| یہ تمہارا پنڈ نہیں، یہ میو ہسپتال لاہور ہے |
لاہور کے میو ہسپتال کے بلڈ بینک میں
پیش آنے والے ایک واقعے نے سرکاری اداروں میں عام شہری کے ساتھ ہونے والے رویوں پر
ایک بار پھر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایک شخص شدید زخمی
مریض کے لیے خون کے انتظام کی غرض سے بلڈ بینک پہنچا۔ ایسے وقت میں جب مریض کے اہل
خانہ شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہوتے ہیں، انہیں تعاون اور رہنمائی کی
ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن مبینہ طور پر بلڈ بینک کے ایک ملازم نے نہ صرف سخت لہجہ
اختیار کیا بلکہ اسے دھمکی آمیز انداز میں کہا:
"چلے جاؤ، ورنہ گارڈ کو بلاتا ہوں۔ پھر شام تک یہیں بیٹھے رہو
گے۔"
بات یہیں ختم نہیں ہوئی۔ ملازم نے
مزید کہا:
"یہ تمہارا پنڈ (گاؤں) نہیں ہے، یہ میو ہسپتال لاہور ہے۔"
یہ جملے صرف ایک شخص کی بدتمیزی نہیں
بلکہ ایک ایسی ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں جو بعض اوقات ہمارے سرکاری اداروں میں
دکھائی دیتی ہے؛ ایک ایسی ذہنیت جس میں شہری کو خدمت حاصل کرنے والا نہیں بلکہ
احسان لینے والا سمجھا جاتا ہے۔
اس واقعے نے مجھے برسوں پہلے سنی ہوئی
ایک بات یاد دلائی۔ ایک دیہاتی ماں اپنے نوجوان بیٹے کو دعا دیتے ہوئے کہتی تھی:
"پُتر! اللہ کرے تینو کبھی سرکار توں کوئی کم نہ پئے۔"
بیٹے نے حیران ہو کر پوچھا:
"اماں! یہ کیسی دعا ہے؟"
بوڑھی ماں نے جواب دیا:
"جس دن تجھے ہسپتال، واپڈا، پٹواری، تھانے یا کسی دفتر کے چکر
لگانے پڑ گئے، اس دن پتہ لگے گا کہ عام آدمی کی عزت کتنی سستی ہے۔"
یہ جملہ شاید تلخ ہو، لیکن پاکستان کے
لاکھوں شہری اس کے معنی اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ اکثر لوگ سرکاری اداروں میں جانے سے
اس لیے گھبراتے ہیں کہ انہیں کام سے زیادہ رویوں کا خوف ہوتا ہے۔
انتون چیخوف
کی کہانی اور ہمارا معاشرہ
یہ واقعہ روسی ادیب Anton Chekhov کی مشہور مختصر کہانی "ایک کلرک کی موت" (The Death of a Government Clerk) کی یاد دلاتا ہے۔
چیخوف کی کہانی کا مرکزی کردار ایک
معمولی سرکاری کلرک ایوان چرویاکوف ہے۔ ایک روز تھیٹر میں اسے چھینک آ جاتی ہے اور
اتفاقاً اس کی چھینٹیں سامنے بیٹھے ایک اعلیٰ سرکاری جنرل پر جا پڑتی ہیں۔ اگرچہ
جنرل اسے فوراً معاف کر دیتا ہے، لیکن کلرک کے دل سے خوف نہیں نکلتا۔ وہ بار بار
جنرل کے پاس جا کر معافی مانگتا ہے۔
بالآخر جنرل اس کی مسلسل معافیوں سے
تنگ آ کر اسے جھڑک دیتا ہے۔ یہ معمولی سی ڈانٹ کلرک کے لیے اتنا بڑا نفسیاتی صدمہ
بن جاتی ہے کہ وہ گھر جا کر بستر پر لیٹتا ہے اور مر جاتا ہے۔
چیخوف نے اس مختصر کہانی میں ایک ایسے
نظام کی تصویر کشی کی تھی جہاں افسر شاہی کا رعب عام انسان کی شخصیت کو کچل دیتا
ہے۔
چیخوف کے
روس سے آج کے پاکستان تک
چیخوف کے زمانے میں عام آدمی افسر سے
خوفزدہ تھا۔ آج ہمارے ہاں صورتحال کچھ مختلف ضرور ہے، مگر مسئلہ بنیادی طور پر وہی
ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ اب لوگ جانتے ہیں
کہ اگر کسی وزیر، سیکرٹری، ایم این اے، ایم پی اے یا وزیراعلیٰ کا نام درمیان میں
آ جائے تو رویے اچانک بدل سکتے ہیں۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر اسی وقت
میو ہسپتال کے بلڈ بینک میں کوئی وزیر، اعلیٰ افسر یا بااثر شخصیت موجود ہوتی تو
کیا اسے بھی کہا جاتا:
"یہ تمہارا پنڈ نہیں ہے، یہ میو ہسپتال لاہور ہے"؟
کیا اسے بھی گارڈ بلانے کی دھمکی دی
جاتی؟
شاید نہیں۔
اور یہی اصل مسئلہ ہے۔
کسی بھی نظام کی عظمت اس بات سے ثابت
نہیں ہوتی کہ وہ طاقتور لوگوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔ اصل معیار یہ ہے کہ وہ
زخمی مریض کے لواحقین، بوڑھی عورت، مزدور، کسان، طالب علم یا عام شہری کے ساتھ
کیسا برتاؤ کرتا ہے۔
ہسپتال وہ جگہ ہے جہاں لوگ امید لے کر
آتے ہیں، خوف لے کر نہیں۔ اگر وہاں بھی عزت، ہمدردی اور تعاون کے بجائے دھمکیاں
اور تضحیک ملے تو مسئلہ صرف ایک ملازم کا نہیں رہتا بلکہ پورے نظام کی ثقافت کا بن
جاتا ہے۔
چیخوف کی کہانی آج بھی زندہ ہے۔ کردار
بدل گئے ہیں، زمانہ بدل گیا ہے، عمارتیں بدل گئی ہیں، مگر طاقت اور اختیار کے
سامنے عام انسان کی بے بسی کا احساس ابھی تک مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
شاید اسی لیے آج بھی بہت سی مائیں
اپنے بچوں کے لیے یہ دعا کرتی ہیں:
"اللہ کرے تمہیں کبھی سرکار سے کوئی کام نہ پڑے۔"