انصاف کی تلاش اور تیسری دنیا کا عدالتی بحران

Dnnetwork

 

تیسری دنیا کے ممالک اور انصاف تک رسائی


جب ہم انصاف کی بات کرتے ہیں تو اکثر ہماری توجہ فیصلوں پر ہوتی ہے، لیکن انصاف تک پہنچنے کا سفر بھی اتنا ہی اہم ہوتا ہے۔ تیسری دنیا کے اکثر ممالک میں یہ سفر خود ایک آزمائش بن چکا ہے۔ لمبے فاصلے، پیچیدہ عدالتی نظام، مقدمات کے انبار، مالی بوجھ اور وقت کا ضیاع لاکھوں شہریوں کے لیے انصاف کے حصول کو مشکل بنا دیتے ہیں۔

حال ہی میں عدالتوں کی راہداریوں میں موجود ہجوم کی ایک تصویر نے ایک تلخ حقیقت کو پھر نمایاں کر دیا۔ سینکڑوں افراد، وکلاء اور سائلین گھنٹوں انتظار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ منظر صرف ایک عمارت کا نہیں بلکہ پورے نظام کی کہانی سناتا ہے۔

تیسری دنیا کے ممالک اور انصاف تک رسائی

ترقی پذیر ممالک میں عدالتی نظام اکثر محدود وسائل، بڑھتی ہوئی آبادی اور ناقص انتظامی ڈھانچے کے باعث شدید دباؤ کا شکار رہتا ہے۔ شہریوں کو معمولی قانونی معاملات کے لیے بھی کئی کئی سو کلومیٹر سفر کرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات ایک تاریخ پر پیشی کے لیے پورا دن بلکہ کئی دن صرف ہو جاتے ہیں۔

یہ مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے متعدد ممالک میں عدالتی رسائی ایک بنیادی چیلنج ہے۔ تاہم جدید ٹیکنالوجی نے اس مسئلے کا حل بھی پیش کر دیا ہے، جس سے بہت سے ممالک فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

پاکستان کی عالمی درجہ بندی کیا بتاتی ہے؟

عالمی سطح پر قانون کی حکمرانی اور عدالتی کارکردگی کا جائزہ لینے والی معروف تنظیم World Justice Project کی رپورٹوں کے مطابق پاکستان قانون کی حکمرانی کے اشاریے میں دنیا کے اعلیٰ ممالک میں شامل نہیں ہے اور کئی شعبوں میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔

درجہ بندی کے اعداد و شمار وقتاً فوقتاً تبدیل ہوتے رہتے ہیں، لیکن ایک حقیقت مستقل ہے: انصاف کی فراہمی میں تاخیر، مقدمات کا بوجھ اور عدالتی رسائی کے مسائل پاکستان کے لیے بڑے چیلنجز ہیں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان کس نمبر پر ہے، بلکہ یہ ہے کہ عام شہری کو انصاف کتنی آسانی اور کتنی جلدی میسر آتا ہے۔

کیا ہر مقدمے کے لیے لاہور جانا ضروری ہے؟

پنجاب کے دور دراز اضلاع سے آنے والے ہزاروں سائلین اور وکلاء کو ہر سماعت پر لاہور پہنچنا پڑتا ہے۔ اس دوران:

  • سفری اخراجات بڑھتے ہیں۔
  • وقت ضائع ہوتا ہے۔
  • شدید گرمی اور موسمی مشکلات برداشت کرنا پڑتی ہیں۔
  • غریب اور متوسط طبقے کے لیے انصاف مزید مہنگا ہو جاتا ہے۔

یہ صورتحال اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا ڈیجیٹل دور میں اب بھی ہر کارروائی کے لیے مرکزی مقام پر حاضری ناگزیر ہے؟

ڈیجیٹل عدالتیں: وقت کی اہم ضرورت

دنیا کے کئی ممالک نے عدالتی نظام میں جدید ٹیکنالوجی کو کامیابی سے شامل کیا ہے۔ ویڈیو لنک سماعتیں، آن لائن فائلنگ، ڈیجیٹل ریکارڈ اور ورچوئل کیس مینجمنٹ سسٹم نہ صرف اخراجات کم کرتے ہیں بلکہ عدالتی کارکردگی بھی بہتر بناتے ہیں۔

پاکستان میں بھی درج ذیل اقدامات قابلِ غور ہیں:

1۔ ضلعی سطح پر ہائیکورٹ رجسٹریاں

ہر ضلع میں ہائیکورٹ رجسٹری قائم کی جائے جہاں مقدمات دائر اور دستاویزات جمع کروائی جا سکیں۔

2۔ ویڈیو لنک سماعتیں

ابتدائی اور معمول کی سماعتوں کے لیے آن لائن حاضری کو فروغ دیا جائے۔

3۔ ای-فائلنگ سسٹم

تمام درخواستیں اور دستاویزات ڈیجیٹل طریقے سے جمع کروانے کی سہولت دی جائے۔

4۔ ڈیجیٹل کیس ٹریکنگ

سائلین اپنے مقدمات کی پیش رفت موبائل یا ویب پورٹل کے ذریعے دیکھ سکیں۔

انصاف کی اصل روح

انصاف صرف عدالتی فیصلے کا نام نہیں بلکہ اس تک آسان، سستا اور بروقت رسائی بھی انصاف کا بنیادی حصہ ہے۔ اگر ایک شہری کو اپنے حق کے لیے سینکڑوں کلومیٹر سفر، شدید گرمی، مالی مشکلات اور طویل انتظار کا سامنا کرنا پڑے تو نظام پر سوال اٹھنا فطری ہے۔

ایک مضبوط عدالتی نظام وہی ہوتا ہے جو عوام کے قریب ہو، نہ کہ عوام کو اپنے دروازے تک پہنچنے کے لیے غیر ضروری مشکلات سے گزرنا پڑے۔


پاکستان ایک نوجوان اور ڈیجیٹل امکانات رکھنے والا ملک ہے۔ اگر ہم واقعی عدالتی اصلاحات چاہتے ہیں تو عدالتوں کو صرف عمارتوں تک محدود رکھنے کے بجائے شہریوں کے قریب لانا ہوگا۔ جدید ٹیکنالوجی، ضلعی رجسٹریوں اور آن لائن سماعتوں کے ذریعے نہ صرف لاکھوں لوگوں کی مشکلات کم کی جا سکتی ہیں بلکہ انصاف پر عوامی اعتماد بھی مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔

انصاف کی فراہمی اہم ہے، لیکن انصاف تک آسان رسائی اس سے بھی زیادہ اہم ہے

یہ بھی پڑھیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ تمہارا پنڈ نہیں، یہ میو ہسپتال لاہور ہے

 لاہور کے میو ہسپتال کے بلڈ بینک میں پیش آنے والے ایک واقعے نے سرکاری اداروں میں عام شہری کے ساتھ ہونے والے رویوں پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایک شخص شدید زخمی مریض کے لیے خون کے انتظام کی غرض سے بلڈ بینک پہنچا۔ ایسے وقت میں جب مریض کے اہل خانہ شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہوتے ہیں، انہیں تعاون اور رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن مبینہ طور پر بلڈ بینک کے ایک ملازم نے نہ صرف سخت لہجہ اختیار کیا بلکہ اسے دھمکی آمیز انداز میں کہا:

"چلے جاؤ، ورنہ گارڈ کو بلاتا ہوں۔ پھر شام تک یہیں بیٹھے رہو گے۔"

بات یہیں ختم نہیں ہوئی۔ ملازم نے مزید کہا:

"یہ تمہارا پنڈ (گاؤں) نہیں ہے، یہ میو ہسپتال لاہور ہے۔"     

پڑھنے کے کلک کریں