جب
ڈاکٹروں نے بتایا کہ دس گھنٹے کی بڑی سرجری ہوگی اور سٹوما بیگ لگ سکتا ہے، تو
مریم کے لیے جیسے دنیا رک گئی۔ |
کبھی کبھی زندگی انسان کو ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں ہر سانس ایک آزمائش لگتی ہے…
جہاں دل صرف ایک ہی سوال کرتا ہے:
"یا اللہ… یہ
سب میرے ساتھ ہی کیوں؟"
لیکن پھر انہی اندھیروں کے درمیان
اللہ اپنی رحمت کے چراغ بھی جلا دیتا ہے۔
اور انسان کو احساس ہوتا ہے کہ آزمائش
کے ساتھ اللہ کی رحمت بھی چل رہی ہوتی ہے۔
یہ کہانی ہے مریم کی…
ایک ایسی لڑکی کی جس نے درد بھی
دیکھا، خوف بھی محسوس کیا، اور پھر صبر کے راستے پر چلتے ہوئے اللہ کو پہلے سے
زیادہ قریب پایا۔
“یا اللہ… مجھے سٹوما بیگ نہ لگے”
جب ڈاکٹروں نے بتایا کہ دس گھنٹے کی
بڑی سرجری ہوگی اور سٹوما بیگ لگ سکتا ہے، تو مریم کے لیے جیسے دنیا رک گئی۔
ہسپتال کی سفید دیواریں…
مشینوں کی آوازیں…
امی کی آنکھوں کے آنسو…
اور دل میں صرف ایک دعا:
"یا اللہ… کوئی معجزہ کر دے…"
سٹوما بیگ کا نام سنتے ہی اس کے دل پر
خوف طاری ہو جاتا تھا۔
بلڈ پریشر بار بار ہائی ہو رہا تھا۔
امی باہر بیٹھ کر سجدوں میں رو رہی
تھیں۔
لوگ کہہ رہے تھے:
"اتنی لمبی سرجری… اللہ خیر کرے…"
لیکن ایک ماں امید نہیں چھوڑتی۔
مریم کی امی نے اللہ کے سامنے ہاتھ
پھیلا دیے۔
ابو خاموش تھے… مگر ان کی خاموشی بھی
دعا بن چکی تھی۔
“سٹوما بیگ” کیا ہوتا ہے؟
ڈاکٹروں
نے بتایا کہ سرجری کے بعد ممکن ہے اسے سٹوما بیگ استعمال
کرنا پڑے۔
سٹوما بیگ کیا ہے؟
سٹوما
بیگ ایک خاص میڈیکل بیگ ہوتا ہے جو جسم کے باہر لگایا جاتا ہے۔
جب کسی
بیماری یا سرجری کی وجہ سے آنتیں نارمل طریقے سے کام نہیں کرتیں، تو پیٹ پر ایک
چھوٹا سا راستہ بنایا جاتا ہے جسے “سٹوما” کہتے ہیں۔
اس راستے
کے ذریعے جسم کا فضلہ ایک بیگ میں جمع ہوتا ہے۔
یہ
بہت سے مریضوں کے لیے زندگی بچانے والا حل ہوتا ہے، لیکن شروع میں اسے قبول کرنا
جذباتی طور پر بہت مشکل محسوس ہوتا ہے۔
وہ دس گھنٹے…
سرجری شروع ہوئی۔
گھنٹے گزرتے گئے۔
ہر لمحہ گھر والوں کے لیے قیامت جیسا
تھا۔
قرآن کی آیت بار بار دل میں اتر رہی
تھی:
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا
تُكَذِّبَانِ
“پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں
کو جھٹلاؤ گے؟”
کبھی انسان سوچتا ہے کہ نعمت صرف آسان
زندگی کا نام ہے…
لیکن حقیقت یہ ہے کہ بعض اوقات آزمائش
بھی اللہ کی نعمت بن جاتی ہے، کیونکہ وہ انسان کو اللہ کے قریب لے آتی ہے۔
ہوش آیا…
اور پہلا جملہ
جب مریم کو ہوش آیا تو اس کے منہ سے
پہلا جملہ نکلا:
"میری ٹانگ میں بہت درد ہے…"
پورا جسم تکلیف میں تھا۔
پیٹ کی بڑی سرجری ہوئی تھی۔
ریکٹم آپریشن، سٹوما، ڈرینز… سب کچھ
ہو چکا تھا۔
لیکن اس وقت اس کی دنیا صرف ٹانگ کے
درد تک محدود تھی۔
ٹانگیں سوجھ چکی تھیں۔
پاؤں پھول گئے تھے۔
ڈاکٹروں نے میڈیکیٹڈ ساکس پہنائے۔
پھر ایک اور خبر ملی:
"آپ کے جسم میں پروٹین اور البومن بہت
کم ہو گیا ہے…"
مہنگے انجیکشن لگے۔
ایک انجیکشن پچیس ہزار روپے کا تھا۔
لیکن پھر بھی ڈاکٹروں نے کہا:
"آپ کو انڈوں کی سفیدیاں کھانی ہوں گی…"
وہ لڑکی جو
انڈہ نہیں کھاتی تھی…
مریم نے زندگی میں کبھی شوق سے انڈہ
نہیں کھایا تھا۔
لیکن اب ہسپتال میں ہر صبح دو اُبلے
انڈے اس کے سامنے رکھ دیے جاتے۔
وہ ان کو دیکھ کر پریشان ہو جاتی۔
بھوک لگتی… مگر خوف زیادہ ہوتا۔
اسے ڈر تھا کہ اگر اس نے کچھ کھایا تو
سٹوما بیگ بھر جائے گا…
اور پھر اسے وہ سب برداشت کرنا پڑے گا
جس کے تصور سے بھی وہ کانپ جاتی تھی۔
وہ دن جب
سٹوما بیگ لیک ہو گیا
ایک دن اچانک سٹوما بیگ لیک ہو گیا۔
اور مریم ٹوٹ گئی۔
وہ وارڈ میں بیٹھ کر چیخ چیخ کر رونے
لگی۔
اسے لگا اس کی زندگی ختم ہو چکی ہے۔
اس کی بہن نے اسے سنبھالا۔
صاف کیا۔
حوصلہ دیا۔
کبھی کبھی اللہ انسانوں کے روپ میں
بھی رحمت بھیج دیتا ہے۔
چار ڈرینز…
ایک یورن بیگ… اور بے شمار دعائیں
اس کے جسم کے ساتھ چار ڈرینز لگی ہوئی
تھیں۔
ایک یورن بیگ الگ تھا۔
جب وہ واش روم تک جاتی تو ساری بوتلیں
ہاتھ میں پکڑ کر چلتی۔
ہر ڈاکٹر سے صرف ایک ہی بات کہتی:
"مجھے گھر بھیج دیں… پلیز…"
راتوں کو نیند نہیں آتی تھی۔
نو مہینے کا چھوٹا بیٹا یاد آتا تو دل
ٹوٹ جاتا۔
لیکن انہی راتوں میں اس نے اللہ کو سب
سے قریب محسوس کیا۔
وارڈ کی عورتیں اس کے سر پر ہاتھ
پھیرتیں۔
دعائیں دیتیں۔
اور وہ خاموشی سے آسمان کی طرف دیکھتی
رہتی۔
بیماری
انسان کو بدل دیتی ہے
آہستہ آہستہ اس نے انڈوں کی سفیدیاں
کھانا شروع کیں۔
مجبوری میں کھائیں…
پھر وہی چیز پسند آنے لگی۔
اور تب اسے احساس ہوا:
انسان حالات سے بدل جاتا ہے۔
بیماری صرف جسم کو کمزور نہیں کرتی…
یہ انسان کے اندر ایک نئی روح پیدا
کرتی ہے۔
یہ صبر سکھاتی ہے۔
شکر سکھاتی ہے۔
اور اللہ سے تعلق مضبوط کرتی ہے۔
الرَّحْمَٰنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ
خَلَقَ الْإِنسَانَ
“وہ رحمٰن ہے… اسی نے قرآن سکھایا… اسی
نے انسان کو پیدا کیا۔”
صبر کیا ہے؟
مریم نے سیکھا کہ صبر صرف خاموش رہنے
کا نام نہیں۔
صبر یہ ہے کہ انسان اندر سے ٹوٹ رہا
ہو…
درد میں ہو…
خوفزدہ ہو…
پھر بھی اللہ سے امید نہ چھوڑے۔
دو سال گزر گئے…
آج بھی ٹانگ میں درد ہے۔
آج بھی ریشے کا مسئلہ موجود ہے۔
لیکن اب اس کے دل میں شکوہ کم اور
“الحمدللہ” زیادہ ہے۔
پھر ایک دن…
بڑی عید سے ایک دن پہلے اسے ہسپتال سے
چھٹی ملی۔
اور جب وہ گھر واپس جا رہی تھی تو اسے
یوں محسوس ہوا جیسے کوئی قیدی برسوں بعد آزاد ہوا ہو۔
وہ سفر آسان نہیں تھا۔
بہت مشکل تھا۔
لیکن اللہ نے اسے گرنے نہیں دیا۔
آج بھی وہ کھڑی ہے۔
مسکرا رہی ہے۔
اور ہر سانس کے ساتھ کہہ رہی ہے:
الحمدللہ۔
زندگی ہمیشہ آسان نہیں ہوتی۔
کبھی بیماری، کبھی درد، کبھی خوف انسان
کو توڑ دیتے ہیں۔
لیکن یاد رکھیں:
اللہ کی رحمت آزمائشوں کے اندر بھی
موجود ہوتی ہے۔
اور واقعی…
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا
تُكَذِّبَانِ
“پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں
کو جھٹلاؤ گے؟”