ہمارے معاشرے میں جب بھی کوئی غریب یا گاؤں کا سیدھا سادھا انسان شہر کے بڑے سرکاری ہسپتالوں یا دفاتر کا رخ کرتا ہے، تو اسے قدم قدم پر احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ یہاں "اوپرا" (اجنبی) ہے۔ اس کی سادگی اور عاجزی کو ہمارا بے حس نظام کچل کر رکھ دیتا ہے۔
میو ہسپتال لاہور کی راہداریوں میں
ہسپتال انتظامیہ کی سختی اور ایک لاچار ماں کی آنکھ کا سچ بیان کرتی ہوئی ایک
دردناک نظم، جو ہمارے دلوں کو جھنجوڑ کر رکھ دیتی ہے۔
"یہ تمہارا پنڈ نہیں، یہ میو ہسپتال
لاہور ہے..."
ایہہ تُہاڈا پنڈ نہیں،
ایہہ میو ہسپتال لاہور اے
نظام کی بے حسی اور عام انسان کی چیخ
اس کی ایک ایک سطر ہمارے سماجی ڈھانچے اور نوکر شاہی پر ایک گہرا طنز ہے۔ ایک غریب پنڈ (گاؤں) سے چل کر لاہور کے میو ہسپتال جیسے بڑے علاج گاہ میں آتا ہے
- سرکاری
دفاتر کی خواری:
شاعر نے روسی افسانہ نگار انتون
چیخوف (Anton
Chekhov) کی شہرہ آفاق کہانی "ایک
کلرک کی موت" کا حوالہ دے کر کمال کر دیا ہے۔ جیسے صدیوں پہلے کا نظام
چھوٹے انسان کو رول دیتا تھا، آج کا نوکر شاہی کا نظام بھی ویسا ہی ہے۔ طاقت
کے سائے میں غریب کا سوال آج بھی دب جاتا ہے۔
- دوہرا
معیار (VVIP کلچر): اگر
کوئی "پہنچ والا" یا صاحبِ اقتدار آ جائے تو قانون، ضابطے اور لہجے
سب موم ہو جاتے ہیں، لیکن اگر کوئی عام دیہاتی بندہ اپنی فریاد لے کر آئے تو
ہسپتال کے دروازے بھی اس پر بند کر دیے جاتے ہیں۔ شاعر کا یہ سوال روح کو
تڑپا دیتا ہے: ایہہ
فرق کیوں اے، ایہہ دیوار کیوں اے؟
یہ صرف شاعری نہیں، بلکہ ہمارے
معاشرے کا وہ آئینہ ہے جسے دیکھنے سے ہم کتراتے ہیں۔ جب تک ہسپتالوں میں عام انسان
کو پیار اور عزت نہیں ملے گی، تب تک انسانیت یوں ہی ہسپتالوں کے برآمدوں میں سسکتی
رہیں گی۔