ غیر منقولہ جائیداد پر ٹیکس لگانے کا اختیار صوبائی حکومتوں کے پاس ہے۔ عدالت
نے اس اصول کو مضبوط کرتے ہوئے قرار دیا کہ سیکشن 7E دراصل پراپرٹی ٹیکس تھا جسے انکم
ٹیکس کا نام دے کر نافذ کیا گیا۔
یہ فیصلہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان میں ٹیکس پالیسی سازی ایک خطرناک رجحان کا شکار رہی ہے۔ حکومتیں ریونیو بڑھانے کیلئے آسان راستہ اختیار کرتی ہیں
پہلے سے رجسٹرڈ اور دستاویزی معیشت میں موجود لوگوں پر مزید بوجھ ڈال دو۔ نئے
ٹیکس نیٹ کی توسیع، غیر دستاویزی معیشت کو شامل کرنے اور سرکاری اخراجات میں
اصلاحات کرنے کے بجائے ہر سال نئے فارمولے متعارف کروائے جاتے ہیں۔
سیکشن 7E بھی اسی سوچ کی پیداوار تھی۔
ریاست نے
یہ سمجھ لیا تھا کہ چونکہ رئیل اسٹیٹ ایک بڑا سیکٹر ہے اس لیے اس پر کسی بھی شکل
میں اضافی بوجھ ڈال کر فوری ریونیو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن پالیسی ساز یہ
سمجھنے میں ناکام رہے کہ غیر حقیقی ٹیکس ہمیشہ مارکیٹ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس
قانون نے پراپرٹی مارکیٹ میں خوف، غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاری کے بحران کو
مزید بڑھایا۔
بہت سے
لوگوں نے نئی سرمایہ کاری روک دی، جائیداد کی خرید و فروخت سست پڑ گئی، اور ایسے
افراد بھی متاثر ہوئے جن کی جائیدادیں کسی کاروباری مقصد کے بجائے خاندانی یا ذاتی
ضروریات کیلئے تھیں۔ وراثتی جائیدادوں، خالی گھروں اور غیر استعمال شدہ پلاٹس پر
فرضی آمدن کے نام پر ٹیکس عائد کرنا ایک ایسی پالیسی تھی جس نے معاشی سرگرمی کے
بجائے معاشی دباؤ پیدا کیا۔
یہاں ایک
اور تلخ حقیقت کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ پاکستان میں ٹیکس نظام کا سب سے بڑا مسئلہ
ٹیکس کی شرح نہیں بلکہ اعتماد کا فقدان ہے۔ لوگ ٹیکس اس لیے نہیں چراتے کہ وہ
لازماً بددیانت ہیں، بلکہ اکثر اس لیے مزاحمت کرتے ہیں کیونکہ انہیں یقین نہیں
ہوتا کہ ان کے ادا کردہ ٹیکس کا استعمال شفاف اور منصفانہ انداز میں ہوگا۔
جب حکومتیں
غیر منطقی قوانین نافذ کرتی ہیں تو وہ اپنے ہی نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
سیکشن 7E جیسے قوانین دراصل اس
تاثر کو مضبوط کرتے ہیں کہ ریاست معیشت کو بڑھانے کے بجائے صرف فوری پیسہ اکٹھا
کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔
وفاقی
آئینی عدالت کے فیصلے نے کم از کم ایک اہم اصول کو بحال کیا ہے:
ریاست آئین
سے بالاتر نہیں۔
اگر حکومت
کو ریونیو چاہیے تو اسے قانونی، آئینی اور معاشی طور پر پائیدار راستے اختیار کرنا
ہوں گے۔ مصنوعی ٹیکس، پیچیدہ فارمولے اور فرضی آمدن پر مبنی پالیسیاں وقتی ریونیو
تو دے سکتی ہیں لیکن طویل مدت میں یہ سرمایہ کاری، کاروبار اور معیشت کا اعتماد
تباہ کر دیتی ہیں۔
اس فیصلے
کے بعد اب سیکشن 7E
کے تحت
جاری کئی نوٹسز، کارروائیاں اور ٹیکس مطالبات غیر مؤثر ہو جائیں گے۔ یہ جائیداد
مالکان کیلئے یقیناً ایک بڑا ریلیف ہے، لیکن اصل سوال اب بھی باقی ہے:
کیا ہماری
ٹیکس پالیسی واقعی معیشت کو بڑھانے کیلئے بن رہی ہے یا صرف ریونیو کے ہدف پورے
کرنے کیلئے؟
پاکستان کو
اس وقت ایسے ٹیکس نظام کی ضرورت ہے جو:
✔
سرمایہ
کاری کی حوصلہ افزائی کرے
✔
دستاویزی
معیشت کو وسیع کرے
✔
ٹیکس نیٹ
میں نئے افراد شامل کرے
✔
کاروباری
لاگت کم کرے
✔
اور آئینی
حدود کے اندر رہتے ہوئے شفاف نظام قائم کرے
اگر ریاست
ہر بحران کا حل صرف نئے ٹیکسوں میں تلاش کرتی رہی تو سرمایہ کار، صنعتکار اور عام
شہری سب دفاعی پوزیشن اختیار کرتے رہیں گے۔ معیشت اعتماد پر چلتی ہے، دباؤ پر
نہیں۔
سیکشن 7E کا خاتمہ صرف ایک قانونی فیصلہ نہیں
بلکہ پالیسی سازوں کیلئے ایک واضح پیغام ہے کہ معاشی انجینئرنگ اور آئینی حدود کو
نظر انداز کر کے بنائے گئے قوانین زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتے۔